104

قربانی کے جانور میں کونسا عیب معتبر ہے؟

قربانی کے جانور میں کونسا عیب معتبر ہے؟
قربانی ایک عبادت ہے، اور اس کے عبادت ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے لیے ایسے جانور کا انتخاب کیا جائے جو ہر عیب سے پاک ہو، تاکہ یہ عبادت حسن خوبی کے ساتھ ادا کی جاسکے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ بعض چیزیں بظاہر تو عیب نظر آتی ہیں لیکن شریعت کی نظر میں وہ اُن عیوب میں داخل نہیں ہوتیں جن کی وجہ سے کسی جانور کی قربانی جائز ہی نہ ہو، اس لیے قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق دو اصولی باتیں اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے:
1⃣ شریعت کی نظر میں ہر وہ عیب قربانی کے جائز ہونے میں رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے جانور کی منفعت یا جمال مکمل طور پر فوت ہوجائے، ایسے عیب کی وجہ سے قربانی جائز نہیں رہتی، اور جو عیب اس سے کم درجے کا ہو اس کی وجہ سے جانور کی قربانی ناجائز نہیں ہوتی۔
2️⃣ عیبِ قلیل یعنی معمولی عیب قربانی کے درست ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتا، جبکہ عیبِ کثیر کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہیں ہوتی۔
▫️ویسے تو کوشش یہی کرنی چاہیے کہ اخلاص کے ساتھ قربانی کے لیے ایسے جانور کا انتخاب کیا جائے جو ہر قسم کے عیب سے پاک اور عمدہ سے عمدہ ہو، یہی افضل اور بہتر طریقہ ہے اور یہی عبادت کے لائق بات ہے، لیکن چوں کہ بالکل صحیح سالم اور ہر قسم کے عیب سے پاک جانور ہر شخص کو عمومًا میسر نہیں آتا یا قربانی کرنے سے پہلے ہی بہت سے جانوروں کو معمولی عیب لاحق ہوہی جاتا ہے اس لیے اس میں بڑی سہولت ہے کہ شریعت نے ہر عیب کو معتبر قرار نہیں دیا، بلکہ معمولی عیوب کے ہوتے ہوئے بھی قربانی درست قرار دی ہے، جن کی تفصیل آگے ذکر ہوگی ان شاء اللہ۔
جانوروں کے عیوب کی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے بطورِ تمہید ایک اہم بات کی وضاحت درج ذیل ہے جو کہ خصوصًا اہلِ علم کے لیے مفید ہے۔

❄️ جانوروں کے عیوب سے متعلق حضراتِ فقہاء کرام کے اقوال کی بنیاد

📿 عیب کی اقسام:
جانوروں میں پائے جانے والے عیب کی دو قسمیں ہیں:
1⃣ عیبِ قلیل، یعنی معمولی عیب، جس کو عیبِ یسیر بھی کہتے ہیں۔
2️⃣ عیبِ کثیر، جس کو عیبِ فاحش بھی کہتے ہیں۔
⬅️ اس بات پر تو جمہور حضرات فقہاء کرام متفق ہیں کہ عیبِ قلیل قربانی کے درست ہونے میں رکاوٹ نہیں بنتا، جبکہ عیبِ کثیر کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہیں ہوتی۔ البتہ عیبِ قلیل اور عیبِ کثیر کی تعریف اور ان کے مابین حدِّ فاصل کی تعیین میں اختلاف ہے، اسی اختلاف کا نتیجہ ہے کہ قربانی کے جانور کے کان اوردُم جیسے اعضا میں سے اگر کچھ حصہ کٹا ہوا ہو یا کسی آنکھ کی بینائی کمزور ہو تو اس کے مانع ہونے اور نہ ہونے میں مختلف آرا سامنے آتی ہیں، یہی وہ بنیاد ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض حضرات پریشانی کا شکار ہو کر کچھ فیصلہ نہیں کرپاتے، اس لیے اس کی تفصیل بیان کی جاتی ہے تاکہ اختلاف کو سمجھنے اور راجح قول کی تعیین میں آسانی رہے۔

📿 حضراتِ فقہاء کرام کے اقوال کا خلاصہ:
قربانی کے جانور کے کان اور دُم جیسے اعضا میں سے اگر کچھ حصہ کٹا ہوا ہو یا آنکھ کی بینائی متاثر ہو تو اس کے مانع ہونے اور نہ ہونے میں مختلف آرا ہیں:
1⃣ ثلث یعنی تہائی تک عیبِ قلیل کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ثلث سے زیادہ عیبِ کثیر ہے۔ (اس کو جواہر الفقہ میں اختیار کیا گیا ہے۔)
2️⃣ ثلث یعنی تہائی سے کم عیبِ قلیل کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ثلث اور اس سے زیادہ عیبِ کثیر کے زمرے میں آتا ہے۔
(اس قول کو اِن کتب میں اختیار کیا گیا ہے: بہشتی زیور، فتاویٰ رحیمیہ، قربانی اور ذوالحجہ کے فضائل واحکام از حضرت مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب، قربانی کے احکام ومسائل از مفتی اعظم مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ، قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا۔)
3⃣ نصف (یعنی آدھے) سے کم عیبِ قلیل ہے جبکہ نصف اور اس سے زیادہ عیبِ کثیر ہے۔
(اس قول کو احسن الفتاویٰ اور دیگر بعض کتب میں اختیار کیا گیا ہے۔)
▫️ان میں سے پہلا قول ظاہر الروایہ ہے اور فتاویٰ قاضی خان میں اس کو صحیح قرار دیتے ہوئے اسی پر فتویٰ دیا گیا ہے، اور اسی قول کو مختصر الوقایہ اور الاصلاح میں بھی اختیار کیا گیاہے۔
☀ فتاوی شامی میں ہے:
والأولى هي ظاهر الرواية، وصححها في «الخانية» حيث قال: والصحيح أنه الثلث وما دونه قليل، وما زاد عليه كثير، وعليه الفتوى. ومشى عليها في «مختصر الوقاية» و«الإصلاح».
☀ فتاویٰ قاضی خان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
فصل في العيوب ما يمنع الأضحية وما لا يمنع:
لا يجوز في الهدايا والضحايا العمياء والعوراء وإن كانت بيضاء بعض العين الواحدة أو ذاهبة بعض العين الواحدة أو بعض أذنها الواحدة أو بعض ذنبها، فإن كان البياض أو الذهاب أكثر من النصف لا يجوز عند الكل، وإن كان أقل من الثلث جاز عندهم، وإن كان قدر الثلث يجوز في ظاهر الرواية، وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا يجوز ….. وإن كان الذاهب من العين أو غيرها أكثر من الثلث وأقل من النصف في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى لا يجوز وهو قول زفر رحمه الله تعالى، وجاز في قول أبي يوسف و محمد رحمهما الله تعالى، وعن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه قال: ذكرت قولي لأبي حنيفة فقال: قولي مثل قولك. وقال الفقيه أبو الليث رحمه الله تعالى: إن كانت الأضحية مقطوعة الأذن الواحدة أكثر من الثلث لا يجوز في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ويجوز في قول أبي يوسف و محمد رحمهما الله تعالى إذا كان الباقي أكثر من النصف ….. وإن ذهب بعض ضرعها فهو على الخلاف الذي ذكرنا في الأذن والعين والألية: إذاكان الذاهب أكثر من الثلث وأقل من النصف لا يجوز في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى، وعند أبي يوسف ومحمد رحمه الله تعالى: إذا كان الذاهب أقل من النصف جاز، وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فيه روايتان، والصحيح: أن الثلث وما دونه قليل، وما زاد عليه كثير، وعليه الفتوى.

▫️ جبکہ ان میں سے تیسرا قول حضراتِ صاحبین یعنی امام محمد اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہما کا ہے اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے، اور بعض حضرات کی تصریح کے مطابق اس قول کی طرف امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا رجوع بھی ثابت ہے کہ نصف سے کم عیبِ قلیل ہے، جبکہ نصف اور نصف سے زیادہ عیبِ کثیر ہے۔ اسی کو کنز، ہدایہ، ملتقیٰ، در مختار وغیرہ میں اختیار کیا گیا ہے۔

⬅️ خلاصہ:
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرات فقہاء کرام کا یہ اختلاف درحقیقت عیبِ قلیل اور عیبِ کثیر کی تعریف کے اختلاف پر مبنی ہے۔ ان میں سے دوسرا قول احتیاط پر مبنی ہے، اور تیسرا قول وسعت اور گنجائش پر مبنی ہے، جبکہ پہلا قول متوسط یعنی درمیانہ ہے۔ بندہ نے آئندہ ذکر کیے جانے والے متعدد مسائل میں پہلے قول ہی کو اختیار کیا ہے، البتہ اسی کے ساتھ ایک تنبیہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
⭕ تنبیہ: جامعہ دار العلوم کراچی کے ایک فتوے میں تفصیل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:
’’مذکورہ بالا تفصیل کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ قربانی کا جانور خریدتے وقت ایسا جانور خریدنے سے اجتناب کیا جائے جس کا کان یا دُم تہائی تک کٹی ہوئی ہو، تاہم اگر کسی نے ایسے جانور کی قربانی کی جس کے مذکورہ اعضا ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں مگر نصف سے کم ہوں تو صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے اس کی قربانی درست ہوجائے گی۔‘‘ (فتویٰ نمبر: 1935/1)
اس فتوے میں جو گنجائش دی گئی ہے بعد میں ذکر ہونے والے مسائل میں اس کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے تو امت کے لیے بڑی سہولت رہے گی۔
اس اہم تفصیل کے بعد قربانی کے جانور کے عیوب سے متعلق شرعی احکام تفصیل سے بیان کیے جاتے ہیں۔

▪ جسم سے متعلق عیوب:
جو جانور اس قدر کمزور ہو کہ ہڈیوں میں گودا ہی نہ رہا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر کمزور تو ہو لیکن ہڈیوں میں گودا موجود ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔
(رد المحتار مع الدر المختار، قربانی اور ذوالحجہ کے فضائل اور مسائل)

▪ خارشی جانور کی قربانی:
اگر کسی جانور کے جسم میں خارش ہو اور خارش اس قدر ہو کہ اس کی وجہ سے جانور بہت دبلا پتلا ہوگیا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، کیوں کہ یہ واضح اور کثیر عیب ہے، البتہ جو خارشی جانور فربہ اور موٹا تازہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، کیوں کہ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خارش کا یہ مرض عیبِ کثیر تک نہیں پہنچا ہے۔
(بدائع الصنائع، ذو الحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)

▪ کانوں سے متعلق عیوب:
1⃣ جس جانور کے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں ہی کان نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں۔
(فتاویٰ عالمگیری، جواہر الفقہ، فتاویٰ رحیمیہ)
2️⃣ جس جانور کے کان تو ہوں لیکن پیدائشی طور پر ہی چھوٹے ہوں تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔
(بدائع الصنائع، رد المحتار، فتاویٰ رحیمیہ، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)
3⃣ جس جانور کا کان ایک تہائی سے زیادہ کٹا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر تہائی یا اس سے کم کٹا ہو تو قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ قاضی خان، جواہر الفقہ)
4️⃣ جس جانور کا ایک کان یا دونوں کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں یا سامنے کی طرف سے پھٹ گئے ہوں یا ان میں سوراخ ہوں یا پیچھے کی طرف سے پھٹے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے مگر بہتر نہیں ہے۔
(قربانی کے فضائل ومسائل از حضرت مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب دام ظلہم)

▪ سینگوں سے متعلق عیوب:
جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، یا سینگ چھوٹے ہوں، یا سینگ ٹوٹ چکے ہوں لیکن جڑ سے نہ ٹوٹے ہوں؛ تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ اگر جڑ ہی سے اکھڑ جائیں تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔
(فتاویٰ عالمگیری، امداد الفتاویٰ، فتاوی ٰمحمودیہ، فتاوی ٰرحیمیہ، احسن الفتاویٰ، تکملۃ فتح الملہم، جواہر الفقہ)

▪ آنکھوں سے متعلق عیوب:
1⃣ جو جانور اندھا ہو یا بالکل کانا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ (البحر الرائق، رد المحتار)
2️⃣ جس جانور کی بینائی ایک تہائی سے زیادہ چلی گئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر ایک تہائی یا اس سے کم بینائی کمزور ہو تو جائز ہے۔ (فتاوی ٰقاضی خان)

▪ وضاحت:
جانور کی بینائی کی مقدار معلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جانور کو کچھ وقت تک بھوکا رکھ کر پہلے عیب دار آنکھ پر کچھ باندھ کر دور سے چارہ دکھاتے ہوئے قریب لائیں، جہاں سے جانور کو نظر آئے وہاں نشان لگادیں، پھر صحیح آنکھ کو باندھ کر یہی عمل دہرائیں، پھر دونوں کے فاصلوں کی نسبت معلوم کریں، اگر فرق نصف یا اس سے زائد ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ نصف یا اس سے زائد بینائی متاثر ہے اور اگر فرق تہائی سے زائد ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ تہائی سے زائد بینائی متاثر ہے۔
(ذو الحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)
3⃣ بھینگے جانور کی قربانی جائز ہے۔ (رد المحتار، فتاویٰ عالمگیری)

▪ ناک سے متعلق عیوب:
جس جانور کی ناک کٹ چکی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر نکیل ڈالنے کے لیے اس میں سوراخ کیا گیا ہو تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ (فتاویٰ عالمگیری، الدر المختار، بدائع الصنائع، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)

▪ دانتوں سے متعلق عیوب:
1⃣ جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں، یا اکثر دانت گر جانے کی وجہ سے وہ چارہ نہ کھا سکتا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔
2️⃣ جس جانور کے کچھ دانت گر چکے ہوں لیکن وہ چارہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
(ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)

▫️ وضاحت:
بعض حضرات اکابر نے یہ فرمایا ہے کہ چوں کہ دانتوں سے مقصود چارہ کھانا ہے، اس لیے اگر کسی جانور کے دانت نہ ہوں لیکن وہ چارہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ ہندیہ)

▪ زبان سے متعلق عیوب:
جس جانور کی زبان ایک تہائی سے زیادہ کٹی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ بعض حضرات کے نزدیک اگر بکری کی زبان کٹی ہو لیکن وہ چارہ کھا سکتی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (رد المحتار)

▪ پاؤں سے متعلق عیوب:
1⃣ جو جانور اس قدر لنگڑا ہو کہ چلنے کے قابل ہی نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر یہ لنگڑا پن معمولی سا ہو اور چلنے پھرنے میں رکاوٹ نہ بنتا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔
2️⃣ جس جانور کا کوئی پاؤں اس قدر زخمی ہو کہ اس کے سہارے چل ہی نہ سکتا ہو اور چلتے ہوئے اس کو زمین سے لگاتا ہی نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر چلتے ہوئے وہ پاؤں زمین سے لگا کے چلتا ہوجس کی وجہ سے اس کو سہارا مل جاتا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ (رد المحتار، البحر الرائق، فتاوی ٰمحمودیہ، احسن الفتاویٰ، فتاویٰ عثمانی)

▪ دُم سے متعلق عیوب:
1⃣ جس جانور کی پیدائشی دم ہی نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ جس جانور کی دم پیدائشی طور پر ہی چھوٹی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)
2️⃣ جس جانور کی دم ایک تہائی سے زیادہ کٹی ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر ایک تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو قربانی جائز ہے۔(فتاوی ٰقاضی خان، جواہر الفقہ)
3⃣ جس دنبے کی چکتی ایک تہائی سے زیادہ کٹی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، لیکن اگر ایک تہائی یا اس سے کم کٹی ہو تو قربانی جائز ہے۔ البتہ دنبے کی چکتی کے نیچے جو چھوٹی سی دم ہوتی ہے اگر وہ پوری بھی کٹ جائے تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ قاضی خان)

▪ تھنوں سے متعلق عیوب:
1⃣ اونٹنی، گائے اور بھینس کے دو تھن کٹ گئے ہوں، یا دو تھنوں کی گھنڈیاں کٹ چکی ہوں، یا کسی مرض کی وجہ سے دو تھن خشک ہوچکے ہوں؛ تو ان تمام صورتوں میں ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔
2️⃣ بکری اور بھیڑ کا ایک تھن کٹ گیا ہو، یا ایک تھن کا سِرا کٹ گیا ہو، یا کسی مرض کی وجہ سے ایک تھن خشک ہوگیا ہو؛ تو ان تمام صورتوں میں اس کی قربانی جائز نہیں۔
3⃣ اگر کسی جانور کے تھنوں میں کبھی دودھ آتا ہو اور کبھی نہ آتا ہو تو یہ عیب نہیں، اس لیے ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ محمودیہ، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)

▪ گابھن جانور کی قربانی کا حکم:
گابھن (یعنی حاملہ) جانور کی قربانی جائز ہے، ذبح کرنے کے بعد اگر بچہ زندہ نکل آئے تو اس کو بھی ذبح کردیا جائے، لیکن اگر مردہ نکلے تو اس کا کھانا حلال نہیں، البتہ گابھن جانور کی ولادت کا زمانہ قریب ہی ہو تو اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔
(فتاویٰ محمودیہ، امداد الاحکام، فتاویٰ رحیمیہ، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)

▫️ مسئلہ: جو جانور زیادہ عمر ہوجانے کی وجہ سے حاملہ نہ ہوسکتی ہو یا جس جانور کا حمل نہ ٹھہرتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، اسی طرح بانجھ جانور کی قربانی بھی جائز ہے۔ (رد المحتار، امداد الفتاویٰ)

▪ ذبح کے وقت جانور میں عیب پیدا ہوجانے کا حکم:
جس جانور میں ذبح کرتے وقت کوئی عیب پیدا ہوجائے تو اس سے کچھ اثر نہیں پڑتا۔
(رد المحتار، مجمع الانہر، فتاویٰ محمودیہ)

▪ خصی جانور کی قربانی کا حکم:
1⃣ خصی جانور کی قربانی بالکل جائز بلکہ افضل ہے۔ (اعلاءالسنن، جواہر الفقہ، محمودیہ، تکملۃ فتح الملہم)
2️⃣ جس جانور کا ایک کپورہ یعنی خصیہ نہ ہو تو اس کی بھی قربانی جائز ہے۔

▪ جو جانور جفتی پر قادر نہ ہو اس کی قربانی کا حکم:
جو جانور عمر رسیدہ ہونے یا آلہ تناسل کٹ جانے یا کسی اور وجہ سے جفتی پر قادر نہ ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ (رد المحتار)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں