95

میّت کے ذمّے قضا قربانی رہ جانے کا حکم:

میّت کے ذمّے قضا قربانی رہ جانے کا حکم:

جو شخص (مرد یا عورت) انتقال کرجائے اور اس کے ذمے ایک سال یا ایک سے زائد سالوں کی قضا قربانیاں واجب رہ گئی ہوں یعنی اس نے صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود بھی قربانی ادا نہ کی ہو تو ایسی صورت میں اس کی طرف سےاس قضا قربانی کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟ ذیل میں اسی حوالے سے تفصیلی حکم ذکر کیا جاتا ہے، البتہ ابتدا میں بطورِ تمہید بعض مسائل ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ زیرِ بحث مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو۔
1⃣ کسی عاقل بالغ صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کے تین دنوں (یعنی ذو الحجہ کی دسویں، گیارہویں اور بارہویں تاریخوں) میں قربانی نہیں کی یہاں تک کہ 12 ذوالحجہ کا سورج غروب ہوگیا تو یہ قربانی اس کے ذمے قضا رہ گئی، اب اس قضا قربانی کی ادائیگی کے لیے درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ایسی صورت میں بڑے جانور میں ساتویں حصے کی قربانی معتبر نہیں ہوگی۔ اور اگر جانور خریدنے کے باوجود بھی قربانی کے ایام میں قربانی نہ کرسکا تو اب اسی جانور کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔
(اعلاءالسنن، امداد الاحکام)
مذکورہ مسئلہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمے گذشتہ ایک سال یا ایک سے زائد سالوں کی قربانیوں کی قضا واجب ہو تو ایسی صورت میں ہر قربانی کے بدلے درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔
2️⃣ جس شخص کے ذمے گذشتہ ایک سال یا ایک سے زائد سالوں کی قضا قربانی واجب ہو تو اسے چاہیے کہ وہ جلد سے جلد اس واجب کی ادائیگی کرکے اس سے سبکدوش ہوجائے، کیوں کہ جب موت کا وقت معلوم نہیں ہوتا تو اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان قضا قربانیوں کی ادائیگی میں بے جا تاخیر نہیں کرنی چاہیے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ موت آجائے اور بندے کے ذمے یہ قضا قربانیاں باقی رہ جائیں، یوں بندہ گناہ گار ٹھہرے گا۔
3⃣ مذکورہ تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ جس شخص کا اس حال میں انتقال ہوجائے کہ اس کے ذمے ایک یا ایک سے زائد سالوں کی قضا قربانیاں باقی ہوں تو ایسی صورت میں میت کی طرف سے ہر قربانی کے بدلے درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے تاکہ اس کا ذمہ بری ہوسکے۔

📿 قضا قربانی کی وصیت سے متعلق تفصیل:
جب کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمے ایک یا ایک سے زائد سالوں کی قضا قربانیاں باقی ہوں اور اس نے وصیت کی ہو کہ میری ان قضا قربانیوں کی ادائیگی ادا کردی جائے اور اس نے مال بھی چھوڑا ہو تو اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ اگر میت پر کوئی قرضہ ہو تو سب سے پہلے میت کے مال میں سے قرضہ اداکیا جائے، پھر اس کے بعد کل مال کے ایک تہائی حصے میں سے قضا قربانیوں کی یہ وصیت پوری کی جائے۔ اگر وہ ایک تہائی مال کم پڑ رہا ہو اور وہ وصیت اس میں پوری نہیں ہو پارہی ہو تو اس وصیت کو پورا کرنے کے لیے ایک تہائی سے زیادہ مال خرچ کرنا ورثہ کے ذمے لازم نہیں، البتہ اگر عاقل بالغ ورثہ اپنی خوشی سے اپنے حصے میں سے یہ وصیت پوری کردیں تو یہ جائز ہے اور یہ میت پراحسان ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی سے امید ہے کہ میت کا ذمہ بَری ہوجائے گا۔

📿 قضا قربانی کی وصیت نہ کرنے یا ترکہ نہ چھوڑنے کا حکم:
اگر میت کے ذمے قضا قربانیاں ہوں اور اس نے ان کی ادائیگی کی وصیت بھی کی ہو لیکن اس نے مال نہیں چھوڑا ہو، یا مال تو چھوڑا ہو لیکن ان قضا قربانیوں کی ادائیگی کی وصیت ہی نہ کی ہو توان دونوں صورتوں میں میت کی ان قضا قربانیوں کی ادائیگی کرنا ورثہ کے ذمے واجب نہیں، البتہ اگر عاقل بالغ ورثہ میت پر احسان کرتے ہوئے اپنی رضامندی سے اپنے حصے میں سے یا اپنے مال میں سے اس کی قضا قربانیوں کی رقم ادا کردیں تو یہ جائز ہے اور یہ میت پراحسان ہوگا، اور اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی سے امید ہے کہ اس کا ذمہ بَری ہو جائے گا۔

📿 قضا قربانیوں کی رقم کس کو دینا جائز ہے؟
میت کی قضا قربانیوں کی رقم کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے کہ یہ رقم صرف اسی کو دینا جائز ہے جس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

📿 قضا قربانی کی ادائیگی اور وصیّت کی فکر:
ہر عاقل بالغ صاحبِ نصاب مسلمان کو چاہیے کہ وہ عید الاضحیٰ کے ایام میں قربانی کی ادائیگی کی فکر کرے، اگر لاعلمی، غفلت یا کسی اور وجہ سے اس کے ذمے گذشتہ ایک سال یا ایک سے زائد سالوں کی قضا قربانیاں باقی رہ گئی ہوں تو جتنی جلدی ہوسکے ان کی رقم کی ادائیگی کی کوشش کرے تاکہ واجب ادا ہوجائے اور ذمہ بَری ہوجائے، اور عدمِ ادائیگی کی صورت میں وصیت بھی کرلے کہ میری موت کے بعد میری ان قضا قربانیوں کی رقم ادا کردی جائے کیوں کہ فوت ہونے سے پہلے ان کی وصیت کرنا واجب ہے۔

📚 فقہی عبارات
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَمِنْهَا أنها تُقْضَى إذَا فَاتَتْ عن وَقْتِهَا ثُمَّ قَضَاؤُهَا قد يَكُونُ بِالتَّصَدُّقِ بِعَيْنِ الشَّاةِ حَيَّةً وقد يَكُونُ بِالتَّصَدُّقِ بِقِيمَةِ الشَّاةِ فَإِنْ كان قد أَوْجَبَ التَّضْحِيَةَ على نَفْسِهِ بِشَاةٍ بِعَيْنِهَا فلم يُضَحِّهَا حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ فَيَتَصَدَّقُ بِعَيْنِهَا حَيَّةً سَوَاءٌ كان مُوسِرًا أو مُعْسِرًا وَكَذَا إذَا اشْتَرَى شَاةً لِيُضَحِّيَ بها فلم يُضَحِّ حتى مَضَى الْوَقْتُ. (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ)
وَلَوْ لم يُضَحِّ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ فَقَدْ فَاتَهُ الذَّبْحُ، فَإِنْ كان أَوْجَبَ على نَفْسِهِ شَاةً بِعَيْنِهَا بِأَنْ قال: لِلّٰہِ عَلَيَّ أَنْ أُضَحِّيَ بِهَذِهِ الشَّاةِ، سَوَاءٌ كان الْمُوجِبُ فَقِيرًا أو غَنِيًّا أو كان الْمُضَحِّي فَقِيرًا وقد اشْتَرَى شَاةً بِنِيَّةِ الْأُضْحِيَّةِ فلم يَفْعَلْ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ تَصَدَّقَ بها حَيَّةً، وَإِنْ كان من لم يُضَحِّ غَنِيًّا ولم يُوجِبْ على نَفْسِهِ شَاةً بِعَيْنِهَا تَصَدَّقَ بِقِيمَةِ شَاةٍ اشْتَرَى أو لم يَشْتَرِي، كَذَا في الْعَتَّابِيَّةِ، يُعْتَبَرُ آخِرُ أَيَّامِ النَّحْرِ في الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَالْمَوْتِ وَالْوِلَادَةِ، لو اشْتَرَى شَاةً لِلْأُضْحِيَّةِ عن نَفْسِهِ أو عن وَلَدِهِ فلم يُضَحِّ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ كان عليه أَنْ يَتَصَدَّقَ بِتِلْكَ الشَّاةِ أو بِقِيمَتِهَا، وقال الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا يَلْزَمُهُ شَيْءٌ، هَكَذَا في فَتَاوَى قَاضِي خَانْ، وَإِنْ كان أَوْجَبَ شَاةً بِعَيْنِهَا أو اشْتَرَى شَاةً لِيُضَحِّيَ بها فلم يَفْعَلْ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ تَصَدَّقَ بها حَيَّةً وَلَا يَجُوزُ الْأَكْلُ منها. (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ)
☀ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وَمَنْ وَجَبَتْ عليه الْأُضْحِيَّةُ فلم يُضَحِّ حتى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ ثُمَّ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَعَلَيْهِ أَنْ يُوصِيَ بِأَنْ يُتَصَدَّقَ عنه بِقِيمَةِ شَاةٍ من ثُلُثِ مَالِهِ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا مَضَى الْوَقْتُ فَقَدْ وَجَبَ عليه التَّصَدُّقُ بِقِيمَةِ شَاةٍ فَيَحْتَاجُ إلَى تخليص نَفْسِهِ عن عُهْدَةِ الْوَاجِبِ، وَالْوَصِيَّةُ طَرِيقُ التَّخْلِيصِ فَيَجِبُ عليه أَنْ يُوصِيَ كما في الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَغَيْرِ ذلك.
(كِتَابُ التَّضْحِيَةِ: فَصْلٌ وَأَمَّا كَيْفِيَّةُ الْوُجُوبِ فَأَنْوَاعٌ)
☀ الدر المختار:
(وَلَوْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ فَائِتَةٌ وَأَوْصَى بِالْكَفَّارَةِ يُعْطَى لِكُلِّ صَلَاةٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ) كَالْفِطْرَةِ (وَكَذَا حُكْمُ الْوِتْرِ) وَالصَّوْمِ. وَإِنَّمَا يُعْطِي (مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ) …… (وَلَوْ قَضَاهَا وَرَثَتُهُ بِأَمْرِهِ لَمْ يَجُزْ)؛ لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ بَدَنِيَّةٌ، (بِخِلَافِ الْحَجِّ)؛ لِأَنَّهُ يَقْبَلُ النِّيَابَةَ، وَلَوْ أَدَّى لِلْفَقِيرِ أَقَلَّ مِنْ نِصْفِ صَاعٍ لَمْ يَجُزْ، وَلَوْ أَعْطَاهُ الْكُلَّ جَازَ، وَلَوْ فَدَى عَنْ صَلَاتِهِ فِي مَرَضِهِ لَا يَصِحُّ، بِخِلَافِ الصَّوْمِ.
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ فَائِتَةٌ إلَخْ) أَيْ بِأَنْ كَانَ يَقْدِرُ عَلَى أَدَائِهَا وَلَوْ بِالْإِيمَاءِ، فَيَلْزَمُهُ الْإِيصَاءُ بِهَا، وَإِلَّا فَلَا يَلْزَمُهُ وَإِنْ قَلَّتْ، بِأَنْ كَانَتْ دُونَ سِتِّ صَلَوَاتٍ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَاللهُ أَحَقُّ بِقَبُولِ الْعُذْرِ مِنْهُ». وَكَذَا حُكْمُ الصَّوْمِ فِي رَمَضَانَ إنْ أَفْطَرَ فِيهِ الْمُسَافِرُ وَالْمَرِيضُ وَمَاتَا قَبْلَ الْإِقَامَةِ وَالصِّحَّةِ، وَتَمَامُهُ فِي «الْإِمْدَادِ». ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّهُ إذَا أَوْصَى بِفِدْيَةِ الصَّوْمِ يُحْكَمُ بِالْجَوَازِ قَطْعًا؛ لِأَنَّهُ مَنْصُوصٌ عَلَيْهِ، وَأَمَّا إذَا لَمْ يُوصِ فَتَطَوَّعَ بِهَا الْوَارِثُ فَقَدْ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي «الزِّيَادَاتِ»: إنَّهُ يُجْزِيهِ إنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، فَعَلَّقَ الْإِجْزَاءَ بِالْمَشِيئَةِ؛ لِعَدَمِ النَّصِّ، وَكَذَا عَلَّقَهُ بِالْمَشِيئَةِ فِيمَا إذَا أَوْصَى بِفِدْيَةِ الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّهُمْ أَلْحَقُوهَا بِالصَّوْمِ احْتِيَاطًا؛ لِاحْتِمَالِ كَوْنِ النَّصِّ فِيهِ مَعْلُولًا بِالْعَجْزِ فَتَشْمَلُ الْعِلَّةُ الصَّلَاةَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعْلُولًا تَكُونُ الْفِدْيَةُ بِرًّا مُبْتَدَأً يَصْلُحُ مَاحِيًا لِلسَّيِّئَاتِ فَكَانَ فِيهَا شُبْهَةٌ كَمَا إذَا لَمْ يُوصِ بِفِدْيَةِ الصَّوْمِ، فَلِذَا جَزَمَ مُحَمَّدٌ بِالْأَوَّلِ وَلَمْ يَجْزِمْ بِالْأَخِيرَيْنِ، فَعُلِمَ أَنَّهُ إذَا لَمْ يُوصِ بِفِدْيَةِ الصَّلَاةِ فَالشُّبْهَةُ أَقْوَى. وَاعْلَمْ أَيْضًا أَنَّ الْمَذْكُورَ فِيمَا رَأَيْته مِنْ كُتُبِ عُلَمَائِنَا فُرُوعًا وَأُصُولًا إذَا لَمْ يُوصِ بِفِدْيَةِ الصَّوْمِ يَجُوزُ أَنْ يَتَبَرَّعَ عَنْهُ وَلِيُّهُ. وَالْمُتَبَادِرُ مِنْ التَّقْيِيدِ بِالْوَلِيِّ أَنَّهُ لَا يَصِحُّ مِنْ مَالِ الْأَجْنَبِيِّ. وَنَظِيرُهُ مَا قَالُوهُ فِيمَا إذَا أَوْصَى بِحَجَّةِ الْفَرْضِ فَتَبَرَّعَ الْوَارِثُ بِالْحَجِّ لَا يَجُوزُ، وَإِنْ لَمْ يُوصِ فَتَبَرُّعُ الْوَارِثِ إمَّا بِالْحَجِّ بِنَفْسِهِ أَوْ بِالْإِحْجَاجِ عَنْهُ رَجُلًا يُجْزِيهِ. وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَوْ تَبَرَّعَ غَيْرُ الْوَارِثِ لَا يُجْزِيهِ، نَعَمْ وَقَعَ فِي «شَرْحِ نُورِ الْإِيضَاحِ» لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ التَّعْبِيرُ بِالْوَصِيِّ أَوِ الْأَجْنَبِيِّ فَتَأَمَّلْ، وَتَمَامُ ذَلِكَ فِي آخِرِ رِسَالَتِنَا الْمُسَمَّاةِ «شِفَاءَ الْعَلِيلِ فِي بُطْلَانِ الْوَصِيَّةِ بِالْخَتَمَاتِ وَالتَّهَالِيلِ» …… (قَوْلُهُ: وَإِنَّمَا يُعْطِي مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ) أَيْ فَلَوْ زَادَتِ الْوَصِيَّةُ عَلَى الثُّلُثِ لَا يَلْزَمُ الْوَلِيَّ إخْرَاجُ الزَّائِدِ إلَّا بِإِجَازَةِ الْوَرَثَةِ. وَفِي «الْقُنْيَةِ»: أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ إلَى صَلَوَاتِ عُمْرِهِ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَجَازَ الْغَرِيمُ وَصِيَّتَهُ لَا تَجُوزُ؛ لِأَنَّ الْوَصِيَّةَ مُتَأَخِّرَةٌ عَنِ الدَّيْنِ، وَلَمْ يَسْقُطْ الدَّيْنُ بِإِجَازَتِهِ. اهـ. وَفِيهَا أَوْصَى بِصَلَوَاتِ عُمْرِهِ وَعُمْرُهُ لَا يُدْرَى فَالْوَصِيَّةُ بَاطِلَةٌ. ثُمَّ رَمَزَ إنْ كَانَ الثُّلُثُ لَا يَفِي بِالصَّلَوَاتِ جَازَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْهَا لَمْ يَجُزْ. اهـ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ: لَا يَفِي بِغَلَبَةِ الظَّنِّ؛ لِأَنَّ الْمَفْرُوضَ أَنَّ عُمْرَهُ لَا يُدْرَى، وَذَلِكَ كَأَنْ يَفِيَ الثُّلُثُ بِنَحْوِ عَشْرِ سِنِينَ مَثَلًا وَعُمْرُهُ نَحْوُ الثَّلَاثِينَ. وَوَجْهُ هَذَا الْقَوْلِ الثَّانِي ظَاهِرٌ؛ لِأَنَّ الثُّلُثَ إذَا كَانَ لَا يَفِي بِصَلَوَاتِ عُمْرِهِ تَكُونُ الْوَصِيَّةُ بِجَمِيعِ الثُّلُثِ يَقِينًا وَيَلْغُو الزَّائِدُ عَلَيْهِ، بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ يَفِي بِهَا وَيَزِيدُ عَلَيْهَا فَإِنَّ الْوَصِيَّةَ تَبْطُلُ؛ لِجَهَالَةِ قَدْرِهَا بِسَبَبِ جَهَالَةِ قَدْرِ الصَّلَوَاتِ، فَتَدَبَّرْ. (باب قضاء الفوائت)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں