107

قربانی کے جانوروں میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں؟

📿 قربانی کے جانوروں میں کتنے افراد شریک ہوسکتے ہیں
1⃣ قربانی کے بڑے جانور یعنی اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل، بھینس، بھینسا میں ایک سے لے کر سات تک افراد شریک ہوسکتے ہیں، چاہے جفت افراد ہوں یا طاق، لیکن سات سے زیادہ افراد کی شرکت جائز نہیں۔
(رد المحتار، بدائع الصنائع، فتاویٰ عالمگیری، جواہر الفقہ، اعلاء السنن)
2️⃣ قربانی کے چھوٹے جانور یعنی بکرا، بکری، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا میں سے ہر ایک میں صرف ایک آدمی ہی کی قربانی جائز ہے، اس میں ایک سے زیادہ افراد کی شرکت جائز نہیں۔ (رد المحتار، اعلاء السنن)

📿 کیا قربانی کے شرکاء کا طاق ہونا ضروری ہے؟
بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ قربانی کے جانور میں صرف طاق یعنی ایک، تین، پانچ یا سات افراد ہی شریک ہوسکتے ہیں، جفت افراد نہیں، حالاں کہ یہ واضح غلطی ہے،کیوں کہ اوپر مذکور مسئلے سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہے کہ قربانی کے جانور میں جفت یعنی دو، چار یا چھ افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں۔

📿 کیا بڑے جانور میں سات حصے بنانا ضروری ہے؟
بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قربانی کے بڑے جانور میں اگر سات سے کم افراد شریک ہوں تب بھی سات حصے ہی بنانے ضروری ہیں، واضح رہے کہ یہ غلط فہمی ہے، صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جتنے افراد شریک ہوں ان کے مطابق حصے بنانا بالکل درست ہے، جیسے دو افراد شریک ہوں تو دو حصے بنادیے جائیں، پانچ شریک ہوں تو پانچ حصے بنادیے جائیں، البتہ اگر سات سے کم شُرکاء جانور کے سات حصے ہی بنانا چاہیں تب بھی جائز ہے، جس کی تفصیل آگے ذکر کی جارہی ہے۔

📿 قربانی کے بڑے جانور میں شرکاء کے حصوں سے متعلق ایک اہم مسئلہ:
قربانی کے بڑے جانور میں جتنے بھی افراد شریک ہوں اس میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، جیسے کسی بڑے جانور میں سات افراد اس طرح شریک ہوں کہ پانچ افراد کا ایک ایک حصہ ہو، ایک کا ڈیڑھ حصہ ہو اور ایک کا آدھا حصہ ہو، اس صورت میں چونکہ ایک کا حصہ آدھا ہے جو کہ ساتویں حصے سے کم ہے، اس لیے کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، فتاویٰ عثمانی)
سادہ الفاظ میں یوں کہیے کہ بڑے جانور کو سات برابر حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو ان میں سے ایک حصے کو ساتواں حصہ کہتے ہیں۔

📿 بڑے جانور میں کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہونے کی وضاحت:
ماقبل میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ قربانی کے بڑے جانور میں سات سے زیادہ افراد کی شرکت جائز نہیں، اس سے یہ اہم بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ قربانی کے جانور میں جتنے بھی افراد شریک ہوں اس میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ جس طرح سات سے زیادہ افراد کی شرکت جائز نہیں، اسی طرح یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اگر افراد سات یا سات سے کم ہوں لیکن حصوں کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ شرکاء میں سے بعض یا سب کا حصہ ساتویں حصے سے کم آرہا ہو تب بھی شرکت اور قربانی جائز نہیں۔ اس بات کو مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کیجیے:
1⃣ کسی بڑے جانور میں آٹھ افراد برابر کے شریک ہوں تو ظاہر کہ ہر ایک کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہوگیا، تو یہ جائز نہیں۔
2️⃣ کسی بڑے جانور میں آٹھ افراد اس طرح شریک ہوں کہ چھ افراد کا تو پورا پورا حصہ ہو جبکہ باقی دو افراد ایک ہی حصے میں شریک ہوں تو ایسی صورت میں چوں کہ ساتویں فرد کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہوگیا اس لیے یہ صورت بھی جائز نہیں، گویا کہ قربانی کے بڑے جانور میں آٹھ افراد کی شرکت کی کوئی بھی صورت جائز نہیں۔
3⃣ کسی بڑے جانور میں سات سے کم افراد اس طرح شریک ہوں کہ بعض یا سب کا حصہ ایک سے زیادہ ہو، یعنی ہر ایک کے پاس ایک ایک مکمل حصہ ہو اور باقی حصہ کسر میں ہو، تو یہ بھی جائز ہے کیوں کہ ہر ایک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہے، جیسے ایک جانور میں چار افراد اس طرح شریک ہوں کہ دو افراد کا ایک ایک حصہ ہو، جبکہ باقی دو افراد کے ڈھائی ڈھائی حصے ہوں تو یہ بھی جائز ہے کیوں کہ کسی کا بھی حصہ ساتویں حصے سے کم نہیں۔
4️⃣ کسی جانور میں سات افراد اس طرح شریک ہوں کہ پانچ افراد کا ایک ایک حصہ ہو، ایک کا ڈیڑھ حصہ ہو اور ایک کا آدھا حصہ ہو، اس صورت میں چونکہ ایک کا حصہ صرف آدھا ہے جو کہ ساتویں حصے سے کم ہے، اس لیے کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی۔
5️⃣ ایک جانور میں دو افراد اس طرح شریک ہوں کہ دونوں کے ساڑھے تین ساڑھے تین حصے ہوں تو یہ بھی جائز ہے کیوں کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہیں۔
(الدر المختار مع رد المحتار، فتاویٰ عثمانی، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)

📚 احادیث مبارکہ اور فقہی عبارات
☀ صحیح مسلم میں ہے:
3248- عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ نَشْتَرِكَ فِى الإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِى بَدَنَةٍ.
☀ المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:
9884- عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ فِي الأَضَاحِيِّ.
☀ سنن ابن ماجہ میں ہے:
3136- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا، وَلَا أَجِدُهَا
فَأَشْتَرِيَهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ.
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَأَمَّا قَدْرُهُ فَلَا تَجُوزُ الشَّاةُ وَالْمَعْزُ إلَّا عن وَاحِدٍ وَإِنْ كانت عَظِيمَةً سَمِينَةً تُسَاوِي شَاتَيْنِ مِمَّا يَجُوزُ أَنْ يُضَحِّيَ بِهِمَا، وَلَا يَجُوزُ بَعِيرٌ وَاحِدٌ وَلَا بَقَرَةٌ وَاحِدَةٌ عن أَكْثَرَ من سَبْعَةٍ، وَيَجُوزُ ذلك عن سَبْعَةٍ وَأَقَلَّ من ذلك، وَهَذَا قَوْلُ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ. (الْبَابُ الْخَامِسُ في بَيَانِ مَحَلِّ إقَامَةِ الْوَاجِبِ)
يَجِبُ أَنْ يُعْلَمَ أَنَّ الشَّاةَ لَا تُجْزِئُ إلَّا عن وَاحِدٍ وَإِنْ كانت عَظِيمَةً، وَالْبَقَرُ وَالْبَعِيرُ يُجْزِي عن سَبْعَةٍ إذَا كَانُوا يُرِيدُونَ بِهِ وَجْهَ اللهِ تَعَالَى، وَالتَّقْدِيرُ بِالسَّبْعِ يَمْنَعُ الزِّيَادَةَ وَلَا يَمْنَعُ النُّقْصَانَ، كَذَا في «الْخُلَاصَةِ». (الْبَابُ الثَّامِنُ فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِالشَّرِكَةِ في الضَّحَايَا)
☀ الدر المختار میں ہے:
وَلَوْ لِأَحَدِهِمْ أَقَلُّ مِنْ سُبْعٍ لَمْ يُجْزِ عَنْ أَحَدٍ، وَتُجْزِي عَمَّا دُونَ سَبْعَةٍ بِالْأَوْلَى…
☀ رد المحتار میں ہے:
(قَوْلُهُ: وَتُجْزِي عَمَّا دُونَ سَبْعَةٍ) الْأَوْلَى «عَمَّنْ»؛ لِأَنَّ «مَا» لِمَا لَا يَعْقِلُ، وَأَطْلَقَهُ فَشَمِلَ مَا إذَا اتَّفَقَتْ الْأَنْصِبَاءُ قَدْرًا أَوْ لَا، لَكِنْ بَعْدَ أَنْ لَا يَنْقُصَ عَنِ السَّبْعِ، وَلَوِ اشْتَرَكَ سَبْعَةٌ فِي خَمْسِ بَقَرَاتٍ أَوْ أَكْثَرَ صَحَّ؛ لِأَنَّ لِكُلٍّ مِنْهُمْ فِي بَقَرَةٍ سُبُعُهَا لَا ثَمَانِيَةُ فِي سَبْعِ بَقَرَاتِ أَوْ أَكْثَرَ؛ لِأَنَّ كُلَّ بَقَرَةٍ عَلَى ثَمَانِيَةِ أَسْهُمٍ فَلِكُلٍّ مِنْهُمْ أَقَلُّ مِنَ السَّبْعِ.
☀ بدائع الصنائع میں ہے:
وَلَا شَكَّ في جَوَازِ بَدَنَةٍ أو بَقَرَةٍ عن أَقَلَّ من سَبْعَةٍ بِأَن اشترك اثْنَانِ أو ثَلَاثَةٌ أو أَرْبَعَةٌ أو خَمْسَةٌ أو سِتَّةٌ في بَدَنَةٍ أو بَقَرَةٍ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا جَازَ السُّبْعُ فَالزِّيَادَةُ أَوْلَى وَسَوَاءٌ اتَّفَقَتْ الانصباء في الْقَدْرِ أو اخْتَلَفَتْ بِأَنْ يَكُونَ لِأَحَدِهِمُ النِّصْفُ وَلِلْآخَرِ الثُّلُثُ وَلِآخَرَ السُّدُسُ بَعْدَ أَنْ لَا يَنْقُصَ عن السُّبْعِ. وَلَوِ اشْتَرَكَ سَبْعَةٌ في خَمْسِ بَقَرَاتٍ أو في أَكْثَرَ فَذَبَحُوهَا أَجْزَأَهُمْ؛ لِأَنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ منهم في كل بَقَرَةٍ سُبُعَهَا، وَلَوْ ضَحَّوْا بِبَقَرَةٍ وَاحِدَةٍ أَجْزَأَهُمْ فَالْأَكْثَرُ أَوْلَى. وَلَوِ اشْتَرَكَ ثَمَانِيَةٌ في سَبْعِ بَقَرَاتٍ لم يُجْزِهِمْ؛ لِأَنَّ كُلَّ بَقَرَةٍ بَيْنَهُمْ على ثَمَانِيَةِ أَسْهُمٍ فَيَكُونُ لِكُلِّ وَاحِدٍ منهم أَنْقَصُ من السُّبْعِ، وَكَذَلِكَ إذَا كَانُوا عَشَرَةً أو أَكْثَرَ فَهُوَ على هذا، وَلَوِ اشْتَرَكَ ثَمَانِيَةٌ في ثَمَانِيَةٍ من الْبَقَرِ فَضَحَّوْا بها لم تُجْزِهِمْ؛ لِأَنَّ كُلَّ بَقَرَةٍ تَكُونُ بَيْنَهُمْ على ثَمَانِيَةِ أَسْهُمٍ، وَكَذَلِكَ إذَا كان الْبَقَرُ أَكْثَرَ لم تُجْزِهِمْ، وَلَا رِوَايَةَ في هذه الْفُصُولِ، وَإِنَّمَا قِيلَ: إنه لَا يَجُوزُ بِالْقِيَاسِ، وَلَوِ اشْتَرَكَ سَبْعَةٌ في سَبْعِ شِيَاهٍ بَيْنَهُمْ فَضَحَّوْا بها الْقِيَاسُ أَنْ لَا تُجْزِئَهُمْ؛ لِأَنَّ كُلَّ شَاةٍ تَكُونُ بَيْنَهُمْ على سَبْعَةِ أَسْهُمٍ، وفي الِاسْتِحْسَانِ يجزيهم، وَكَذَلِكَ لو اشْتَرَى اثْنَانِ شَاتَيْنِ لِلتَّضْحِيَةِ فَضَحَّيَا بِهِمَا. (فَصْلٌ وَأَمَّا مَحَلُّ إقَامَةِ الْوَاجِبِ)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں