90

🌻 قربانی کے جانور سے نفع اُٹھانے کا حکم

🌻 قربانی کے جانور سے نفع اُٹھانے کا حکم

قربانی کرنے سے پہلے قربانی کے جانور کا دودھ، اون اور گوبر وغیرہ اپنے استعمال میں لانا، جانور پر سواری کرنا یا اس سے کوئی اور نفع اٹھانا درج ذیل صورتوں میں جائز ہے:
1⃣ جانور گھر کا پالتو ہو۔
2️⃣ جانور خریدتے وقت قربانی کی نیت نہ کی ہو۔
3⃣ جانور قربانی کی نیت سے خریدا ہو لیکن وہ باہر چل پھر کر چارہ نہیں کھاتا ہو بلکہ مالک اس کو چارہ کھلاتا ہو، جیسا کہ آجکل عمومًا شہروں میں ہوتا ہے۔
ان تین صورتوں میں جانور کے دودھ، اُون اور گوبر وغیرہ سے نفع اٹھانا اور ان کو اپنے استعمال میں لانا یا جانور سے کوئی اور جائز نفع اٹھانا جائز ہے۔
لیکن اگر جانور قربانی کی نیت سے خریدا ہو اور وہ باہر چل پھر کر چرنے پر گزارہ کرتا ہو تو اس کے دودھ، اون وغیرہ سے نفع اٹھانا درست نہیں، اس لیے ایسی صورت میں قربانی کے جانور کی اُون کاٹنا درست نہیں، لیکن اگر کسی نے اون کاٹ لی تو اسے کسی مستحقِ زکوٰۃ کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح قربانی کے جانور کا دودھ بھی نہ نکالا جائے، البتہ اگر دودھ نہ نکالنے سے جانور کو تکلیف کا سامنا ہو تو اس کے تھنوں پر ٹھنڈے پانی کی چھینٹے مار کر دودھ خشک کردیا جائے، لیکن اگر اس سے بھی تکلیف کم نہ ہو تو دودھ نکال کر کسی مستحقِ زکوٰۃ کو صدقہ کردیا جائے۔ اگر کسی نے یہ دودھ اپنے استعمال میں لے آیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔
(احسن الفتاویٰ)

⬅️ مسئلہ:
قربانی کے جانور کی قربانی کرلینے کے بعد اس کے تھنوں میں موجود دودھ کو اپنے استعمال میں لانا درست ہے، اسی طرح اس کی اون کو کاٹ کر اپنے استعمال میں لانا بھی درست ہے، لیکن اس دودھ اور اون کو رقم کے عوض فروخت کرنا درست نہیں، اگر کسی نے یہ فروخت کرلیے تو ان کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔

☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
الْبَابُ السَّادِسُ في بَيَانِ ما يُسْتَحَبُّ في الْأُضْحِيَّةِ وَالِانْتِفَاعِ بها:
….. وَلَوِ اشْتَرَى شَاةً لِلْأُضْحِيَّةِ يُكْرَهُ أَنْ يَحْلِبَهَا أو يَجُزَّ صُوفَهَا فَيَنْتَفِعَ بِهِ؛ لِأَنَّهُ عَيَّنَهَا لِلْقُرْبَةِ فَلَا يَحِلُّ له الِانْتِفَاعُ بِجُزْءٍ من أَجْزَائِهَا قبل إقَامَةِ الْقُرْبَةِ بها كما لَا يَحِلُّ له الِانْتِفَاعُ بِلَحْمِهَا إذَا ذَبَحَهَا قبل وَقْتِهَا، وَمِنَ الْمَشَايِخِ من قال: هذا في الشَّاةِ الْمَنْذُورِ بها بِعَيْنِهَا من الْمُعْسِرِ وَالْمُوسِرِ وفي الشَّاةِ الْمُشْتَرَاةِ لِلْأُضْحِيَّةِ من الْمُعْسِرِ، فَأَمَّا الْمُشْتَرَاةُ من الْمُوسِرِ لِلْأُضْحِيَّةِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَحْلُبَهَا وَيَجُزَّ صُوفَهَا، كَذَا في «الْبَدَائِعِ»، وَالصَّحِيحُ أَنَّ الْمُوسِرَ وَالْمُعْسِرَ في حَلْبِهَا وَجَزِّ صُوفِهَا سَوَاءٌ، هَكَذَا في «الْغِيَاثِيَّةِ». وَلَوْ حَلَبَ اللَّبَنَ من الْأُضْحِيَّةِ قبل الذَّبْحِ أو جَزَّ صُوفَهَا يَتَصَدَّقُ بِهِ وَلَا يَنْتَفِعُ بِهِ، كَذَا في «الظَّهِيرِيَّةِ»، وإذا ذَبَحَهَا في وَقْتِهَا جَازَ له أَنْ يَحْلِبَ لَبَنَهَا وَيَجُزَّ صُوفَهَا وَيَنْتَفِعَ بِهِ؛ لِأَنَّ الْقُرْبَةَ أُقِيمَتْ بِالذَّبْحِ، وَالِانْتِفَاعُ بَعْدَ إقَامَةِ الْقُرْبَةِ مُطْلَقٌ كَالْأَكْلِ، كَذَا في «الْمُحِيطِ»، وَإِنْ كان في ضَرْعِهَا لَبَنٌ وَيُخَافُ يَنْضَحُ ضَرْعَهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ، فَإِنْ تَقَلَّصَ وَإِلَّا حَلَبَ وَتَصَدَّقَ، وَيُكْرَهُ رُكُوبُهَا وَاسْتِعْمَالُهَا كما في الْهَدْيِ، فَإِنْ فَعَلَ فَنَقَصَهَا فَعَلَيْهِ التَّصَدُّقُ بِمَا نَقَصَ، وَإِنْ آجَرَهَا تَصَدَّقَ بِأَجْرِهَا، وَلَوِ اشْتَرَى بَقَرَةً حَلُوبَةً وَأَوْجَبَهَا أُضْحِيَّةً فَاكْتَسَبَ مَالًا من لَبَنِهَا يَتَصَدَّقُ بِمِثْلِ ما اكْتَسَبَ وَيَتَصَدَّقُ بِرَوْثِهَا، فَإِنْ كان يَعْلِفُهَا فما اكْتَسَبَ من لَبَنِهَا أو انْتَفَعَ من رَوْثِهَا فَهُوَ له، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِشَيْءٍ، كَذَا في «مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ».

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں