23

قربانی کا جانور گم ہوجانے یا اس میں کوئی عیب پیدا ہوجانے کا حکم

🌻 قربانی کا جانور گم ہوجانے یا اس میں کوئی عیب پیدا ہوجانے کا حکم

📿 قربانی کا جانور خریدنے کے بعد چوری یا گم ہوجانے یا ہلاک ہوجانے کا حکم:
1⃣ اگر کسی صاحبِ نصاب شخص سے قربانی کا جانور چوری یا گم ہوجائے یا ہلاک ہوجائے اور وہ اس کے باوجود بھی صاحبِ نصاب ہو تو اس کے ذمّے دوسرے جانور کی قربانی واجب ہے، اس صورت میں اگر اس نے دوسرا جانور خرید لیا، پھر وہ پہلا گم شدہ یا چوری شدہ جانور بھی مل گیا تو اس کے ذمے ایک ہی جانور کی قربانی واجب ہے، البتہ اگر وہ دونوں ہی جانوروں کی قربانی کرنا چاہے تو یہ مستحب اور بہتر ہے۔
2️⃣ اگر کسی غیر صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا، پھر اس سے قربانی کا جانورچوری یا گم ہوگیا یا ہلاک ہوگیا تو اس کے ذمے دوسری قربانی واجب نہیں۔ لیکن اگر اس نے اس کے بعد دوسرا جانور قربانی کے لیے خریدا، پھر قربانی کے ایام میں وہ پہلا گم شدہ یا چوری شدہ جانور بھی مل گیا تو اس کے ذمے دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہے اور اگر قربانی کے تین دن کے بعد وہ جانور ملا تو اس کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔

📿 قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں کوئی عیب پیدا ہوجانے کا حکم:
قربانی کا جانور خریدنے کے بعد جانور میں ایسا کوئی عیب پیدا ہوگیا کہ جس کی وجہ سے اس جانور کی قربانی جائز نہ رہی تو اگر وہ شخص اس کے باوجود بھی صاحبِ نصاب ہے تو اس کے ذمے دوسرے جانور کی قربانی واجب ہے، لیکن اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں ہے تو اسی عیب دار جانور کی قربانی کرلے۔
(قربانی اور ذوالحجہ کے فضائل اور مسائل از حضرت مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب دام ظلہم)
☀ الدر المختار:
ضَلَّتْ أَوْ سُرِقَتْ فَاشْتَرَى أُخْرَى ثُمَّ وَجَدَهَا فَالْأَفْضَلُ ذَبْحُهُمَا، وَإِنْ ذَبَحَ الْأُولَى جَازَ، وَكَذَا الثَّانِيَةُ لَوْ قِيمَتُهَا كَالْأُولَى أَوْ أَكْثَرُ، وَإِنْ أَقَلُّ ضَمِنَ الزَّائِدَ وَيَتَصَدَّقُ بِهِ بِلَا فَرْقٍ بَيْنَ غَنِيٍّ وَفَقِيرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إنْ وَجَبَتْ عَنْ يَسَارٍ فَكَذَا الْجَوَابُ، وَإِنْ عَنْ إعْسَارٍ ذَبَحَهُمَا، «يَنَابِيعُ».
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: ثُمَّ وَجَدَهَا) أَيِ الضَّالَّةَ أَوْ الْمَسْرُوقَةَ بِمَعْنًى وَصَلَتْ إلَى يَدِهِ، وَهَذَا إذَا وَجَدَ فِي أَيَّامِ
النَّحْرِ. (قَوْلُهُ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ إلَخْ) اقْتَصَرَ عَلَيْهِ فِي «الْبَدَائِعِ». وَقَالَ السَّائِحَانِيُّ: وَبِهِ جَزَمَ الشُّمُنِّيُّ كَمَا سَيَذْكُرُهُ الشَّارِحُ، وَهُوَ الْمُوَافِقُ لِلْقَوَاعِدِ اهـ.
☀ بنایہ شرح ہدایہ للعینی:
ولو ضلت أو سرقت فاشترى أخرى، ثم ظهرت الأولى في أيام النحر على الموسر ذبح إحداهما، وعلى الفقير ذبحهما.
(ولو ضلت) أي ذهبت المشتراة للضحية، (أو سرقت فاشترى أخرى) أي شاة أخرى، (ثم ظهرت الأولى) وهي التي ضلت أو سرقت، (في أيام النحر على الموسر ذبح إحداهما) أي أحد الشاتين؛ لعدم التعيين لشرائه، (وعلى الفقير ذبحهما) أي ذبح الشاتين التي ضلت والتي عوضت عنها؛ لتعيينها بشرائه، وتعويضه بالشراء أيضا، هذا على ظاهر الرواية، لا على رواية الزعفراني، واختيار شمس الأئمة، واختار في «فتاوى الظهيرية» ظاهر الرواية.
☀ تحفۃ الفقہاء:
وَلَو اشْترى سليمَة للأضحية أَو أوجب على نَفسه ذبح شَاة بِعَينهَا ثمَّ ظهر بهَا عيب يمْنَع عَن الْجَوَاز يَوْم النَّحْر فَإِنَّهُ لَا يجوز؛ لِأَن الْعبْرَة لوقت الذّبْح، لَكِن إِذا اعترضت آفَة عِنْد الذّبْح بِإِصَابَة السكين عينهَا وَنَحْو ذَلِك فَلَا بَأْس بِهِ؛ لِأَنَّهُ من ضرورات الذّبْح، وَهَذَا فِي حق الْمُوسر؛ لِأَنَّهُ وَجب عَلَيْهِ أضْحِية كَامِلَة بِإِيجَاب الله تَعَالَى، فَأَما إِذا كَانَ مُعسرا اشْتَرَاهَا للأضحية أَو أوجبهَا بِعَينهَا ثمَّ اعترضت آفَة مَانِعَة عَن الْجَوَاز يجوز لَهُ أَن يُضحي بهَا؛ لِأَنَّهَا مُعينَة فِي حَقه ففوات بَعْضهَا كفوات كلهَا حَتَّى لَا يجب عَلَيْهِ شَيْء لكَونهَا معينة.

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں