89

پانی میں ڈوب جانے والی میت کو غسل دینے کا حکم:

پانی میں ڈوب جانے والی میت کو غسل دینے کا حکم:
جو شخص پانی میں ڈوب کر مر گیا ہو تو صرف اس کے ڈوب جانے سے بدن پر پانی بہہ جانے کی وجہ سے غسل ادا نہیں ہوگا، بلکہ میت کو نکالنے کے بعد اس کو غسل دینا ضروری ہے، کیوں کہ مردے کو غسل دینا یہ زندوں کی ذمہ داری ہے، جبکہ ڈوب جانے کی وجہ سے جو میت کا بدن گیلا ہوگیا ہے اس میں زندوں کا کوئی عمل دخل نہیں، اس لیے یہ میت کے غسل کے لیے کافی نہیں۔ البتہ اگر میت کو پانی سے نکالتے وقت غسل کی نیت سے اسے حرکت دے دی جائے تو اس کی وجہ سے اس کا غسل ادا ہوجائے گا، اس صورت میں غسل کی ادائیگی کے لیے کم از کم ایک مرتبہ تو اسے حرکت دینا ضروری ہے، جبکہ سنت غسل کی ادائیگی کے لیے اسے تین مرتبہ حرکت دے دینی چاہیے۔

❄️ مسئلہ:
پانی میں ڈوب جانے والے شخص کی میت اگر پھول گئی ہو کہ اسے باقاعدہ غسل دینے سے اس کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے غسل کے لیے صرف اس پر پانی بہا دینا ہی کافی ہے، البتہ اگر اس کو پانی سے نکالتے وقت پانی ہی میں غسل کی نیت سے اسے حرکت دے دی جائے تو یہ بھی کافی ہے۔
(احکامِ میت، فتاویٰ ہندیہ، رد المحتار)

📚 فقہی عبارات:
☀ الفتاوى الهندية:
الْمَيِّتُ إذَا وُجِدَ في الْمَاءِ لَا بُدَّ من غُسْلِهِ؛ لِأَنَّ الْخِطَابَ بِالْغُسْلِ تَوَجَّهَ على بَنِي آدَمَ ولم يُوجَدْ من بَنِي آدَمَ فِعْلٌ، إلَّا أَنْ يُحَرِّكَهُ في الْمَاءِ بِنِيَّةِ الْغُسْلِ عِنْدَ الْإِخْرَاجِ، كَذَا في «التَّجْنِيسِ»، وَهَكَذَا في «الْبَدَائِعِ» وَ«مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ»، وَلَوْ كان الْمَيِّتُ مُتَفَسِّخًا يَتَعَذَّرُ مَسْحُهُ كَفَى صَبُّ الْمَاءِ عليه، كَذَا في «التَّتَارْخَانِيَّة» نَاقِلًا عن «الْعَتَّابِيَّةِ».
(الْبَابُ الْحَادِي وَالْعِشْرُونَ في الْجَنَائِزِ: الْفَصْلُ الثَّانِي في الْغُسْلِ)
☀ الدر المختار:
(وَ) لِذَا قَالَ: (لَوْ وُجِدَ مَيِّتٌ فِي الْمَاءِ فَلَا بُدَّ مِنْ غُسْلِهِ ثَلَاثًا)؛ لِأَنَّا أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ فَيُحَرِّكُهُ فِي الْمَاءِ بِنِيَّةِ الْغُسْلِ ثَلَاثًا، «فَتْحٌ»، وَتَعْلِيلُهُ يُفِيدُ أَنَّهُمْ لَوْ صَلَّوْا عَلَيْهِ بِلَا إعَادَةِ غُسْلِهِ صَحَّ وَإِنْ لَمْ يَسْقُطْ وُجُوبُهُ عَنْهُمْ فَتَدَبَّرْ.
رد المحتار على الدر المختار:
(قَوْلُهُ: وَلِذَا) أَيْ لِكَوْنِ النِّيَّةِ لَيْسَتْ شَرْطًا لِصِحَّةِ الطَّهَارَةِ بَلْ شَرْطٌ لِإِسْقَاطِ الْفَرْضِ عَن الْمُكَلَّفِينَ. (قَوْلُهُ: فَلَا بُدَّ) أَيْ فِي تَحْصِيلِ الْغُسْلِ الْمَسْنُونِ، وَإِلَّا فَالشَّرْطُ مَرَّةً، وَكَأَنَّهُ يُشِيرُ بِـ«لَا بُدَّ» إلَى أَنَّهُ بِوُجُودِهِ فِي الْمَاءِ لَمْ يَسْقُطْ غُسْلُهُ الْمَسْنُونُ فَضْلًا عَن الشَّرْطِ، تَأَمَّلْ. (قَوْلُه: وَتَعْلِيلُهُ) أَيْ تَعْلِيلُ «الْفَتْحِ» بِقَوْلِهِ: «لِأَنَّا أُمِرْنَا إلَخْ» أَيْ وَلَمْ يَقُلْ فِي التَّعْلِيلِ: «لِأَنَّهُ لَمْ يَطْهُرْ»، ط.
[تَنْبِيهٌ]: اعْلَمْ أَنَّ حَاصِلَ الْكَلَامِ فِي الْمَقَامِ أَنَّهُ قَالَ فِي «التَّجْنِيسِ»: وَلَا بُدَّ مِنَ النِّيَّةِ فِي غُسْلِهِ فِي الظَّاهِرِ. وَفِي «الْخَانِيَّةِ»: إذَا جَرَى الْمَاءُ عَلَى الْمَيِّتِ، أَوْ أَصَابَهُ الْمَطَرُ عَنْ أَبِي يُوسُفَ: أَنَّهُ لَا يَنُوبُ عَنِ الْغُسْلِ؛ لِأَنَّا أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ، وَذَلِكَ لَيْسَ بِغُسْلٍ، وَفِي «النِّهَايَةِ» وَ«الْكِفَايَةِ» وَغَيْرِهِمَا: أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ، إلَّا أَنْ يُحَرِّكَهُ بِنِيَّةِ الْغُسْلِ. وَقَالَ فِي «الْعِنَايَةِ»: وَفِيهِ نَظَرٌ؛ لِأَنَّ الْمَاءَ مُزِيلٌ بِطَبْعِهِ ،وَكَمَا لَا تَجِبُ النِّيَّةُ فِي غُسْلِ الْحَيِّ فَكَذَا الْمَيِّتُ، وَلِذَا قَالَ فِي «الْخَانِيَّةِ»: مَيِّتٌ غَسَّلَهُ أَهْلُهُ مِنْ غَيْرِ نِيَّةِ الْغُسْلِ أَجْزَأَهُمْ ذَلِكَ اهـ. وَصَرَّحَ فِي «التَّجْرِيدِ» و«الإسبيجابي» وَ«الْمِفْتَاحِ» بِعَدَمِ اشْتِرَاطِهَا أَيْضًا، وَوَفَّقَ فِي «فَتْحِ الْقَدِيرِ» بِقَوْلِهِ: الظَّاهِرُ اشْتِرَاطُهَا فِيهِ لِإِسْقَاطِ وُجُوبِهِ عَن الْمُكَلَّفِ لَا لِتَحْصِيلِ طَهَارَتِهِ هُوَ وَشَرْطِ صِحَّةِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ. اهـ. وَبَحَثَ فِيهِ شَارِحُ «الْمُنْيَةِ» بِأَنَّ مَا مَرَّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ يُفِيدُ أَنَّ الْفَرْضَ فِعْلُ الْغُسْلِ مِنَّا، حَتَّى لَوْ غَسَّلَهُ لِتَعْلِيمِ الْغَيْرِ كَفَى وَلَيْسَ فِيهِ مَا يُفِيدُ اشْتِرَاطَ النِّيَّةِ لِإِسْقَاطِ الْوُجُوبِ بِحَيْثُ يَسْتَحِقُّ الْعِقَابَ بِتَرْكِهَا. وَقَدْ تَقَرَّرَ فِي الْأُصُولِ أَنَّ مَا وَجَبَ لِغَيْرِهِ مِن الْأَفْعَالِ الْحِسِّيَّةِ يُشْتَرَطُ وُجُودُهُ لَا إيجَادُهُ كَالسَّعْيِ وَالطَّهَارَةِ، نَعَمْ لَا يَنَالُ ثَوَابَ الْعِبَادَةِ بِدُونِهَا اهـ. وَأَقَرَّهُ الْبَاقَانِيُّ، وَأَيَّدَهُ بِمَا فِي «الْمُحِيطِ»: لَوْ وُجِدَ الْمَيِّتُ فِي الْمَاءِ لَا بُدَّ مِنْ غُسْلِهِ؛ لِأَنَّ الْخِطَابَ يَتَوَجَّهُ إلَى بَنِي آدَمَ وَلَمْ يُوجَدْ مِنْهُمْ فِعْلٌ. اهـ. فَتَلَخَّصَ: أَنَّهُ لَا بُدَّ فِي إسْقَاطِ الْفَرْضِ مِنَ الْفِعْلِ، وَأَمَّا النِّيَّةُ فَشَرْطُ التَّحْصِيلِ الثَّوَابُ، وَلِذَا صَحَّ تَغْسِيلُ الذِّمِّيَّةِ زَوْجَهَا الْمُسْلِمَ مَعَ أَنَّ النِّيَّةَ شَرْطُهَا الْإِسْلَامُ فَيَسْقُطُ الْفَرْضُ عَنَّا بِفِعْلِنَا بِدُونِ نِيَّةٍ، وَهُوَ الْمُتَبَادِرُ مِنْ قَوْلِ «الْخَانِيَّةِ»: أَجْزَأَهُمْ ذَلِكَ. (بَابُ صَلَاةِ الْجِنَازَةِ)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں