99

کیا گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی اس کے اہل وعیال کی طرف سے کافی ہے؟

کیا گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی اس کے اہل وعیال کی طرف سے کافی ہے؟

آجکل یہ غلط فہمی عام ہے کہ بہت سے لوگ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی جانب سے کافی سمجھتے ہیں کہ جب گھر کے بڑے نے اپنی قربانی کرلی اور اسی میں گھر کے افراد کی نیت بھی کرلی (یا بعض کے بقول نیت نہ بھی کی) تو گھر کے تمام افراد کی طرف سے یہ قربانی کافی ہے، ایسی صورت میں گھر کے دیگر صاحبِ نصاب افراد کے ذمے قربانی کرنا واجب نہیں رہتا۔ اور اس کے لیے ’’مسند احمد‘‘ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ: ’’حضور اقدس ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ وسفید رنگت والے دو خصی مینڈھے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کی طرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی، اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے قربان کرتے۔‘‘ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اس حدیث کے مطابق حضور اقدس ﷺ نے اپنے اور اپنے اہل وعیال کی جانب سے ایک ہی دنبے کی قربانی فرمائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی ہوجاتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ غلط فہمی ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کی تفصیل سے وضاحت کی جائے تاکہ اس غلط فہمی کا ازالہ ہوسکے، جس کے لیے پہلے مسئلہ کی صحیح صورتحال بیان کی جاتی ہے۔

📿 قربانی کے نصاب میں ذاتی ملکیت کا اعتبار:
احناف سمیت متعدد ائمہ کرام کا مذہب یہ ہے کہ ہر شخص پر اسی کی ملکیت کے اعتبار سے قربانی واجب ہے۔ میاں بیوی، والدین اولاد، بہنوں اور بھائیوں میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی ملکیت کا الگ الگ حساب لگایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر شوہر اور بیوی دونوں ہی صاحبِ نصاب ہوں تو دونوں کے ذمّے الگ الگ حصے کی قربانی واجب ہوگی، اسی طرح اگر والد بھی صاحبِ نصاب ہو اور بیٹا بھی تو دونوں کے ذمّے الگ الگ حصے کی قربانی واجب ہوگی، یہی حکم بہنوں، بھائیوں اور دیگر افراد کا بھی ہے۔ اسی طرح قربانی واجب ہونے کے لیے ایک کے مال کو دوسرے کے مال کے ساتھ جمع نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان میں سے جس کی بھی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال آجائے تو اسی کے ذمّے قربانی واجب ہے اور جس کی ملکیت میں نصاب کے برابر مال نہ ہو تو اس کے ذمے قربانی واجب نہیں۔ (فتاویٰ عثمانی، رد المحتار)
یہ متعدد روایات اور شرعی دلائل واصول سے اخذ شدہ ایک عام ضابطہ ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔
2️⃣ جو شخص صاحبِ نصاب ہو اس کے ذمّے اسی کی قربانی واجب ہے، اس کے ذمے کسی اور کی قربانی واجب نہیں، ہاں اگر یہ شخص دوسرے کی اجازت سے اس کی طرف سے قربانی کرلے تو بھی جائز ہے۔
(رد المحتار، فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ عثمانی، فتاویٰ رحیمیہ)

📿 گھر کے افراد کو اپنی ذاتی قربانی میں شریک کرنے کی دو صورتیں:
گھر کا سربراہ اپنی ذاتی قربانی میں گھر کے دیگر افراد کو بھی شریک کرنا چاہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
1⃣ قربانی تو گھر کے سربراہ ہی کی طرف سے ہو البتہ ثواب میں گھر والوں کو بھی شریک کیا جائے تو یہ صورت جائز ہے، اور حضور اقدس ﷺ کا گھر والوں کو قربانی میں شریک کرنے کا یہی مطلب ہے، جیسا کہ آگے تفصیل مذکور ہے۔
2️⃣ گھر کا سربراہ گھر والوں کو اپنی واجب قربانی میں شریک کرنا چاہے کہ گھر والوں کی طرف سے بھی قربانی ادا ہوجائے تو ایسی صورت میں گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی گھر کے دیگر افراد کی طرف سے ہرگز کافی نہ ہوگی، بلکہ گھر کے صاحبِ نصاب افراد میں سے ہر ایک کے ذمے الگ سے قربانی کرنی واجب ہے۔ یہی روایات اور شرعی دلائل کا تقاضا ہے، اس لیے اسی پر عمل ہونا چاہیے۔
گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی نہ ہونے کی وجوہات ماقبل کی تفصیل سے صحیح مسئلہ واضح ہوگیا کہ گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی نہیں اگرچہ وہ سب کی طرف سے قربانی کی نیت کرے، اس کی متعدد وجوہات ہیں:
📿 پہلی وجہ:
حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس کے پاس وسعت ہو اور وہ اس کے باوجود بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔‘‘
☀ سنن ابن ماجہ میں ہے:
3123- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا».

❄️ مذکورہ حدیث سے مأخوذ چھ اہم فوائد:
1⃣ صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہ کرنے پر مذکورہ وعید سے قربانی کی اہمیت اور تاکید بخوبی معلوم ہوجاتی ہے ۔
2️⃣ قربانی نہ کرنے پر مذکورہ وعید سے قربانی کے واجب ہونے کی طرف بھی اشارہ ہوجاتا ہے کیوں کہ یہ وعید واجب جیسے احکام ترک کرنے پر ہی وارد ہوسکتی ہے۔ (البحر الرائق)
3⃣ اس حدیث سے زیرِ بحث مسئلہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی نہیں کیوں کہ اس حدیث میں ’’مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ‘‘ کے الفاظ عام ہیں جو کہ گھر کے تمام افراد کو شامل ہیں، اس میں یہ تخصیص نہیں کہ گھر کا سربراہ اگراپنی قربانی کرلے تو یہ گھر کے دیگر افراد کی طرف سے بھی کافی ہوجائے گی اور اس صورت میں گھر کے دیگر صاحبِ نصاب افراد قربانی نہ کرنے کی اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے، کیوں کہ اس کے لیے صحیح اور صریح دلیل ہونی چاہیے جو کہ موجود نہی اس حدیث میں ’’مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ‘‘ کے الفاظ سے اور دیگر روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک پر اس کی ذاتی ملکیت کی بنیاد پر قربانی واجب ہوتی ہے، جیسا کہ زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور حج ہے، اس لیے اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جس کی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال موجود ہو اس کے ذمے قربانی واجب ہوگی اور جس کے پاس نصاب نہیں اس پر قربانی واجب نہیں، یہ ایک عام شرعی اصول ہے، اس لیے جس طرح یہ دیگر مسلمانوں پر لاگو ہوتا ہے اسی طرح یہی اصول گھر کے افراد پر بھی لاگو ہوگا کہ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی طرف سے کافی نہیں۔
5️⃣ ایک لطیف بات یہ ہے کہ اگر گھر کے سربراہ کی اپنی قربانی سب گھر کی طرف سے کافی ہوتی تو حدیث کی اس وعید کا مصداق صرف وہی گھر ہوگا جس میں گھر کے سربراہ سمیت گھر کا کوئی بھی فرد قربانی نہ کرے، لیکن جہاں گھر کے سربراہ نے قربانی کی اور سب کی نیت کرلی تو اس طرح وہ مکمل گھر اس وعید سے محفوظ ہوگیا حالاں کہ انھوں نے صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، ظاہر ہے کہ یہ مطلب اور فرق کیسے مراد لیا جاسکتا ہے جبکہ حدیث میں عموم ہے، کوئی استثنا نہیں؟؟
6️⃣ اس حدیث میں’’وُسعت‘’ کی قید سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ قربانی ہر ایک پر واجب نہیں بلکہ وُسعت اور استطاعت والے شخص ہی پر واجب ہے، اور صاحبِ وسعت سے مراد صاحبِ نصاب ہونا ہے۔

📿 دوسری وجہ:
نماز، زکوٰۃ، حج، سجدہ تلاوت سمیت دیگر فرائض اور واجبات جس طرح ہر ایک کے ذمے ذاتی حیثیت سے لازم ہوتے ہیں، کسی شخص کے ایسے ذاتی اعمال دوسروں کی طرف سے کافی نہیں ہوتے تو اسی طرح قربانی بھی ہر ایک کے ذمے ذاتی حیثیت سے واجب ہوتی ہے، کسی کی ذاتی قربانی دوسروں کی طرف سے کافی نہیں ہوجاتی۔

📿 تیسری وجہ:
گھر کے سربراہ کے اپنے ایک حصے کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی ہوجانے کی بات اُن روایات کے بھی خلاف ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک بکری یا دنبہ صرف ایک ہی شخص کی طرف سے کافی ہوسکتا ہے، اس میں شرکت جائز نہیں، یہ روایات سے اخذ شدہ عام اصول ہے، اس لیے یہی اصول گھر کے افراد پر بھی لاگو ہوگا کہ گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی طرف سے کافی نہیں۔

📿 چوتھی وجہ:
یہ حضرات جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں اس میں چوں کہ دنبے کا ذکر ہے اس لیے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر گھر کے سربراہ کی ایک بکری یا دنبے کی قربانی پورے گھر کی طرف سے کافی ہے تو پھر کسی بڑے جانور میں گھر کے سربراہ کے ایک حصے کی قربانی بھی سب کی طرف سے کافی ہوگی، تو جب ایک ہی بڑے جانور میں سات افراد اس طرح شریک ہوں کہ اُن میں سے ایک یا زیادہ افراد گھر کے سربراہ کے طور پر شریک ہوجائیں اور گھر کے افراد کی بھی نیت کرلیں تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں شرکاء کی تعداد سات سے زیادہ ہوجائے گی جو کہ خود روایات کے خلاف ہے۔
☀ صحیح مسلم میں ہے:
3248- عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ نَشْتَرِكَ فِى الإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِى بَدَنَةٍ.
☀ المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:
9884- عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ فِي الأَضَاحِيِّ.
☀ سنن ابن ماجہ میں ہے:
3136- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ.

📿 زیرِ بحث مسئلے سے متعلق ایک حدیث اور اس کا صحیح مطلب:
ماقبل کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ گھر کے افراد میں سے جو جو افراد صاحبِ نصاب ہوں تو ہر ایک کے ذمے الگ الگ حصے کی قربانی واجب ہے، گھر کے سربراہ کے ذاتی حصے کی قربانی گھر کے دیگر افراد کی جانب سے ہرگز کافی نہیں۔
اس مسئلہ سے متعلق بعض حضرات جس حدیث سے استدلال کرتے ہیں وہ ماقبل میں ذکر ہوچکی ہے کہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ وسفید رنگت والے دو خصی مینڈھے خریدتے، اُن میں سے ایک مینڈھا اپنے اُن امتیوں کی طرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی، اور دوسرا مینڈھ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے قربان کرتے۔
25843- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ قَالَ: فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ.

⬅️ حدیث کا صحیح مطلب:
اس حدیث میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ حضور اقدس ﷺ اپنے اہل وعیال کی طرف سے جو قربانی فرماتے تھے وہ گھر والوں کی واجب قربانی ہی ہوتی تھی، بلکہ اس حدیث کا درست مطلب یہی ہے کہ قربانی تو حضور اقدس ﷺ ہی کی جانب سے ہوا کرتی تھی البتہ اس کے ثواب میں اپنے گھر والوں کو بھی شریک فرمالیا کرتے تھے کہ ان کو بھی ایصالِ ثواب کردیا کرتے، اور یہ صورت بالکل جائز ہے۔
▫️اس حدیث کا یہ مطلب مراد لینے کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اس صورت میں اس کا دیگر دلائل اور شرعی اصول سے ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا جن کی تفصیل ماقبل میں بیان ہوچکی، دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اسی روایت میں یہ الفاظ بھی ہے کہ حضور اقدس ﷺ اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی کیا کرتے تھے، تو اس سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ امت کی طرف سے قربانی کرنے کا مقصد سوائے ثواب پہنچانے کے اور کیا ہوسکتا ہے؟؟ تو اسی طرح ازواج مطہرات کی جانب سے کی جانے والی قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔
حضور اقدس ﷺ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنے سے متعلق چند مزید روایات ملاحظہ فرمائیں:
1⃣ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذبح (یعنی قربانی) کے دن دو سینگوں والے خصی دنبے ذبح کرنے چاہے تو ان کو قبلہ رخ کیا اور پھر یہ دعا پڑھی:
إِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِىْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيْفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، إِنَّ صَلَاتِىْ وَنُسُكِىْ وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِىْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، لَا شَرِيْكَ لَهُ، وَبِذٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ.
پھر فرمایا کہ: ’’اےاللہ! یہ قربانی تیری طرف سے ہے اور خالص تیری ہی رضا کے لیے ہے، تو اس کو محمد اور اس کی امت کی جانب سے قبول فرما۔‘‘ اس کے بعد آپ ﷺ نے ذبح فرمایا۔
☀ سنن ابی داود میں ہے:
2797- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِىُّ ﷺ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: «إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ»، ثُمَّ ذَبَحَ.
2️⃣ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے دنبہ اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور یوں فرمایا کہ: ’’بِسْمِ اللهِ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اے اللہ! یہ قربانی میری جانب سے ہے اور میرى امت کے ہر اس فرد کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔‘‘
14837- عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو: أَخْبَرَنِي مَوْلَايَ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ عِيدَ الْأَضْحَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ فَقَالَ: «بِسْمِ اللهِ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي».
▫️کیا ان روایات کی رو سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ چوں کہ حضور اقدس ﷺ نے امت کی طرف سے بھی قربانی فرمادی ہے جس کے نتیجے میں سب کی طرف سے واجب قربانی ادا ہوگئی، اس لیے اب امت میں سے کسی کوبھی قربانی کرنے کی ضرورت نہیں، ظاہر ہے کہ یہ بات ہرگز درست نہیں کیوں کہ ایک تو یہ شرعی دلائل کے بھی خلاف ہے، دوم یہ کہ پھر تو قربانی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات کالعدم اور بے معنیٰ قرار پائیں گی اور قربانی جیسی عظیم عبادت معطّل ہوکر رہ جائے گی، معاذ اللہ۔ اس لیے جب امت کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں ایصالِ ثواب ہی کا معنیٰ مراد لیا جاتا ہے تو گھر والوں کی طرف سے قربانی کرنے کی صورت میں بھی ایصالِ ثواب ہی مراد لیا جائے گا۔
☀ جیسا کہ ’’عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ میں ہے:
قَالَ ابْن بطال فِي «الْمَغَازِي» للْبُخَارِيّ: عَن بُرَيْدَة: أَن النَّبِي ﷺ كَانَ بعث عليًّا إِلَى الْيمن قبل حجَّة الْوَدَاع ليقْبض الْخمس، فَقدم من سعايته، فَقَالَ النَّبِي ﷺ: «بِمَا أَهلَلْت يَا عَليّ؟» قَالَ: بِمَا أهل بِهِ رَسُول الله ﷺ. قَالَ: «فاهدِ وامكث حَرَامًا كَمَا كنت»، قَالَ: فأهدى لَهُ عَليّ هَديا، قَالَ: فَهَذَا تَفْسِير قَوْله: «وأشركه فِي الْهَدْي» أَن الْهَدْي الَّذِي أهداه عَليّ عَن النَّبِي ﷺ وَجعل لَهُ ثَوَابه فَيحْتَمل أَن يفرده بِثَوَاب ذَلِك الْهَدْي، كُله فَهُوَ شريك لَهُ فِي هَدْيه؛ لِأَنَّهُ أهداه عَنهُ تَطَوّعا من مَاله، وَيحْتَمل أَن يشركهُ فِي ثَوَاب هدي وَاحِد يكون بَينهمَا، كَمَا ضحى ﷺ عَنهُ وَعَن أهل بَيته بكبش، وَعَمن لم يضح من أمته وأشركهم فِي ثَوَابه، وَيجوز الِاشْتِرَاك فِي هدي التَّطَوُّع.
(بابُ الاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ والْبُدْنِ)
اس بحث کی تفصیل ’’اعلاء السنن‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں