37

قُربانی کے ایام اور ان سے متعلقہ احکام

🌻 قُربانی کے ایام اور ان سے متعلقہ احکام

📿 قربانی کے ایام مخصوص ہیں:
قربانی کے مخصوص ایام ہیں کہ ان ایام سے نہ تو پہلے قربانی کرنا درست ہے اور نہ ہی ان کے بعد، اس لیے قربانی کے انھی مخصوص ایام میں قربانی کا جانور ذبح کرنا ضروری ہے۔
ذیل میں قربانی کے ایام اور ان سے متعلقہ احکام ذکر کیے جاتے ہیں۔
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
الْأُضْحِيَّة وَهِيَ في الشَّرْعِ اسْمٌ لِحَيَوَانٍ مَخْصُوصٍ بِسِنٍّ مَخْصُوصٍ يُذْبَحُ بِنِيَّةِ الْقُرْبَةِ في يَوْمٍ مَخْصُوصٍ عِنْدَ وُجُودِ شَرَائِطِهَا وَسَبَبِهَا، كَذَا في «التَّبْيِينِ»، وَأَمَّا رُكْنُهَا فَذَبْحُ ما يَجُوزُ ذَبْحُهُ في الْأُضْحِيَّةِ بِنِيَّةِ الْأُضْحِيَّةِ في أَيَّامِهَا؛ لِأَنَّ رُكْنَ الشَّيْءِ ما يَقُومُ بِهِ ذلك الشَّيْءُ، وَالْأُضْحِيَّةُ إنَّمَا تَقُومُ بهذا الْفِعْلِ فَكَانَ رُكْنًا، كَذَا في «النِّهَايَةِ». (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ)

📿 قربانی کے ایام:
1⃣ قربانی کے تین دن ہیں: 10، 11 اور 12 ذوالحجہ یعنی عید الاضحیٰ کا پہلا، دوسرا اور تیسرا دن۔ اس لیے انھی تین دنوں میں سے کسی ایک دن میں قربانی کرنا ضروری ہے۔ (اعلاء السنن، البحر الرائق، رد المحتار،فتاویٰ محمودیہ)
☀ موطأ امام مالک رحمہ اللہ میں ہے:
1774- مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: الْأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الْأَضْحَى.
☀ السنن الکبریٰ للبیہقی میں ہے:
19730- أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِىُّ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِىُّ: حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ: الأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الأَضْحَى.
19731- قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِىَّ بْنَ أَبِى طَالِبٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: الأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الأَضْحَى.
19732- أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: الذَّبْحُ بَعْدَ النَّحْرِ يَوْمَانِ.

📿 قربانی کے افضل ایام:
قربانی مذکورہ تین دنوں میں سے کسی بھی دن کی جاسکتی ہے البتہ پہلا دن افضل ہے، پھر دوسرا دن اور پھر تیسرا دن۔ لیکن تیسرے دن یعنی 12 ذوالحجہ کا سورج غروب ہوجانے کے بعد پھر قربانی جائز نہیں۔
(البحر الرائق، رد المحتار،فتاویٰ محمودیہ، بہشتی زیور)
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَقْتُ الْأُضْحِيَّةِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ: الْعَاشِرُ وَالْحَادِيَ عَشَرَ وَالثَّانِيَ عَشَرَ، أَوَّلُهَا أَفْضَلُهَا، وَآخِرُهَا أَدْوَنُهَا، وَيَجُوزُ في نَهَارِهَا وَلَيْلِهَا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ من يَوْمِ النَّحْرِ إلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ من الْيَوْمِ الثَّانِي عَشَرَ إلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ الذَّبْحُ في اللَّيْلِ. (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ)

📿 قربانی کے ایام میں رات کو قربانی کرنے کا حکم:
قربانی کا جانور ان تین دنوں میں دن کو بھی ذبح کرنا جائز ہے اور رات کو بھی، لیکن رات کو ذبح کرنا بہتر قرار نہیں دیا گیا ہے، البتہ اگر روشنی کا مناسب انتظام ہو اور جانور کے ذبح کرنے میں بھی کوئی دشواری نہ ہو تو رات کو ذبح کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ (اعلاءالسنن، رد المحتار، بہشتی زیور ودیگر کتب)
☀ بدائع الصنائع میں ہے:
وَأَمَّا ما يُسْتَحَبُّ من الذَّكَاةِ وما يُكْرَهُ منها، فَمِنْهَا: أَنَّ الْمُسْتَحَبَّ أَنْ يَكُونَ الذَّبْحُ بِالنَّهَارِ وَيُكْرَهُ بِاللَّيْلِ، وَالْأَصْلُ فيه ما رُوِيَ عن رسول اللهِ ﷺ أَنَّهُ نهى عن الْأَضْحَى لَيْلًا وَعَن الْحَصَادِ لَيْلًا، وهو كَرَاهَةُ تَنْزِيهٍ، وَمَعْنَى الْكَرَاهَةِ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ لِوُجُوهٍ: أحدها: أَنَّ اللَّيْلَ وَقْتُ أَمْنٍ وَسُكُونٍ وَرَاحَةٍ فَإِيصَالُ الْأَلَمِ في وَقْتِ الرَّاحَةِ يَكُونُ أَشَدَّ، وَالثَّانِي: أَنَّهُ لَا يَأْمَنُ من أَنْ يخطئ فَيَقْطَعُ يَدَهُ، وَلِهَذَا كُرِهَ الْحَصَادُ بِاللَّيْلِ، وَالثَّالِثُ: أَنَّ الْعُرُوقَ الْمَشْرُوطَةَ في الذَّبْحِ لَا تَتَبَيَّنُ في اللَّيْلِ فَرُبَّمَا لَا يَسْتَوْفِي قَطْعَهَا.

📿 قربانی کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
1⃣ قربانی کا وقت دس ذوالحجہ کی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے، اس لیے دس ذو الحجہ کی صبح صادق سے پہلے قربانی درست نہیں۔
2️⃣ شہر اور اسی طرح وہ بڑے گاؤں اور دیہات جو شہر کے حکم میں ہوتے ہیں، جہاں عید کی نماز واجب ہوتی ہے وہاں عید کی نماز کے بعد ہی قربانی جائز ہے، اس سے پہلے جائز نہیں۔ اگر کسی نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کرلی تو قربانی ادا نہیں ہوگی، ایسی صورت میں دوبارہ قربانی کرنا واجب ہے۔ واضح رہے کہ شہر میں جہاں کہیں بھی عید کی نماز ادا ہوجائے تو اس کے بعد قربانی کرنا جائز ہے۔
البتہ وہ چھوٹے گاؤں اور دیہات جہاں عید کی نماز ادا کرنا جائز نہیں وہاں دس ذوالحجہ کی صبح صادق کے بعد قربانی کرنا درست ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ سورج نکلنے کے بعد ہی قربانی کی جائے۔
(اعلاءالسنن، البحر، رد المحتار، الاختیار، بہشتی زیور، جواہر الفقہ)

❄️ مسئلہ: مذکورہ مسئلے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اصل اعتبار قربانی کا جانور ذبح کرنے کی جگہ کا ہے، اس لیے اگر موکل یعنی جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے وہ شہر میں ہو اور اس کا وکیل اس کی طرف سے ایسے گاؤں میں قربانی کررہا ہو جہاں عید کی نماز واجب نہ ہو تو ایسی صورت میں وکیل کے لیے جائز ہے کہ وہ موکل کی قربانی صبح صادق کے بعد ہی کرلے، اسی طرح ایسی صورت میں اگر موکل گاؤں میں ہے اور وکیل شہر میں ہے تو وکیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ عید کی نماز کے بعد ہی موکل کی قربانی کرے۔
☀ صحیح بخاری میں ہے:
5562- حَدَّثَنَا آدَمُ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ: سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ.
☀ موطأ امام محمد میں ہے:
636- أَخْبَرَنَا مَالِكٌ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ عُوَيْمر بْنَ أَشقَر ذَبَحَ أُضْحِيَتَهُ قَبْلَ أَنْ يغدوَ يَوْمَ الأَضْحَى، وأنَّه ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بأضحيةٍ أُخْرَى.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ فِي مصرٍ يُصَلَّى العيدُ فِيهِ، فَذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يصلِّي الإِمَامُ فَإِنَّمَا هِيَ شاةُ لَحْمٍ، وَلا يُجْزِئُ مِنَ الأُضْحِيَةِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ فِي مصرٍ وَكَانَ فِي بَادِيَةٍ أَوْ نَحْوِهَا مِنَ الْقُرَى النَّائِيَةِ عَنِ الْمِصْرِ فَإِذَا ذَبَحَ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَحِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ أَجْزَأَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ.
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا من أَهْلِ السَّوَادِ دخل الْمِصْرَ لِصَلَاةِ الْأَضْحَى وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُضَحُّوا عنه جَازَ أَنْ يَذْبَحُوا عنه بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، قال مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: أَنْظُرُ في هذا إلَى مَوْضِعِ الذَّبْحِ دُونَ الْمَذْبُوحِ عنه، كَذَا في الظَّهِيرِيَّةِ، وَعَن الْحَسَنِ بن زِيَادٍ بِخِلَافِ هذا، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ ،وَبِهِ نَأْخُذُ، كَذَا في الْحَاوِي لِلْفَتَاوَى، وَلَوْ كان الرَّجُلُ بِالسَّوَادِ وَأَهْلُهُ بِالْمِصْرِ لم تَجُز التَّضْحِيَةُ عنه إلَّا بَعْدَ صَلَاةِ الْإِمَامِ، وَهَكَذَا رُوِيَ عن أبي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى. (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ)

📿 قربانی کے ایام میں قربانی نہ کرنے کا حکم:
کسی صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کے مذکورہ تین دنوں میں قربانی نہیں کی یہاں تک کہ 12 ذوالحجہ کا سورج غروب ہوگیا تو ایسی صورت میں اب درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ایسی صورت میں بڑے جانور میں ساتویں حصے کی قربانی معتبر نہیں۔ اگر جانور خریدنے کے باوجود بھی قربانی کے ایام میں قربانی نہ کرسکا تو اب اسی جانور کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔
(اعلاءالسنن، امدادالاحکام)

📿 قضا قربانی کی ادائیگی کا حکم:
ماقبل کی تفصیل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر کسی کے ذمے گزشتہ ایک سال یا ایک سے زائد سالوں کی قربانیوں کی قضا واجب ہو تو ایسی صورت میں ہر قربانی کے بدلے درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَمِنْهَا: أنها تُقْضَى إذَا فَاتَتْ عن وَقْتِهَا ثُمَّ قَضَاؤُهَا قد يَكُونُ بِالتَّصَدُّقِ بِعَيْنِ الشَّاةِ حَيَّةً وقد يَكُونُ بِالتَّصَدُّقِ بِقِيمَةِ الشَّاةِ، فَإِنْ كان قد أَوْجَبَ التَّضْحِيَةَ على نَفْسِهِ بِشَاةٍ بِعَيْنِهَا فلم يُضَحِّهَا حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ فَيَتَصَدَّقُ بِعَيْنِهَا حَيَّةً، سَوَاءٌ كان مُوسِرًا أو مُعْسِرًا، وَكَذَا إذَا اشْتَرَى شَاةً لِيُضَحِّيَ بها فلم يُضَحِّ حتى مَضَى الْوَقْتُ. (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ)
وَلَوْ لم يُضَحِّ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ فَقَدْ فَاتَهُ الذَّبْحُ، فَإِنْ كان أَوْجَبَ على نَفْسِهِ شَاةً بِعَيْنِهَا بِأَنْ قال: لِلّٰہِ عَلَيَّ أَنْ أُضَحِّيَ بِهَذِهِ الشَّاةِ، سَوَاءٌ كان الْمُوجِبُ فَقِيرًا أو غَنِيًّا أو كان الْمُضَحِّي فَقِيرًا وقد اشْتَرَى شَاةً بِنِيَّةِ الْأُضْحِيَّةِ فلم يَفْعَلْ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ تَصَدَّقَ بها حَيَّةً، وَإِنْ كان من لم يُضَحِّ غَنِيًّا ولم يُوجِبْ على نَفْسِهِ شَاةً بِعَيْنِهَا تَصَدَّقَ بِقِيمَةِ شَاةٍ اشْتَرَى أو لم يَشْتَرِي، كَذَا في «الْعَتَّابِيَّةِ». يُعْتَبَرُ آخِرُ أَيَّامِ النَّحْرِ في الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَالْمَوْتِ وَالْوِلَادَةِ، لو اشْتَرَى شَاةً لِلْأُضْحِيَّةِ عن نَفْسِهِ أو عن وَلَدِهِ فلم يُضَحِّ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ كان عليه أَنْ يَتَصَدَّقَ بِتِلْكَ الشَّاةِ أو بِقِيمَتِهَا، وقال الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا يَلْزَمُهُ شَيْءٌ، هَكَذَا في «فَتَاوَى قَاضِي خَانْ»، وَإِنْ كان أَوْجَبَ شَاةً بِعَيْنِهَا أو اشْتَرَى شَاةً لِيُضَحِّيَ بها فلم يَفْعَلْ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ تَصَدَّقَ بها حَيَّةً وَلَا يَجُوزُ الْأَكْلُ منها. (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ)

📿 کسی دوسرے ملک، شہر یا گاؤں میں قربانی کرنے کا حکم:
اگر کوئی شخص اپنی قربانی کسی اور گاؤں، شہر یا ملک میں کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ جس دن اس کی قربانی کا جانور ذبح ہورہا ہو اس دن دونوں جگہوں میں قربانی کے تین دنوں میں سے کوئی دن ہو، اگر قربانی کرنے والے شخص کے ہاں قربانی کا دن نہ ہو اور جہاں قربانی کی جارہی ہے وہاں قربانی کا دن ہو تو ایسی صورت میں یہ قربانی درست نہیں ہوگی۔
⬅️ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اگر ایک شخص نے کسی دوسرے شہر یا ملک میں کسی کواپنی قربانی کرنے کا وکیل بنایا کہ قربانی کے ایام میں میری طرف سے قربانی کرلیں، تو اگر وکیل کے ہاں قربانی کے ایام شروع ہوچکے ہوں لیکن موکل کے ہاں قربانی کے ایام کا آغاز نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں موکل کی جانب سے قربانی درست نہیں ہوگی۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ موکل کے ہاں قربانی کے ایام ختم ہوچکے ہوں اور وکیل کے ہاں باقی ہوں تو ایسی صورت میں موکل کی قربانی درست ہونے میں حضرات اہلِ علم کی دو آرا ہیں، وسعت اور گنجائش کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی صورت میں اگر کسی وکیل نے موکل کی طرف سے قربانی کرلی تو قربانی ادا ہوجائے گی۔
حاصل یہ کہ احتیاط پر مبنی صورت یہی ہے کہ عید کے ایسے دن قربانی کا جانور ذبح کیا جائے جس میں دونوں جگہ قربانی کے تین دنوں میں سے کوئی دن ہو۔ (فتاویٰ عثمانی، فتویٰ جامعہ دار العلوم کراچی نمبر: 1/1023)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں