95

قربانی کے جانور میں شرکت کے چند متفرق مسائل

قربانی کے جانور میں شرکت کے چند متفرق مسائل

قربانی کے جانور میں ایک سے زائد افراد کی شرکت سے متعلق گزشتہ قسط میں چند اہم مسائل بیان ہوچکے ہیں، ذیل میں اسی سے متعلق مزید چند مسائل ذکر کیے جاتے ہیں۔

📿 قربانی کے شُرکاء کے عقیدے سے متعلق اہم مسئلہ:
1⃣ قربانی کے جانور میں شریک ہونے والے تمام شُرکاء کا مسلمان ہونا ضروری ہے، اگر کوئی ایک شریک بھی ان میں سے مسلمان نہ ہو تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ضروریاتِ دین کو تسلیم کیا جائے، ان میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔اس کی تفصیل عقائد کی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے۔
2️⃣ ایسے شدید گمراہ افراد کو بھی قربانی میں ہرگز شریک نہ کیا جائے جن کا اسلام سے تعلق مشکوک ہو یا جن کے کفر اور اسلام کا معاملہ واضح نہ ہو۔
3⃣ آج کفر والحاد اور گمراہی کا دور دورہ ہے اس لیے کوشش یہی ہونی چاہیے کہ تمام شُرکاء صحیح العقیدہ مسلمان ہوں تاکہ قربانی کی یہ عظیم عبادت بخوبی ادا کی جاسکے۔ (الدر المختار مع رد المحتار،فتاویٰ عالمگیری)
☀ بدائع الصنائع میں ہے:
وَلَوْ كان أَحَدُ الشُّرَكَاءِ ذِمِّيًّا كِتَابِيًّا أو غير كِتَابِيٍّ وهو يُرِيدُ اللَّحْمَ أو أَرَادَ الْقُرْبَةَ في دِينِهِ لم يُجْزِهِمْ عِنْدَنَا؛ لِأَنَّ الْكَافِرَ تَتَحَقَّقُ منه الْقُرْبَةُ فَكَانَتْ نِيَّتُهُ مُلْحَقَةً بِالْعَدَمِ فَكَانَ مُرِيدًا لِلَّحْمِ، وَالْمُسْلِمُ لو أَرَادَ اللَّحْمَ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا فَالْكَافِرُ أَوْلَى.
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَإِنْ كان كُلُّ وَاحِدٍ منهم صَبِيًّا أو كان شَرِيكُ السَّبْعِ من يُرِيدُ اللَّحْمَ أو كان نَصْرَانِيًّا وَنَحْوَ ذلك لَا يَجُوزُ لِلْآخَرَيْنِ أَيْضًا، كَذَا في «السِّرَاجِيَّةِ»، وَلَوْ كان أَحَدُ الشُّرَكَاءِ ذِمِّيًّا كِتَابِيًّا أو غير كِتَابِيٍّ وهو يُرِيدُ اللَّحْمَ أو يُرِيدُ الْقُرْبَةَ في دِينِهِ لم يُجْزِئْهُمْ عِنْدَنَا؛ لِأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَتَحَقَّقُ منه الْقُرْبَةُ فَكَانَتْ نِيَّتُهُ مُلْحَقَةً بِالْعَدَمِ فَكَأَنْ يُرِيدَ اللَّحْمَ، وَالْمُسْلِمُ لو أَرَادَ اللَّحْمَ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا.

📿 قربانی کے شُرکاء کا مال حلال ہونا ضروری ہے:
1⃣ قربانی کے جانور میں شریک ہونے والے تمام افراد کا مال حلال ہونا ضروری ہے، اگر کسی شریک کا مال حرام ہو اور اس کے باوجود بھی اس کو شریک کیا گیا تو متعدد اہلِ علم کے نزدیک تمام شُرکاء میں سے کسی کی بھی قربانی ادا نہیں ہوگی۔
2️⃣ اگر کسی شریک کا اکثر مال حلال ہو اور یہ علم نہ ہو کہ وہ حلال رقم دے رہا ہے یا حرام تو ایسی صورت اس کو شریک کرنا درست ہے۔
3⃣ جس شریک کے مال سے متعلق حرام ہونے کا علم نہ ہو تو اس کی تحقیق ضروری نہیں۔

📿 قربانی کا جانور خریدنے کے بعد کسی کو شریک کرنے کا حکم:
کسی صاحبِ نصاب شخص نے اپنے لیے قربانی کا بڑا جانور خریدا، پھر اس میں کسی اور کو شریک کرنے کا ارادہ ہوا تو یہ جائز تو ہے البتہ بہتر نہیں، بلکہ بہتر یہی ہے کہ پہلے سے شریک کرنے کی نیت ہونی چاہیے، لیکن اگر غیر صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کی نیت سے بڑا جانور خریدا اور خریدتے وقت کسی کو شریک کرنے کی نیت نہیں تھی تو اب اس کے لیے کسی اور کو شریک کرنا جائز نہیں۔ (فتاوی ٰعالمگیری، بزازیہ، مجمع الانہر، فتاوی ٰمحمودیہ)
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَلَوِ اشْتَرَى بَقَرَةً يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ بها ثُمَّ أَشْرَكَ فيها سِتَّةً يُكْرَهُ وَيُجْزِيهِمْ؛ لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ سَبْعِ شِيَاهٍ حُكْمًا، إلَّا أَنْ يُرِيدَ حين اشْتَرَاهَا أَنْ يُشْرِكَهُمْ فيها فَلَا يُكْرَهُ، وَإِنْ فَعَلَ ذلك قبل أَنْ يَشْتَرِيَهَا كان أَحْسَنَ، وَهَذَا إذَا كان مُوسِرًا وَإِنْ كان فَقِيرًا مُعْسِرًا فَقَدْ أَوْجَبَ بِالشِّرَاءِ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يُشْرِكَ فيها.
(فَصْلٌ وَأَمَّا شَرَائِطُ جَوَازِ إقَامَةِ الْوَاجِبِ)
☀ البحر الرائق میں ہے:
وَلَوِ اشْتَرَى بَقَرَةً يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ، ثُمَّ اشْتَرَكَ فِيهَا مَعَهُ سِتَّةٌ أَجْزَأَهُ اسْتِحْسَانًا، وَالْقِيَاسُ لَا يُجْزِئُ، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ؛ لِأَنَّهُ أَعَدَّهَا قُرْبَةً فَيَمْتَنِعُ بَيْعُهَا، وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّهُ قَدْ يَجِدُ بَقَرَةً سَمِينَةً وَقَدْ لَا يَظْفَرُ بِالشُّرَكَاءِ وَقْتَ الشِّرَاءِ فَيَشْتَرِيهَا، ثُمَّ يَطْلُبُ الشُّرَكَاءَ وَلَوْ لَمْ يَجُزْ ذَلِكَ لَحَرَّجُوا وَهُوَ مَدْفُوعٌ شَرْعًا، وَالْأَحْسَنُ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ قَبْلَ الشِّرَاءِ.

📿 قربانی کے شُرکاء کے لیے چند اہم ہدایات:
1⃣ قربانی میں شریک ہونے والے تمام حضرات قربانی کے تمام مراحل میں باہمی اتحاد، اتفاق، محبت، اعلیٰ اخلاق، ایثار اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں اور ہر قسم کے تنازعات سے اجتناب کریں۔
2️⃣ قربانی میں شریک ہونے والے تمام حضرات قربانی کے تمام مراحل میں ہر کام باہمی رضامندی سے طے کریں، اور اپنی ذاتی رائے پر بے جا اصرار اور ضد کرنے سے بالکلیہ اجتناب کریں۔
3⃣ قربانی میں شریک ہونے والے تمام حضرات قربانی کے تمام مراحل میں شریعت کی مکمل پاسداری کی بھرپور کوشش کریں، اور اس کے مقابلے میں اپنی قومی، قبائلی یا ذاتی رائے پر اصرار کرنے سے کلی اجتناب کریں کیوں کہ قربانی عبادت ہے اور عبادت تبھی قبول ہوسکتی ہے جب وہ شریعت کے مطابق انجام دی جائے۔ بعض لوگ شریعت کے مقابلے میں اپنی آبائی، علاقائی یا ذاتی رائے پر اصرار کرتے ہیں، جو کہ ناجائز ہے، ایسے حضرات دیگر شُرکاء کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے اگر شریعت کی پاسداری کو اہمیت نہ دینے والے حضرات سمجھانے کے باوجود بھی بات نہ مانیں تو ان کے ساتھ قربانی میں شرکت سے اجتناب کیا جائے۔
4️⃣ بعض لوگ محض رشتہ داری یا تعلقات کی رعایت میں یا لوگوں کے طعن وملامت کے خوف کی وجہ سے حرام مال والے حضرات کو بھی قربانی میں شریک کرلیتے ہیں جو کہ ناجائز ہے جس کا حکم ماقبل میں بیان ہوچکا۔
5️⃣ قربانی کےتمام شرکاء قربانی کے تمام مراحل میں اپنی نیت خالص رکھیں کہ قربانی صرف اللہ ہی کی رضا کے لیے کی جارہی ہے، کیوں کہ اگر کسی ایک شریک کی نیت اللہ کی رضا کی خاطر قربانی کرنے کی نہ ہو بلکہ محض گوشت حاصل کرنے کی نیت ہو تو ایسی صورت میں کسی کی بھی قربانی درست نہ ہوگی۔
6️⃣ قربانی میں شریک ہونے والے تمام حضرات قربانی کے تمام مراحل میں کام کاج اور خدمت سے جی نہ چُرائیں بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ کر خدمت سرانجام دینے کی کوشش کریں اور اس کو اپنے لیے سعادت سمجھیں، کیوں کہ خدمت سے جی چُرانے کی صورت میں ایک تو خدمت کے اجر وثواب سے محرومی ہاتھ آتی ہے اور پھر باہمی رنجشیں بھی جنم لیتی ہیں، جس کا نقصان واضح ہے۔
7️⃣ قربانی میں شریک ہونے والے تمام حضرات قربانی کے تمام مراحل میں مالی معاملات بالکل صاف شفاف رکھیں اور ان میں سستی، غفلت، دھوکہ، خیانت اور دیگر ہر قسم کی غیر شرعی اور غیر اخلاقی باتوں سے خصوصی اجتناب کریں، کیوں کہ یہ باتیں تو ویسے بھی بُری اور ناجائز ہیں لیکن قربانی جیسی عبادت کے معاملے میں تو ان کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں