115

حلال جانور کے وہ سات اجزا جن کا کھانا ناجائز ہے!

📿 حلال جانور کے وہ سات اجزا جن کا کھانا ناجائز ہے:
حلال جانور جب شرعی طریقے سے ذبح کرلیا جائے تو اس کا سارا گوشت اور تمام اجزا حلال ہوجاتے ہیں، البتہ حلال جانور کے سات اجزا ایسے ہیں کہ ان کو کھانا جائز نہیں:
1⃣ بہنے والا خون، اس سے مراد وہ خون ہے جو ذبح کے وقت جسم سے بہتا ہے۔ جس کو انگريزی میں Flowing Blood کہتے ہیں۔
2️⃣ نر جانور کی پیشاب گاہ۔ جس کو انگريزی میں Penis کہتے ہیں۔
3⃣ نر جانور کی خُصْیَتَین یعنی کپورے۔ جس کو انگريزی میں Testicles کہتے ہیں۔
⭕ تنبیہ: آجکل بہت سے لوگ کپورے کھانے کو جائز سمجھتے ہیں، واضح رہے کہ غلطی ہے کیوں کہ کپورے کھانا ناجائز اور گناہ ہے۔
4️⃣ مادہ جانور کی پیشاب گاہ یعنی فَرج۔جس کو انگريزی میں Vulva کہتے ہیں۔
5️⃣ نر اور مادہ جانور کا مثانہ، یعنی پیشاب کی وہ تھیلی جس میں پیشاب جمع رہتا ہے۔جس کو انگريزی میں Urinary Bladder کہتے ہیں۔
6️⃣ غدود، جسم کے مختلف حصوں پائی جانے والی ایک گلٹی کو کہتے ہیں۔ جس کو انگريزی میں Glands کہتے ہیں، یہ درحقیقت گوشت کی سخت گرہ ہوتی ہے جو کہ بیماری کی وجہ سے کھال اور نرم گوشت کے درمیان اُبھر آتی ہے، گویا کہ یہ ہر جانور میں نہیں ہوتی بلکہ جس کو وہ بیماری لاحق ہوتی ہے صرف اسی جانور میں ہوتی ہے۔
7️⃣ پِتہ، جگر کے نیچے ایک چھوٹی سی تھیلی جس میں پِت جمع ہوتا رہتا ہے۔جس کو انگريزی میں Gall-bladder اور پشتو میں تریخے کہتے ہیں۔
(رد المحتار، فتاویٰ محمودیہ، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام ودیگر کتب)
☀ جیسا کہ المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے:
9480- عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا: الْمرَارَةَ، وَالْمَثَانَةَ، والمحياة، وَالذَّكَرَ، وَالْأُنْثَيَيْنِ، وَالْغُدَّةَ، وَالدَّمَ، وَكَانَ أَحَبّ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ مُقَدَّمهَا…
☀ اور اسی طرح مصنف عبد الرزاق میں بھی ہے:
8771 – عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا: الدَّمَ، وَالْحَيَا، وَالْأُنْثَيَيْنِ، وَالْغُدَّةَ، وَالذَّكَرَ، وَالْمَثَانَةَ، وَالْمرَارَةَ…

▪ مسئلہ: بعض حضرات کو حرام مغز کے نام کی وجہ سے یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ کھانا بھی ناجائز اور حرام ہے، حالاں کہ درست مسئلہ یہ ہے کہ حرام مغز کھانا حلال ہے، یہ اُن سات اجزا میں سے نہیں کہ جن کا کھانا ناجائز ہے، اس لیے اس کے حرام اور ناجائز ہونے کی کوئی معتبر دلیل نہیں۔ واضح رہے کہ یہ حرام مغز جانور کی پشت کے مہرے یعنی ریڑھ کی ہڈی کے اندر سفید رنگ کا گودا لمبے دھاگے کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس کی تفصیلی وضاحت اسی سلسلہ اصلاحِ اغلاط کے سلسلہ نمبر 313 میں آرہی ہے ان شاء اللہ۔
(کفایت المفتی، امداد الاحکام، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)

▪ مسئلہ: حلال جانور کی اوجھڑی کھانا بھی حلال ہے، خوب پاک صاف کرکے کھایا جائے۔
(فتاویٰ محمودیہ، کفایت المفتی، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)

☀ الدر المختار:
(كُرِهَ تَحْرِيمًا) وَقِيلَ: تَنْزِيهًا، وَالْأَوَّلُ أَوْجَهُ (مِنَ الشَّاةِ سَبْعٌ: الْحَيَاءُ وَالْخُصْيَةُ وَالْغُدَّةُ وَالْمَثَانَةُ وَالْمَرَارَةُ وَالدَّمُ الْمَسْفُوحُ وَالذَّكَرُ)؛ لِلْأَثَرِ الْوَارِدِ فِي كَرَاهَةِ ذَلِكَ.
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: كُرِهَ تَحْرِيمًا)؛ لِمَا رَوَى الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «كَرِهَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنَ الشَّاةِ: الذَّكَرَ وَالْأُنْثَيَيْنِ وَالْقُبُلَ وَالْغُدَّةَ وَالْمَرَارَةَ وَالْمَثَانَةَ وَالدَّمَ». قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: الدَّمُ حَرَامٌ، وَأَكْرَهُ السِّتَّةَ، وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ) [المائدة: 3] الْآيَةَ، فَلَمَّا تَنَاوَلَهُ النَّصُّ قَطَعَ بِتَحْرِيمِهِ، وَكَرِهَ مَا سِوَاهُ؛ لِأَنَّهُ مِمَّا تَسْتَخْبِثُهُ الْأَنْفُسُ، وَتَكْرَهُهُ، وَهَذَا الْمَعْنَى سَبَبُ الْكَرَاهِيَةِ؛ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ [الأعراف: 157]، زَيْلَعِيٌّ. وَقَالَ فِي «الْبَدَائِعِ» آخِرَ كِتَابِ الذَّبَائِحِ: وَمَا رُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فَالْمُرَادُ مِنْهُ كَرَاهَةُ التَّحْرِيمِ بِدَلِيلِ أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ السِّتَّةِ وَبَيْنَ الدَّمِ فِي الْكَرَاهَةِ، وَالدَّمُ الْمَسْفُوحُ مُحَرَّمٌ، وَالْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ قَالَ: الدَّمُ حَرَامٌ، وَأَكْرَهُ السِّتَّةَ، فَأَطْلَقَ الْحَرَامَ عَلَى الدَّمِ، وَسَمَّى مَا سِوَاهُ مَكْرُوهًا؛ لِأَنَّ الْحَرَامَ الْمُطْلَقَ مَا ثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ وَهُوَ الْمُفَسَّرُ مِنَ الْكِتَابِ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: (أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا) [الأنعام: 145]، وَانْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ عَلَى حُرْمَتِهِ، وَأَمَّا حُرْمَةُ مَا سِوَاهُ مِنَ السِّتَّةِ فَمَا ثَبَتَ بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ، بَلْ بِالِاجْتِهَادِ أَوْ بِظَاهِرِ الْكِتَابِ الْمُحْتَمِلِ لِلتَّأْوِيلِ أَو الْحَدِيثِ، فَلِذَا فَصَّلَ فَسَمَّى الدَّمَ حَرَامًا، وَذَا مَكْرُوهًا اهـ. أَقُولُ: وَظَاهِرُ إطْلَاقِ الْمُتُونِ هُوَ الْكَرَاهَةُ ……. (قَوْلُهُ: وَالْأَوَّلُ أَوْجَهُ)؛ لِمَا قَدَّمْنَاهُ مِن اسْتِدْلَالِ الْإِمَامِ بِالْآيَةِ، وَأَيْضًا فَكَلَامُ صَاحِبِ «الْقُنْيَةِ» لَا يُعَارِضُ ظَاهِرَ الْمُتُونِ وَكَلَام «الْبَدَائِعِ». (قَوْلُهُ: مِنَ الشَّاةِ) ذِكْرُ الشَّاةِ اتِّفَاقِيٌّ؛ لِأَنَّ الْحُكْمَ لَا يَخْتَلِفُ فِي غَيْرِهَا مِنَ الْمَأْكُولَاتِ، ط. (قَوْلُهُ: الْحَيَاءُ) هُوَ الْفَرْجُ مِنْ ذَوَاتِ الْخُفِّ وَالظِّلْفِ وَالسِّبَاعِ، وَقَدْ يُقْصَرُ، «قَامُوسٌ». (قَوْلُهُ: وَالْغُدَّةُ) بِضَمِّ الْغَيْنِ الْمُعْجَمَةِ: كُلُّ عُقْدَةٍ فِي الْجَسَدِ أَطَافَ بِهَا شَحْمٌ، وَكُلُّ قِطْعَةٍ صُلْبَةٍ بَيْنَ الْعَصَبِ وَلَا تَكُونُ فِي الْبَطْنِ، كَمَا فِي «الْقَامُوسِ». (قَوْلُهُ: وَالدَّمُ الْمَسْفُوحُ)، أَمَّا الْبَاقِي فِي الْعُرُوقِ بَعْدَ الذَّبْحِ فَإِنَّهُ لَا يُكْرَهُ. (مسائل شتى)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں