111

نابالغ لڑکوں کو سونے کی انگوٹھی پہنانے کا حکم

نابالغ لڑکوں کو سونے کی انگوٹھی پہنانے کا حکم
(تصحیح ونظر ثانی شدہ)

آجکل بہت سے علاقوں اور قوموں میں ایک غیر شرعی رسم یہ بھی رائج ہے کہ چھوٹے بچوں (یعنی لڑکوں) کو سونے کی انگوٹھی پہنائی جاتی ہے، یاد رہے کہ ان کو سونے کی انگوٹھی پہنانا جائز نہیں، اور اس کا گناہ انگوٹھی پہنانے والے کو ملے گا۔

📿 وضاحت:
نابالغ چھوٹے بچوں یعنی لڑکوں کو سونے کی انگوٹھی پہنانے کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ حضرات فقہائے کرام نے یہ ذکر فرمائی ہے کہ: مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، اور یہ حکم بالغ اور نابالغ دونوں کے لیے ہے، اس لیے جس طرح بالغ مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا منع ہے اسی طرح نابالغ لڑکے کے لیے بھی پہننا منع ہے، چوں کہ نابالغ خود تو مکلَّف نہیں اس لیے جو بالغ مرد یا عورت اس کو سونے کی انگوٹھی پہنائے گا تو اس کا گناہ بالغ مرد اور عورت کو ملے گا کیوں کہ وہ تو مکلف ہیں اور وہ ایک ناجائز کام کررہے ہیں۔ جیسا کہ رد المحتار کی عبارت سے واضح ہے۔

❄ فقہی عبارات
☀️ الدر المختار:
(وَكُرِهَ إلْبَاسُ الصَّبِيِّ ذَهَبًا أَوْ حَرِيرًا)؛ فَإِنَّ مَا حَرُمَ لُبْسُهُ وَشُرْبُهُ حَرُمَ إلْبَاسُهُ وَإِشْرَابُهُ.
☀️ رد المحتار:
(قَوْلُهُ وَكُرِهَ إلَخْ) لِأَنَّ النَّصَّ حَرَّمَ الذَّهَبَ وَالْحَرِيرَ عَلَى ذُكُورِ الْأُمَّةِ بِلَا قَيْدِ الْبُلُوغِ وَالْحُرِّيَّةِ، وَالْإِثْمُ عَلَى مَنْ أَلْبَسَهُمْ؛ لِأَنَّا أُمِرْنَا بِحِفْظِهِمْ، ذَكَرَهُ التُّمُرْتَاشِيُّ….. أَقُولُ: ظَاهِرُهُ أَنَّهُ كَمَا يُكْرَهُ لِلرَّجُلِ فِعْلُ ذَلِكَ بِالصَّبِيِّ يُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ أَيْضًا وَإِنْ حَلَّ لَهَا فِعْلُهُ لِنَفْسِهَا.
☀️ مختصر القدوري مع الجوھرة:
قَوْلُهُ: (وَيُكْرَهُ أَنْ يَلْبَسَ الصَّبِيُّ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَالْحَرِيرَ) قَالَ الْخُجَنْدِيُّ: وَالْإِثْمُ عَلَى مَنْ أَلْبَسَهُ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا حَرُمَ اللُّبْسُ حَرُمَ الْإِلْبَاسُ كَالْخَمْرِ لَمَّا حَرُمَ شُرْبُهُ حَرُمَ سَقْيُهُ، وَلِأَنَّهُمْ يُمْنَعُونَ مِنْ ذَلِكَ لِئَلَّا يَأْلَفُوهُ كَمَا يُمْنَعُونَ مِنْ شُرْبِ الْخَمْرِ وَسَائِرِ الْمَعَاصِي، وَلِهَذَا أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِتَعْلِيمِهِم الصَّلَاةَ وَضَرْبِهِمْ عَلَى تَرْكِهَا لِكَيْ يَأْلَفُوهَا وَيَعْتَادُوهَا. (كِتَابُ الْحَظْرِ وَالْإِبَاحَةِ)
☀️ مجمع الأنھر:
ويكره إلباس الصبي ذهبا أو حريرا لئلا يعتاده، والإثم على الملبس.

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں