89

مصنوعی بال لگوانا

سوال
 میرے سر کے بال نہیں ھیں ، میں مصنوعی بال لگانا چاہتاہوں کیا حکم ھے؟

جواب
سر پر مصنوعی بال لگانے کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ بال دوسرے انسان کے ہوں تو ان کا لگانا گناہِ کبیرہ ہے، اور انسانی بال لگوانے والوں  پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے۔اور  اگر مصنوعی بال انسان یا خنزیر  کے نہ ہوں تو ان کا لگوانا جائز ہے۔  البتہ مصنوعی وگ لگانے میں اگر کسی کو دھوکا دینا مقصد ہو تو یہ بھی درست نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

“عن ابن عمر  أن النبی ﷺ قال : لعن الله الواصلة و المستوصلة و الواشمة و المستوشمة”. ( متفق علیه ، المشکاة : ٣٨١ )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے لعنت فرمائی اس عورت پر جو اپنے بالوں میں کسی دوسرے کے بالوں کا جوڑ لگائے اور اس عورت پر جوکسی دوسری عورت کے بالوں میں اپنے بالوں کا جوڑ لگائے اور جسم گودنے اور گدوانے والی پر ( بھی لعنت فرمائی )۔

سر کے مصنوعی بال اگر گوند سے اس طرح چپکائے گئے کہ وہ جزو بدن بن گئے اور اصل سر تک پانی پہنچانا متعذر ہوگیا اور جس گوند سے چپکائے گئے وہ سرکا جز  بن گیا تو مصنوعی بالوں کا مسح  ہی کافی ہے، اور اگر وہ آسانی سے جدا ہوسکتے ہوں تو اس کو ہٹا کر مسح کرنا چاہیے، اگر مصنوعی بالوں پر مسح کرنے کی صورت میں سر کے چوتھائی حصے تک پانی کی تری نہیں پہنچی تو سر کا مسح ادا نہیں ہوگا۔

اور اگر کسی انسان کے اپنے ہی بال ایک جگہ سے نکال کر اسی انسان کے سر میں بذریعہ آپریشن ان کی پیوند کاری کرلی جائے اس طور پر کہ وہ بال اصل بالوں کی طرح جسم کا حصہ بن جائیں، اور مستقل بڑھیں بھی، تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی نے اس طرح بال لگوالیے تو اس پر مسح کرنے سے مسح ہوجائے گا، لیکن بال گرنے کی وجہ سے اضافی بال لگوانا  ایسی ضرورت نہیں ہے جس کی وجہ سے آپریشن کی تکلیف و مشقت برداشت کی جائے، اس لیے اس آپریشن سے اجتناب کرنا چاہیے۔

“أنّ الغسل في الاصطلاح غسل البدن واسم البدن یقع علی الظاہر والباطن إلا ما یتعذر إیصال الماء إلیه أو یتعسر،کما في البحر”. (شامي: ۱/۲۸۴)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 372):

“وفي اختيار: ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام، سواء كان شعرها أو شعر غيرها؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة والنامصة والمتنمصة». النامصة التي تنتف الشعر من الوجه، والمتنمصة التي يفعل بها ذلك.

(قوله: سواء كان شعرها أو شعر غيرها)؛ لما فيه من التزوير، كما يظهر مما يأتي، وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضاً، لكن في التتارخانية: وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأ…….
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں