104

📿 اجتماعی قربانی میں کھال کس کی ملکیت ہے؟

اجتماعی قربانی میں کھال کس کی ملکیت ہے؟

آجکل مختلف اداروں کی جانب سے اجتماعی قربانی کرانے کا رواج عام ہوچکا ہے، اس حوالے سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ مروجہ اجتماعی قربانی میں کھال ادارے کی ملکیت ہوا کرتی ہے یا حصہ لینے والے شرکاء کی؟ اس کی تعیین اگر نہ کی جائے تو مختلف تنازعات اور اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اس لیے ذیل میں اس بارے میں شرعی حکم ذکر کیا جاتا ہے۔

📿 اجتماعی قربانی میں کھال کس کی ملکیت ہے؟
1⃣ اجتماعی قربانی میں جانور کی کھال شرعًا حصہ لینے والے شرکاء ہی کی ملکیت ہوا کرتی ہے یعنی جس جانور میں جتنے افراد شریک ہیں اس کی کھال انھی شرکاء کی ملکیت شمار ہوتی ہے۔ اس لیے اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے حضرات یا ادارے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ شرکاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ان کے حصے کی کھال اپنے پاس رکھ لیں۔ البتہ اگر اجتماعی قربانی کے شرکاء اپنے حصے کی کھال اپنی رضامندی سے اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے حضرات یا ادارے کو دینا چاہیں تو یہ بالکل جائز ہے۔
2️⃣ اس لیے اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے حضرات اور ادارے حصہ داروں کو شریک کرتے وقت ہی ان سے کھال سے متعلق دریافت کرلیں کہ وہ انھیں کھال دینے پر راضی ہیں یا نہیں تاکہ بعد میں ناخوشگوار صورتحال پیش نہ آئے، اگر وہ کھال دینے پر راضی نہ ہوں تو کھال انھی کے حوالے کردینا ضروری ہے۔
3⃣ اگر کسی جانور میں شریک بعض افراد کھال دینے پر راضی ہوں اور بعض راضی نہ ہوں تو ایسی صورت میں کھال فروخت کرکے اس کی قیمت شرکاء میں تقسیم کرکے اُن شرکاء کی رقم ادارے والے اپنے پاس رکھ لیں جو کہ کھال دینے پر راضی ہیں، اور اُن شرکاء کو اُن کے حصے کی رقم دے دی جائے جو کہ کھال دینے پر راضی نہیں ہیں، ایسی صورت میں بھی ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس رقم کو اپنے استعمال میں لائیں بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ یہ رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو صدقہ کردیں۔
4️⃣ اس کے لیے یہ طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے حضرات اور ادارے
صرف انھی افراد کو اجتماعی قربانی میں شریک کریں جو کھال انھی کو دینے پر راضی ہوں، جبکہ کھال دینے کی اجازت نہ دینے والے حضرات سے معذرت کرلی جائے۔
5️⃣ یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ جو شرکاء کھال دینے پر راضی ہوں انھیں الگ جانوروں میں شریک کیا جائے جبکہ کھال کی اجازت نہ دینے والے شرکاء کو الگ جانوروں میں حصہ دیا جائے تاکہ بعد میں سہولت رہے اور کھال دینے کی اجازت نہ دینے والے شرکاء کو ان کے حصے کی کھال آسانی سے دی جاسکے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: جامعہ دار العلوم کراچی فتویٰ نمبر: 76/ 854، مؤرخہ: 3/ 2/ 27ھ)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں