91

مال فروخت نہ ہونے کی صورت میں واپس لینے کی شرط لگانے کا حکم

📿 مال فروخت نہ ہونے کی صورت میں واپس لینے کی شرط لگانے کا حکم:
آجکل یہ معاملہ بہت رواج پاچکا ہے کہ دوکان دار اور کمپنی کے مابین یہ معاملہ طے پاتا ہے کہ اگر مال فروخت نہ ہوا تو دوکان دار وہ مال کمپنی کو واپس کرے گا۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا مال فروخت نہ ہونے کی صورت میں واپس لینے کی شرط لگانا جائز ہے؟ تو واضح رہے کہ آجکل یہ شرط بہت زیادہ عام ہوچکی ہے حتی کہ اس پر فریقین راضی ہوتے ہیں اور یہ باہمی نزاع کا سبب بھی نہیں بنتی، اس لیے موجودہ صورتحال میں باہمی رضامندی سے فی نفسہٖ یہ شرط لگانا جائز ہے، اس کی وجہ سے معاملہ فاسد نہیں ہوتا۔
البتہ اگر یہ شرط بعد میں فریقین کے لیے باہمی تنازع کا سبب بن رہی ہو تو ایسی صورت میں یہ شرط لگانا درست نہ ہوگا، بلکہ اس سے اجتناب کرنا ضروری ہوگا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: فتویٰ جامعہ دار العلوم کراچی نمبر: 1800/ 98، مؤرخہ 14/ 7/ 37ھ۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں