106

کیا سونے کے نصاب کو زکوة کا معیار قرار دیا جاسکتا ہے؟

سوال: زکوٰة کا نصاب عموما چھ سو بارہ گرام چاندی یا اس کی مالیت بتایا جاتا ہے ، یہ نصاب موجودہ زمانے کے اعتبار سے بہت کم معلوم ہوتا ہے ، عموماً بیوہ عورتوں کے پاس کچھ زیورات سونے چاندی کے ہوتے ہی ہیں جن کی مجموع مالیت چاندی کے نصاب کو پہنچ جاتی ہے ، دوسری طرف بعض علماء کا خیال ہے کہ صرف سونے کے نصاب کو زکویة کے لئے معیار بنانا چاہیے، چاندی کا نصاب نہیں، اس سلسلے میں علماے دارالافتاء دیوبند کا کیا موقف ہے ۔ اگر تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں تو عین کرم ہوگا۔

بسم الله الرحمن الرحيم
شریعت نے سونا، چاندی میں سے کوئی نصاب بہ طور معیار متعین نہیں کیا ہے اور اب بھی بعض صورتوں میں سونے کا نصاب ہی معتبر ہوتا ہے؛ البتہ احوال زمانہ کے اختلاف کے نتیجہ میں اصول اور دلائل شرع کی بنیاد پر وجوب زکوة کی اکثر صورتوں میں چاندی کا نصاب معتبر ہوتا ہے اور چوں کہ چاندی، سونا ہر ایک کا نصاب شریعت کی طرف از خود متعین ہے اور کسی ایک کو اپنی طرف سے معیار قرار دینے میں چاندی کے نصاب کا کالعدم ہونا لازم آتا ہے اور منصوص چیزوں میں تبدیلی جائز نہیں ؛ اس لیے جو علما وجوب زکوة کی تمام صورتوں میں سونے کے نصاب کو معیار قرار دینے کی رائے رکھتے ہیں، ان کی رائے صحیح نہیں۔دار الافتا دار العلوم دیوبند اور اکابر علمائے دیوبند کا متفقہ موقف یہی ہے کہ جن صورتو ں میں چاندی کا نصاب معتبر ہوتا ہے، ان میں ہم اپنی طرف سے زکوة ساقط کرنے کے لیے سونے کے نصاب کو معیار قرار نہیں دے سکتے ۔ مسئلہ کی مزید تشریح کے لیے عرض ہے:
شریعت میں سات قسم کے اموال میں زکوة واجب ہوتی ہے اور ان میں سے اکثر کا نصاب مختلف ہے :پہلی قسم: اونٹ،دوسری قسم: گائے بیل (اسی حکم میں بھینس ہے)، تیسری قسم: بکرا بکری ۔چوتھی قسم: سونا۔ پانچویں قسم: چاندی، چھٹی قسم : مال تجارت، ساتویں قسم: کرنسی۔
ان میں سے پہلی تین قسم کے اموال کا نصاب بھی الگ ہے اور ہر ایک مستقل ہے، کسی کا دوسرے کے ساتھ ضم نہیں ہوتا، اسی طرح ان میں سے کسی کا سونا، چاندی وغیرہ کے ساتھ بھی ضم نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کا آپس میں کسی کے ساتھ ضم ہوتا ہے۔
اور سونا، وچاندی دونوں کا نصاب تو الگ الگ ہے ؛ البتہ ان کا آپس میں ضم ہوتا ہے، اور یہ ائمہ احناف کے نزدیک متفق علیہ ہے ؛ البتہ امام صاحب ضم بالقیمہ کے قائل ہیں، جب کہ صاحبین ضم بالاجزاء کے، اور اس سلسلہ میں دلائل کی روشنی میں راجح ومفتی بہ قول حضرت امام ابوحنیفہکا ہے، صاحبینکا قول مرجوح وغیر مفتی بہ ہے جیسا کہ مختلف فقہائے احناف نے صراحت فرمائی ہے۔
اور دونوں میں ضم کا حکم اس وجہ سے ہے کہ دونوں ثمنیت میں متحد ہیں۔
اور مال تجارت کا شریعت میں کوئی مستقل نصاب نہیں ہے ؛ بلکہ مال تجارت، سونا اور چاندی تینوں، مال نامی ہونے میں متفق ہیں، اگرچہ سونا، چاندی خلقتاً ووضعاً نامی ہیں اور مال تجارت جعلاً؛ اس لیے مال تجارت سونا یا چاندی میں سے کسی کے نصاب کو پہنچ جائے، زکوة واجب ہوگی۔ اور چوں کہ مال تجارت کا ان دونوں کے ساتھ الحاق صفت نمو کی وجہ سے ہے اور صفت نمو دونوں میں ہے؛ اس لیے نصاب اور مقدار زکوة میں سونا یا چاندی کے نصاب میں سے کوئی ایک لازمی طور پر متعین نہ ہوگا؛ بلکہ جس کسی سے بھی نصاب مکمل ہوجائے گا، زکوة واجب ہوگی، اس میں ائمہ احناف میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔اور ما ل تجارت کی زکوة میں لا علی التعیین سونا یا چاندی کے نصاب کی مالیت کا اعتبار ہوتا ہے، خواہ آدمی کے پاس مال تجارت کے ساتھ حقیقت میں سونا یا چاندی کا کچھ نصاب ہو یا نہ ہو۔
اور مال تجارت کی تقویم کے مسئلہ میں فقہ حنفی میں جوچار اقوال کی شکل میں اختلاف ہے ، وہ اس صورت میں جب ہر تقویم میں مال تجارت نصاب کے بہ قدر ہو،اور اگر چاندی سے قیمت لگانے میں مال تجارت نصاب کو پہنچتا ہے اور سونا سے قیمت لگانے میں نصاب کو نہیں پہنچتا تو فقہائے احناف کی صراحت کے مطابق اس صورت میں ائمہ احناف کے نزدیک بالاتفاق مال تجارت کی قیمت چاندی سے لگانا ضروری ہوگا، سونے سے اس کی قیمت لگاکر وجوب زکوة سے فرار اختیار کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
یہ وضاحت اس لیے کی گئی کہ بعض حضرات کو اختلاف کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی فہمی ہوئی ہے اور انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ تقویم کا اختلاف نفس وجوب زکوة میں بھی ہے، جب کہ ایسا سمجھنا غلط ہے، خود اختلاف ذکر کرنے والے فقہائے احناف نے بھی اس کی وضاحت فرمائی ہے۔
چناں چہ مبسوط سرخسی میں مسئلہ تقویم میں روایة النوادر کی دلیل کے ذیل میں فرماتے ہیں:
ألا تری أنہ لوکان یتقومہ بأحد النقدین یتم النصاب وبالآخر لا یتم فإنہ یقوم بما یتم بہ النصاب لمنفعة الفقراء (المبسوط للسرخسي، ۲: ۱۹۱، ط: دار المعرفة بیروت)۔
شرح مختصر الطحاوی للجصاص (۲: ۲۰۶) میں بھی ایسا ہی ہے:
چناں امام جصاص سونے چاندی کو آپس میں ایک دوسرے کو ضم کرنے کے مسئلہ میں ضم بالقیمة کی دلیل بہ طور استشہاد پیش فرماتے ہیں :سامان تجارت کی قیمت دراہم ودنانیر میں اس نقد سے لگائی جائے گی، جس سے نصاب مکمل ہو، اس سے نہیں لگائی جائے گی، جس سے نصاب مکمل نہ ہو مساکین کی رعایت میں ؛ کیوں کہ وہ شخص اس قدر مال سے غنی ہے۔ ألا تری أن عروض التجارة تقوم علی ھذا الاعتبار فإن قومت بالدراھم کمل النصاب وإن قومت بالدنانیر لم یکمل فقوموھا بالدراھم حظاً للمساکین إذ کان غنیاً بھذا القدر من المال۔
عنایہ شرح ہدایہ میں بہ حوالہ نہایہ اس مسئلہ کو متفق علیہ نقل کیا گیا ہے، چناں چہ فرماتے ہیں:
ألاتری أنہ إن کان یقومہا بأحد النقدین یتم النصاب وبالآخر لایتم یقوم بمایتم بالاتفاق احتیاطاً لحق الفقراء فکذلک ھذا کذا فی النھایة (العنایة شرح الھدایة،مع الفتح۱:۵۲۷، ط: مصر)۔
الجوہرة النیرة میں اس مسئلہ کو اجماعی قرار دیا گیا ہے، چناں چہ فرماتے ہیں:
والخلاف فیما اذاکانت تبلغ بکلا النقدین نصاباً،أما إذا بلغت بأحدھما قومہا بالبالغ إجماعاً(الجوھرة النیرة، ۱: ۴۷۸)۔
علامہ ابن الہمامنے بھی اس صورت کو غیر اختلافی قرار دیا ہے اور تائید میں نہایہ اور خلاصہ کی عبارت پیش کی ہے اور صاحب ہدایہ نے نوادر کی روایت کی تشریح میں انفع کا جو مطلب تحریر فرمایاہے، اس پر یہ نقد کیا ہے اور یہ فرمایا: لا خلاف في تعین الأنفع بھذا المعنی (دیکھئے: فتح القدیر ۱: ۵۲۸، مطبوعہ: مصر)۔
اور علامہ ابن نجیم مصرینے بھی نہایہ اور خلاصہ وغیرہ کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد آخر میں یہ فرمایا:
فالحاصل أن المذھب تخییرہ إلا إذا کان لا یبلغ بأحدھما نصاباً تعین التقویم بما یبلغ نصاباً (البحر الرائق، ۲: ۴۰۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)
بدائع الصنائع میں علامہ کاسانینے امالی کی روایت کی دلیل میں اس مسئلہ کو بہ طور تائید پیش کیا ہے، جس سے ان کے نزدیک بھی اس مسئلہ کا اجماعی ہونا معلوم ہوتا ہے؛ کیوں کہ مختلف فیہ مسئلہ میں مختلف فیہ روایت یا جزئیہ بہ طور تائید پیش نہیں کیا جاتا، بدائع کی عبارت ملاحظہ ہو:
ألا تری أنہ لوکان بالتقویم بأحدھما یتم النصاب وبالآخر لا فإنہ یقوم بما یتم بہ النصاب نظراً للفقراء واحتیاطاً، کذا ھذا (البدائع الصنائع في معرفة الشرائع، ۲: ۴۱۷، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
نوٹ:۔ واضح ہو کہ بعض فقہی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت بھی اختلافی ہے، جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے ؛ اس لیے ان عبارات کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ تسامح پر مبنی ہیں جیسا کہ ابن الہمامنے صاحب ہدایہ کی تفسیر انفع پر نقد کیا ہے ، اور بعض عبارتیں ایسی بھی ہیں، جن میں واضح طور پر امام صاحب کی روایت میں اس متفق علیہ صورت کو ذکر کیا گیا ہے ، جس سے اس کا اختلافی ہونا معلوم ہوتا ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے؛ لہٰذاان کے بارے میں بھی یہی کہنا ہوگا کہ وہ تسامح پرمبنی ہیں اور امام صاحب کے بقول کی نقل روایت بالمعنی کی گئی ہے۔
اور انفع للفقراء کی تشریح میں نصاب کی تمامیت یا عدم تمامیت کی صورت کو داخل کرنا اصولاً بھی صحیح نہیں ہے ؛ کیوں کہ وجوب زکوة میں نفس نفع ہوتا ہے اور عدم وجوب میں عدم نفع ، ایسا نہیں ہے کہ عدم وجوب میں کچھ نفع ہوتا ہو اور وجوب میں زیاد ہ نفع ؛ اس لیے لغوی اعتبار سے بھی اس صورت کو انفع للفقراء کا مصداق قرار دینا محل نظر ہے، اور اگر کسی فقیہ نے ذکر کیا ہے تو یہ بہ طور تمہید وتشریح ذکر کرنے پر محمول کرنا چاہئے ۔ اس کو انفع کا مصداق نہیں قرار دینا چاہیے۔
اور مال زکوة کی ایک قسم:کرنسی ہے، جو ثمن عرفی ہے اور اس میں بھی نمو ہے؛ اس لیے مال تجارت کا جو حکم ہے، وہ کرنسی کا بھی ہوگا؛ بلکہ اس سے بھی اعلی ہوگا؛ کیوں کہ اس میں صفت نمو کے علاوہ ثمنیت بھی پائی جاتی ہے۔ اور شریعت کی نظر میں سونا اور چاندی دونوں ثمنیت میں یکساں وبرابر ہیں، کوئی دوسرے پر فائق نہیں ہے؛ اس لیے اس کا الحاق دونوں میں سے ہر ایک ساتھ ہوگا، کسی ایک کے ساتھ دائمی طور پر اس کا الحاق متعین نہ ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ اگر مختلف قسم کے نصاب جمع ہوجائیں اور وہ سب غیر تام ہوں، ان میں سے کوئی نصاب مکمل نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر وہ سب الگ الگ جنس کے ہیں تو ان میں ضم نہیں ہوگا، جیسے: کسی کے پاس ۴/اونٹ ، ۲۵/ گائیں،۳۵/بکریاں،۶/تولہ سونا یا ۵۰/ تولہ چاندی یا ۱۵/ ہزار روپے یا پندرہ بیس ہزار روپے کی مالیت کا سامان تجارت ہے تو چوں کہ یہ سب نصاب آپس میں مختلف الجنس ہیں؛ لہٰذا ان میں ضم نہ ہوگا اور ایسے شخص پر زکوة واجب نہ ہوگی۔
اور اگر کسی کے پاس ایک ہی جنس کے دو یا زائد نصاب ہوں، جیسے: کچھ سونا اور کچھ چاندی ہے، یا ان میں سے کسی کے ساتھ یا دونوں کے ساتھ کچھ کرنسی یا مال تجارت ہے یا چاروں میں سے تھوڑا تھوڑا ہے اور کوئی ایک مال بہ قدر نصاب نہیں ہے تو ایسی صورت میں ضم ہوگا اور سونا اور چاندی میں سے کسی ایک نصاب کی مالیت مکمل ہوجانے پر صاحب مال پر زکوة واجب ہوگی ورنہ نہیں۔
سونا ، چاندی، کرنسی اور مال تجارت میں بعض کے اجتماع یا انفراد کے اعتبار سے مجموعی طور پر کل سات صورتیں نکلتی ہیں، جو حسب ذیل ہیں:
(۱):آدمی کے پاس صرف سونا ہو، چاندی، کرنسی یا مال تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو۔ یہ صورت دور حاضر میں اگرچہ تقریباً نا ممکن ہے ، پھر بھی اگر ایسا ہو تو اس صورت میں صرف سونے کا نصاب معتبر ہوگا، یعنی: اگر اس کے پاس ۸۷/ گرام ۴۸۰/ ملء گرام سونا ہے تو زکوة واجب ہوگی، اور اگر اس سے ایک گرام بھی کم ہے تو اس پر زکوة واجب نہ ہوگی؛ کیوں کہ سونا، چاندی میں سے اگر صرف کوئی ایک ہو تو قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا، اداء اور وجوب دونوں میں وزن ہی کااعتبار ہوتا ہے ۔ أما عند انفراد أحدھما فلا تعتبر القیمة إجماعاً بدائع لأن المعتبر وزنہ أداء ووجوبا (رد المحتار۳: ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
(۲): اسی طرح اگر کسی کے پاس صرف چاندی ہو، سونا، کرنسی یا مال تجارت کچھ بھی نہ ہو تو صرف چاندی کا نصاب معتبر ہوگا، اگر چاندی کا نصاب مکمل ہے تو زکوة واجب ہوگی ورنہ نہیں۔أما عند انفراد أحدھما فلا تعتبر القیمة إجماعاً ، بدائع لأن المعتبر وزنہ أداء ووجوبا(رد المحتار۳: ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
(۳): سونا اور چاندی دونوں ہوں اور کرنسی یامال تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو، تواس صورت میں ائمہ احناف کے نزدیک بالاتفاق دونوں کا باہم ضم ہوگا ؛ البتہ امام صاحبکے نزدیک ضم بالقیمة اور صاحبینکے نزدیک ضم بالاجزاء، یعنی: امام صاحب کے نزدیک اگر قیمت کے اعتبار سے کوئی ایک نصاب مکمل ہوگا تو زکوة واجب ہوجائے گی اگرچہ اجزا کے اعتبار سے نصاب مکمل نہ ہو اور صاحبین کے نزدیک اجزا کے اعتبار نصاب کا مکمل ہونا ضروری ہے ورنہ زکوة واجب نہ ہوگی۔ اور اوپر گذرچکا ہے کہ فقہ حنفی میں راجح ومفتی بہ قول حضرت امام صاحبکا ہے، صاحبینکا نہیں۔
(۴): کسی کے پاس کچھ سونا اور کچھ مال تجارت یا کرنسی ہو یا تینوں میں سے ہر ایک کچھ کچھ ہو تو چوں کہ مال تجارت یا کرنسی میں لا علی التعیین سونا، چاندی میں سے کسی ایک کا نصاب معتبر ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی مالیت دور حاضر میں چاندی سے لگائی جائے گی اور جب سونا کے ساتھ چاندی ہو مفتی بہ قول کے مطابق ضم بالقیمة ہوتا ہے؛ لہٰذا مال تجارت یا کرنسی کی صورت میں بھی ضم بالقیمة ہوگا اور باعتبار قیمت چاندی کا نصاب مکمل ہوجانے کی صورت میں زکوة واجب ہوگی۔
(۵): کسی کے پاس کچھ چاندی اور کچھ کرنسی یا مال تجارت یا تینوں میں سے ہر ایک کچھ کچھ ہو ۔ اس صورت میں بلا کسی تردد باعتبار مالیت چاندی کا نصاب معتبر ہوگا؛ کیوں کہ مال تجارت میں سونا یا چاندی میں سے کوئی ایک نصاب لازمی طور پر متعین نہیں اور جس کسی سے نصاب مکمل ہوجائے، اس کا اعتبار ہوتا ہے اور کرنسی بہ حکم مال تجارت ہے؛ اس لیے اس صورت میں اگر باعتبار مالیت چاندی کا نصاب مکمل ہوجاتا ہے تو زکوة واجب ہوگی۔
ہمارے معاشرہ میں عام طور پر آخر کی دو شکلیں ہی پائی جاتی ہیں، شروع کی تین شکلیں عام طور پر نہیں پائی جاتیں ؛ کیوں کہ دور حاضر میں سارا لین دین اور اشیا کی خریدوفروخت کرنسی سے ہوتی ہے، سونا یا چاندی سے نہیں ہوتی؛ اس لیے کسی کے پاس کچھ بھی کرنسی نہ ہو، ایسا نہیں ہوسکتا۔
اور ان دونوں میں دوسری شکل میں کسی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے؛ کیوں کہ چاندی میں بہر حال چاندی ہی کا نصاب معتبر ہوگا اور اس کے ساتھ جو مال تجارت یا کرنسی پائی جاتی ہے اگر بالفرض اس میں سونے کا نصاب معتبر مانا جائے تو ضم کی صورت میں بہرحال قیمت ہی کا اعتبار کرنا ہوگا؛ کیوں کہ یہی قول مفتی بہ ہے اور ضم میں قیمت کا اعتبار کرنے میں دور حاضر چاندی ہی کا نصاب مدار ومعیار ہوگا۔
اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مال تجارت کی تقویم میں آدمی کو سونا یا چاندی میں سے کسی سے بھی قیمت لگانے کا اختیار ہوتا ہے تو جواباً یہ عرض ہوگا کہ اصل نصاب کی تمامیت میں اختیار نہیں ہوتا، وہاں بہر صورت اسی نقدکا اعتبار ہوتا ہے، جس سے نصاب بنے اور زکوة واجب ہو، یہ مسئلہ متفق علیہ ہے جیسا کہ ماقبل میں ذکر کیا گیا۔
اسی طرح پہلی شکل میں بھی امام صاحب کے قول کے مطابق ضم کی صورت میں قیمت کا اعتبار ہوگا اور باعتبار قیمت چاندی کا نصاب مکمل ہوجانے کی صورت میں زکوة واجب ہوگی۔
اور مال تجارت کی تقویم کے سلسلہ میں جو اقوال آئے ہیں، علما نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ عدم تفاوت پر محمول ہیں، یعنی: سونا اور چاندی کی مالیت کی تفاوت نہ ہو تو ظاہر الروایہ میں اختیار ہوگا ورنہ نہیں، اور متعدد فقہاء نے امالی کی روایت کو ظاہر الروایہ کی شرح قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے دونوں میں تطبیق دی ہے۔ اور انفع سے تقویم کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مال تجارت کی زکوة میں قیمت دینا چاہے تو وہ قیمت دے جس میں فقرا کا نفع زیادہ ہو، یعنی: جس سے فقراء بآسانی فائدہ اٹھاسکیں۔
خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ضم کے سلسلہ میں احناف کے یہاں ظاہر الروایہ کا کوئی فرق نہیں ہے؛ البتہ مال تجارت کی قیمت لگانے میں چار اقوال ہیں، جن کی تشریح اوپر ذکر کردی گئی۔
کیا دور حاضر میں چاندی کا نصاب بہ طور معیار متعین ہے؟
دور حاضر میں چاندی کا نصاب از خود معیار بن گیا ہے، اسے بالقصد وارادہ پلاننگ کے تحت معیار بنایا نہیں گیا ہے اور اگریہ دائمی طور پر چاندی کے ساتھ خاص نہیں ہے، اگر سونے کے نصاب کی مالیت چاندی کے نصاب سے کم ہوجائے تو اس صورت میں سونے کے نصاب کا اعتبار ہوگا ، پس یہ چاندی کے نصاب کی مالیت سونے کے نصاب سے کم ہونے کی وجہ سے ہوگیا ہے ورنہ شریعت کی طرف سے یا فقہائے احناف کی طرف سے کسی پلان ومنصوبہ کے تحت چاندی کے نصاب کو معیار نہیں بنایا گیا ہے ؛ بلکہ یہ شریعت کے ایک عام اصول کی وجہ سے از خود ایسا ہوگیاجو سونے کے نصاب میں ہوسکتا ہے ، ناممکن نہیں ہے۔اور اس کا مدار محض انفع للفقراء نہیں ہے؛ بلکہ اس کا مدار اس پر ہے کہ قابل ضم مختلف نصاب جمع ہوجانے کی صورت میں مفتی بہ قول میں ضم بالقیمة کا اعتبار ہوتا ہے اور ضم بالقیمة میں چاندی کا نصاب پہلے پایا جاتا ہے ؛ کیوں کہ اس کی مالیت سونے کے نصاب سے کم ہے ؛ اس لیے ایسی صورت میں چاندی کا نصاب مکمل ہوجانے پروجوب زکوة کا حکم ہوتا ہے۔ ویسے انفع للفقراء کی روایت خود صاحب مذہب: حضرت امام ابو حنیفہسے مروی ہے اور اس میں کسی فقیہ حنفی کا اختلاف نہیں ہے؛ البتہ اس کی صحیح تشریح یہ ہے کہ وجوب زکوة کے بعد صفت وجوب میں انفع للفقراء کا اعتبار ہوتا ہے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں