93

ماہِ ذو الحجہ کے نفلی روزوں کے ضروری مسائل

ماہِ ذو الحجہ کے نفلی روزوں کے ضروری مسائل

چوں کہ ماہِ ذو الحجہ میں بہت سے مسلمان نفلی روزے رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اس لیے یہاں نفلی روزوں سے متعلق چند اہم مسائل درج کیے جاتے ہیں تاکہ سہولت رہے۔

▫️ مسئلہ: ماہِ ذو الحجہ کے روزے چوں کہ نفلی روزے ہیں اس لیے ان کے احکام بھی عام نفلی روزے کی طرح ہیں، جن میں سے چند ضروری مسائل درج کیے جاتے ہیں:

📿 سال کے پانچ دن روزے رکھنا ناجائز ہے:
یوں تو ماہِ ذو الحجہ کے پورے مہینے میں روزے رکھنا بڑی فضیلت رکھتا ہے، پھر پورے مہینے میں سے عشرہ ذو الحجہ کے روزوں کی فضیلت دیگر دنوں کی بنسبت بہت زیادہ ہے، البتہ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ عشرہ ذو الحجہ میں نفلی روزے 9 ذو الحجہ تک ہیں، پھر 10 ذو الحجہ سے لے کر 13 ذو الحجہ تک 4 دن روزے رکھنا جائز نہیں، کیوں کہ مسئلہ یہ ہے کہ سال کے پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنا ناجائز اور گناہ ہے:
▪عید الفطر کا دن۔
▪عید الاضحیٰ کے چار دن یعنی دس ذو الحجہ سے لے کر 13 ذو الحجہ تک۔ (رد المحتار مع الدر المختار)
☀ سنن دار قطنی میں ہے:
34 – عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس: أن النبي ﷺ نهى عن صوم خمسة أيام في السنة: يوم الفطر ويوم النحر وثلاثة أيام التشريق.
دیگر متعدد احادیث اور آثار سے اس کے ضعف کا ازالہ ہوجاتا ہے۔

📿 ماہِ ذو الحجہ کے نفلی روزوں میں قضا روزوں کی نیت کرنا:
ماہِ ذو الحجہ کے نفلی روزوں میں قضا روزوں کی نیت کرنا درست نہیں، بلکہ قضا روزے الگ سے رکھنے ضروری ہیں۔

📿 ماہِ ذو الحجہ کا نفلی روزہ فاسد ہوجانے کا حکم:
ماہِ ذو الحجہ کا نفلی روزہ ٹوٹ جائے تو اس کی قضا لازم ہوتی ہے، اسی طرح اگر جان بوجھ کر توڑ دیا تب بھی صرف قضا ہی لازم ہوگی، یہی حکم ہر نفلی روزے کا بھی ہے۔

📿 کن چیزوں کی وجہ سے نفلی روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
یہ اصولی بات یاد رہے کہ نفلی روزہ بھی انھی وجوہات کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے جن کی وجہ سے فرض روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے یہاں ان وجوہات کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

📿 روزے کی نیت کے مسائل روزے کے لیے نیت کا حکم:
روزہ چاہے فرض ہو یا نفلی اس کے لیے نیت فرض ہے،بغیر نیت کے روزہ نہیں ہوتا۔ (رد المحتار)

📿 نیت کی حقیقت:
نیت دل کے ارادے اور عزم کا نام ہے کہ دل میں یہ نیت ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے روزہ رکھتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیت کا تعلق دل ہی کے ساتھ ہے اور حقیقی نیت دل ہی کی ہوا کرتی ہے، اس لیے دل میں نیت کرلی تو یہ بھی کافی ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بھی درست ہے لیکن ضروری نہیں۔ اگر کوئی شخص دل ہی میں نیت کرلیتا ہے اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا نہیں کرتا تو یہ بالکل جائز ہے۔ (رد المحتار)

📿 عربی زبان میں نیت کرنے کا حکم:
نیت کے الفاظ ہر شخص اپنی اپنی زبان میں بھی ادا کرسکتا ہے، اسی طرح نیت عربی میں کرنا بھی درست ہے لیکن ضروری نہیں۔

📿 عوام میں مشہور عربی نیت کا حکم:
آج کل عوام میں نیت کے یہ الفاظ مشہور ہیں: ’’وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ‘‘، حتی کہ بعض لوگ تو اس کو سحری کی دعا سمجھتے ہیں بلکہ متعدد ذرائعِ اِبلاغ کے ذریعےاس کی اشاعت کا بھرپور اہتمام بھی کرتے ہیں، یاد رہے کہ یہ سحری کی دعا تو ہرگز نہیں، البتہ ان الفاظ کے ساتھ نیت کرنا درست تو ہے لیکن یہ الفاظ قرآن وسنت سے ثابت نہیں، اس لیے ان الفاظ کو سنت یا ضروری نہ سمجھا جائے۔ اسی طرح اس کی اشاعت کا اس قدر اہتمام بھی ایک بے بنیاد بات ہے کیوں کہ اس سے بڑی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور لوگ صحیح مسئلے سے ناواقف رہتے ہیں۔

📿 سحری کرنا بھی نیت کے قائم مقام ہے:
سحری کرنا بھی نیت کے قائم مقام ہے البتہ اگر سحری کرتے وقت یہ نیت تھی کہ روزہ نہیں رکھنا ہے تو ایسی صورت میں سحری نیت کے قائم مقام نہیں ہوگی بلکہ روزہ رکھنے کے لیے الگ سے نیت ضروری ہے۔

📿 روزے کی نیت کب تک کی جاسکتی ہے؟
نفلی روزے کی نیت کب تک کی جاسکتی ہے؟ اس مسئلہ کی تفصیل سے قبل تمہید کے طور پر کچھ وضاحت ذکر کرنا ضروری ہے۔

📿 نِصْفُ النَّہار کی حقیقت:
’’نصف النہار‘‘ کے معنی ہیں: آدھا دن۔ ’’نصف النہار‘‘ کی دو اقسام ہیں:
1⃣ نصف النہار عرفی:
سورج طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک پورے دن کا جتنا بھی وقت ہے اس کے آدھے وقت کو ’’نصف النہار عرفی‘‘ کہتے ہیں، یعنی عرف میں آدھا دن یہیں تک ہوتا ہے۔ اس کو زوال بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نقشوں میں جو زوال کا وقت لکھا ہوتا ہے تو اس سے یہی نصف النہار عرفی ہی مراد ہوتا ہے، جس کے بعد ظہر کی نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
2️⃣ نصف النہار شرعی:
صبح صادق سے لے کر سورج غروب ہونے تک پورے دن کا جتنا بھی وقت ہے اس کے آدھے وقت کو ’’نصف النہار شرعی‘‘ کہتے ہیں، یعنی شریعت کی نگاہ میں آدھا دن یہیں تک ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نصف النہار شرعی کا وقت نصف النہار عرفی سے کچھ پہلے ہوتا ہے۔

📿 مسئلہ کی تفصیل:
ماقبل کی وضاحت کے بعد مسئلہ سمجھیے کہ:
1⃣ نفلی روزے کی نیت رات سے بھی درست ہے اور سحری کے وقت یعنی صبح صادق سے پہلے بھی درست ہے، البتہ جس شخص نے سحری کے وقت بھی نیت نہیں کی یہاں تک کہ صبح صادق کا وقت داخل ہوگیا تو وہ ’’نصف النہار شرعی‘‘ سے پہلے پہلے روزے کی نیت کرسکتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ صبح صادق طلوع ہونے کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ اسی طرح وہ حضرات جو سحری سے رہ جاتے ہوں اور صبح صادق کے بعد ہی بیدار ہوجاتے ہوں تو ان کے لیے بھی اتنی سہولت ہے کہ وہ نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے نیت کرکے روزہ رکھ لیا کریں اس شرط کے ساتھ کہ صبح صادق کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو اور نہ ہی روزہ توڑنے والا کوئی کام کیا ہو۔
2️⃣ جس شخص نے ’’نصف النہارشرعی‘‘ تک بھی نیت نہیں کی تو اس کے بعد اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔
(رد المحتار علی الدر المختار، فتاویٰ رحیمیہ، مراقی الفلاح مع نور الایضاح، بہشتی زیور)

📿 قضا اور کفارے کے روزوں کی نیت کب تک کی جاسکتی ہے؟
قضا اور کفارے کے روزوں کی نیت صبح صادق سے پہلے پہلے کرنی ضروری ہے، اگر کسی نے صبح صادق سے پہلے نیت نہیں کی تو صبح صادق کے بعد ان روزوں کی نیت معتبر نہیں۔ (بہشتی زیور، رد المحتار)

🌼 سحری کے احکام

📿 سحری کا وقت رات ہی کو ہے:
جب صبح صادق طلوع ہونے کا وقت قریب آتا ہے اور رات ختم ہونے لگتی ہے تو رات ختم ہونے سے پہلے پہلے سحری بند کرلینی ضروری ہے، کیوں کہ سحری کا وقت رات کو ہے نہ کہ صبح کو، اس لیے جو لوگ صبح صادق کا وقت داخل ہوجانے کے بعد بھی کھاتے پیتے ہیں ان کا روزہ ہرگز درست نہیں۔ (اعلاء السنن)

📿 فجر کی اذان کے دوران سحری بند کرنے کا حکم:
بہت سے لوگ فجر کی اذان کے دوران بھی کھاتے پیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک اذان ختم نہ ہوجائے اس وقت تک سحری کا وقت باقی رہتا ہے، یاد رہے کہ یہ کھلی غلطی ہے، کیوں کہ اذان صبح صادق طلوع ہوجانے کے بعد ہوتی ہے جبکہ سحری رات ہی کو بند کرنی ضروری ہے، اس لیے جو لوگ اذان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں وہ درحقیقت رات کے بجائے صبح کو سحری بند کررہے ہوتے ہیں حالاں کہ سحری کا وقت رات ہی کو ہے نہ کہ دن کو، اس لیے ایسے حضرات کا روزہ ہرگز درست نہیں۔

📿 سحری بند کرنے میں فجر کی اذان کا کوئی اعتبار نہیں:
ماقبل کی تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ سحری بند کرنے میں اصل اعتبار اذان کا نہیں بلکہ صبح صادق کا ہے کہ جب صبح صادق طلوع ہوجائے اس کے بعد کھانے پینے سے روزہ ہوتا ہی نہیں، اگرچہ اذان نہیں ہوئی ہو، کیوں کہ اذان تو صبح صادق کے بعدہی ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح بعض مساجد میں صبح صادق سے پہلے ہی فجر کی اذان دے دیتے ہیں، ایسی صورت میں بھی اصل اعتبار صبح صادق ہی کا ہوگا کہ اگرچہ اذان ہوچکی ہو لیکن چوں کہ صبح صادق طلوع نہیں ہوا ہوتا اس لیے صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے تک سحری کھانا جائز ہے۔
(امداد الفتاویٰ ودیگر کتب)

⭕ تنبیہ: بہتر یہ ہے کہ صبح صادق طلوع ہونے سے چند منٹ پہلے روزہ بند کرلیا جائے تاکہ احتیاط رہے۔

📿 جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کا حکم:
جنابت کی حالت میں بھی روزہ رکھنا درست ہے، اگر کسی شخص کو سحری کے وقت غسل کرنے کی حاجت ہو تو بہتر تو یہ ہے کہ غسل کرکے سحری کرلے، لیکن اگر غسل کرنے کاموقع نہ ہو تو منہ ہاتھ دھو کر سحری کرلے، اور غسل بعد میں کرلے اگرچہ یہ غسل صبح صادق طلوع ہوجانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ (رد المحتار، مراقی الفلاح)

🌼 سحری اور افطاری سے متعلق نہایت ہی قیمتی اور اہم مشورے

📿 سحری اور افطاری کے لیے مستند نقشہ اپنے پاس رکھیے:
بہترین صورت یہ ہے کہ سحر وافطار کے اوقات سے متعلق اپنے شہر اور علاقے کا کوئی مستند نقشہ اپنے پاس رکھا جائے، پھر اسی نقشے کا اعتبار کرتے ہوئے سحر وافطار کا اہتمام کیا جائے کہ نقشے میں جو صبح صادق کا وقت لکھا ہوتا ہے اس سے پہلے روزہ بند کرلیا جائے، اور جو مغرب کا وقت لکھا ہوتا ہے اس سے پہلے ہرگز افطاری نہ کی جائے، ان باتوں پر عمل کرکے غلطی سے حفاظت ہوسکتی ہے۔ سحر و افطار کے اوقات معلوم کرنے کے لیے اپنے شہر کے کسی معتبر نقشے سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جائے جس میں سحر وافطار کے اوقات درج ہوں۔

📿 گھڑیاں ملک کے معیاری وقت کے مطابق کیجیے!
اوقاتِ نماز اور سحر وافطار کے نقشے ملک کے معیاری وقت کے مطابق ہی بنائے جاتے ہیں، اس لیے ہر شخص کو اپنی گھڑی اور اپنے گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کی گھڑیاں ملک کے معیاری وقت کے مطابق ہی رکھنی چاہیے، اسی طرح مساجد کی گھڑیاں بھی اپنے ملک کے معیاری وقت کے مطابق کرنی چاہیے کیوں کہ نمازوں کے اوقات اور سحر وافطار میں اس کی بڑی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ اس سے غفلت کے نتیجے میں متعدد مسائل اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مساجد کی انتظامیہ کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

📿 عام ایام میں روزہ بند کرنے سے متعلق اہم تنبیہ:
ماہِ رمضان میں عمومًا صبح صادق کے بعد جلد ہی فجر کی اذان دے دی جاتی ہے تاکہ جلد ہی فجر کی جماعت ادا کی جاسکے، لیکن عام ایام میں چوں کہ فجر کی جماعت اندھیرے کی بجائے روشنی میں ادا کی جاتی ہےاس لیے بہت سی مساجد میں اذان بھی صبح صادق کے بعد کچھ تاخیر سے دی جاتی ہے، اس صورتحال میں اذان کے ساتھ کھانے پینے سے روزہ نہ ہونے کا مسئلہ تو واضح ہے ہی لیکن اذان سے پہلے بھی کھانے پینے سے روزہ نہ ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے مناسب بلکہ ضروری یہی ہے کہ صبح صادق داخل ہونے سے پہلے ہی روزہ بند کرنے کا اہتمام کیا جائے اور اس کے لیے اوقاتِ نماز اور سحر وافطار کے نقشے کا سہارا لیا جائے۔

🌼 افطار کے احکام
📿 افطار کا وقت:
جب سورج غروب ہوجائے اور مغرب کا وقت داخل ہوجائے تو روزہ مکمل ہوجاتا ہے اور یہی افطار کرنے کا اصل وقت ہے، اس لیے مغرب کا وقت داخل ہوجانے کے بعد ہی افطار جائز ہے، اس سے پہلے افطار کرنا ہرگز جائز نہیں۔ (اعلاء السنن، رد المحتار)

📿 روزہ افطار کرنے میں مغرب کا وقت داخل ہونے کا اعتبار ہے:
روزہ افطار کرنے میں اصل اعتبار مغرب کا وقت داخل ہونے کا ہے، یعنی جب مغرب کا وقت داخل ہوجائے تو افطار کرنا جائز ہے اگرچہ اذان نہیں ہوئی ہو۔اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اگر کسی مسجد میں مغرب کا وقت داخل ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی گئی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، یہ اذان نہ تو مغرب کی نماز کے لیے معتبر ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے افطار کیا جاسکتا ہے، بلکہ افطار کے لیے مغرب کے وقت کے داخل ہونے کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ (اعلاءالسنن، رد المحتار ودیگر کتب)

📿 افطار کرنے کی دعا:
اَللّٰهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِكَ اَفْطَرْتُ.
▪ ترجمہ: اے اللہ! میں نے آپ ہی کے لیے روزہ رکھا اور آپ ہی کے رزق پر افطار کیا۔
(سنن ابی داود حدیث:2358، پُرنور دعائیں از شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دام ظلہم)
ایک روایت میں یہ دعا بھی وارد ہوئی ہے:
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ.
▪ ترجمہ: پیاس جاتی رہی اوررگیں ترہوگئیں اور ان شاء اللہ اجر ثابت ہوگیا۔
(سنن ابی داود حدیث: 2357)

🌹 فائدہ: بعض اہلِ علم کے نزدیک مذکورہ دو دعاؤں میں سے پہلی دعا افطار سے پہلے جبکہ دوسری دعا افطار کے بعد پڑھی جائے۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں