102

قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے احکام:

قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کے احکام:

1⃣ قربانی کے بڑے جانور میں ایک سے زائد شُرکا ءہوں اور وہ باہمی گوشت تقسیم کرنا چاہیں تو اندازے سے گوشت تقسیم کرنا جائز نہیں، بلکہ محتاط طریقے سے وزن کرکے ہی تقسیم کیا جائے تاکہ سب کو برابر حصہ پہنچے، البتہ اگر ہر حصے میں کچھ کلیجی، کچھ سری پائے اور کھال رکھ دیے جائیں تو ایسی صورت میں پھر باہمی رضامندی سے اندازے سے بھی تقسیم کرنا جائز ہے۔
2️⃣ اگر قربانی میں شریک افراد ایک ہی جگہ رہتے ہوں اور ان کا کھانا پینا مشترک ہو اور وہ گوشت تقسیم نہ کرنا چاہیں تو یہ بھی جائزہے۔ (فتاویٰ قاضی خان، رد المحتار، فتاوی ٰمحمودیہ، احسن الفتاویٰ)

📿 قربانی کے گوشت کے تین حصے بنانا مستحب ہے:
قربانی کرنے والا اگر اپنے حصے کا سارا کا سارا گوشت خود ہی رکھنا چاہے تب بھی جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں: ایک حصہ اپنے گھر کے لیے رکھے، ایک حصہ رشتہ داروں کے لیے اور ایک حصہ غریبوں میں تقسیم کرے۔ (فتاویٰ عالمگیریہ، البحر الرائق، رد المحتار، جواہر الفقہ، فتاویٰ محمودیہ، تکملۃ فتح الملہم)

❄️ مسئلہ: اگر کوئی شخص قربانی کا گوشت سارا کا سارا کسی کو صدقہ یا ہدیہ کردے تو بھی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ خود بھی اس میں سے کچھ نہ کچھ کھا لے۔ (رد المحتار)

📿 قربانی کا گوشت ہر شخص کو دینا جائز ہے:
قربانی کا گوشت امیر، غریب، سید، مسلم، غیر مسلم سب کو دینا جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ محمودیہ)

📿 گوشت کو ذخیرہ کرنے کی مدت مقرر نہیں:
قربانی کا گوشت اپنی ضرورت کے لیے رکھنا جائز ہے، جس کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں، بلکہ جتنی مدت کے لیے چاہے اس کو ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ (المحیط البرہانی)

📿 قربانی کا گوشت فروخت کرنے کا حکم:
1⃣ قربانی کے گوشت کو کسی ایسی چیز کے عوض فروخت کرنا جائز ہے جس کو باقی رکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہو جیسے: اس کے عوض کتب خریدی جائیں، فرنیچر خریدا جائے، الماری، جوتے، کپڑے یا برتن خریدے جائیں وغیرہ۔
2️⃣ قربانی کے گوشت کو رقم کے عوض فروخت کرنا جائز نہیں، اگر کسی نے فروخت کرلیا تو کسی مستحقِ زکوٰۃ کو وہ رقم صدقہ کرنا واجب ہے۔ (رد المحتار، الاختیار، بدائع، اعلاء السنن)

📿 قربانی کا گوشت اُجرت کے طور پر دینے کا حکم:
قربانی کا گوشت اجرت اور تنخواہ کے طور پر دینا جائز نہیں، یہی وجہ ہے کہ امام ، مؤذن اورمعلم کو تنخواہ اور قصائی کو اجرت کے طور پر گوشت دینا جائز نہیں۔ (فتاویٰ قاضی خان، رد المحتار، امداد الفتاویٰ، امداد الاحکام)

📿 ایصالِ ثواب کے لیے کی گئی قربانی کے گوشت کا حکم:
واضح رہے کہ کسی زندہ یا فوت شدہ مسلمان کے ایصالِ ثواب کے لیے جو قربانی کی جاتی ہے وہ نفلی قربانی کہلاتی ہے، اس کا حکم عام قربانی کے گوشت کی طرح ہے کہ اس کا سارا کا سارا گوشت خود رکھنا بھی جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں: ایک حصہ اپنے لیے، ایک حصہ اپنے رشتہ داروں کے لیے جبکہ ایک حصہ غریبوں کے لیے۔ البتہ اگر میت نے اپنے مال یعنی ترکہ میں سے قربانی کرنے کی وصیت کی ہو تو اس کا گوشت سارا کا سارا صدقہ کرنا ضروری ہے۔ (رد المحتار)

📚 فقہی عبارات
☀ البحر الرائق:
وإذا قَسَمُوا جُزَافًا لَا يَجُوزُ، إلَّا إذَا كان معه شَيْءٌ آخَرُ من الأكارع وَالْجِلْدِ كَالْبَيْعِ؛ لِأَنَّ الْقِسْمَةَ
فيها مَعْنَى الْمُبَادَلَةِ. (کتاب الأضحية)
☀ المحیط البرہانی:
سبعة ضحوا بقرة، وأرادوا أن يقسموا اللحم بينهم: إن اقتسموها وزنا يجوز؛ لأن القيمة فيها معنى السبع على هذا الوجه يجوز، وإن اقتسموها جزافا: إن جعلوا مع اللحم شيئا من السقط نحو الرأس والأكارع يجوز، وإن لم يجعلوا لا يجوز؛ لأن البيع على هذا الوجه لا يجوز.
(کتاب الأضحية)
☀ رد المحتار میں ہے:
(قَوْلُهُ: وَيُقْسَمُ اللَّحْمُ) اُنْظُرْ هَلْ هَذِهِ الْقِسْمَةُ مُتَعَيِّنَةٌ أَوْ لَا، حَتَّى لَو اشْتَرَى لِنَفْسِهِ وَلِزَوْجَتِهِ وَأَوْلَادِهِ الْكِبَارِ بَدَنَةً وَلَمْ يَقْسِمُوهَا تُجْزِيهِمْ أَوْ لَا، وَالظَّاهِرُ أَنَّهَا لَا تُشْتَرَطُ؛ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْهَا الْإِرَاقَةُ وَقَدْ حَصَلَتْ. وَفِي فَتَاوَى «الْخُلَاصَةِ» وَ«الْفَيْضِ»: تَعْلِيقُ الْقِسْمَةِ عَلَى إرَادَتِهِمْ، وَهُوَ يُؤَيِّدُ مَا سَبَقَ غَيْرَ أَنَّهُ إذَا كَانَ فِيهِمْ فَقِيرٌ وَالْبَاقِي أَغْنِيَاءُ يَتَعَيَّنُ عَلَيْهِ أَخْذُ نَصِيبِهِ لِيَتَصَدَّقَ بِهِ اهـ ط. وَحَاصِلُهُ أَنَّ الْمُرَادَ بَيَانُ شَرْطِ الْقِسْمَةِ إنْ فُعِلَتْ لَا أَنَّهَا شَرْطٌ، لَكِنْ فِي اسْتِثْنَائِهِ الْفَقِيرَ نَظَرٌ؛ إذْ لَا يَتَعَيَّنُ عَلَيْهِ التَّصَدُّقُ كَمَا يَأْتِي، نَعَمْ، النَّاذِرُ يَتَعَيَّنُ عَلَيْهِ فَافْهَمْ. (قَوْلُهُ: لَا جُزَافًا)؛ لِأَنَّ الْقِسْمَةَ فِيهَا مَعْنَى الْمُبَادَلَةِ، وَلَوْ حَلَّلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، قَالَ فِي «الْبَدَائِعِ»: أَمَّا عَدَمُ جَوَازِ الْقِسْمَةِ مُجَازَفَةً فَلِأَنَّ فِيهَا مَعْنَى التَّمْلِيكِ، وَاللَّحْمُ مِنْ أَمْوَالِ الرِّبَا فَلَا يَجُوزُ تَمْلِيكُهُ مُجَازَفَةً. وَأَمَّا عَدَمُ جَوَازِ التَّحْلِيلِ فَلِأَنَّ الرِّبَا لَا يَحْتَمِلُ الْحِلَّ بِالتَّحْلِيلِ، وَلِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْهِبَةِ، وَهِبَةُ الْمَشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ اهـ. وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ عَدَمَ الْجَوَازِ بِمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَصِحُّ وَلَا يَحِلُّ؛ لِفَسَادِ الْمُبَادَلَةِ خِلَافًا لِمَا بَحَثَهُ فِي «الشُّرُنْبُلَالِيَّةِ» مِنْ أَنَّهُ فِيهِ بِمَعْنًى لَا يَصِحُّ وَلَا حُرْمَةَ فِيهِ. (قَوْلُهُ: إلَّا إذَا ضَمَّ مَعَهُ إلَخْ) بِأَنْ يَكُونَ مَعَ أَحَدِهِمَا بَعْضُ اللَّحْمِ مَعَ الْأَكَارِعِ وَمَعَ الْآخَرِ الْبَعْضُ مَعَ الْبَعْضِ مَعَ الْجِلْدِ، «عِنَايَةٌ». (کتاب الأضحية)
☀ فتاویٰ ہندیہ:
وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَأْكُلَ من أُضْحِيَّتِهِ وَيُطْعِمَ منها غَيْرَهُ، وَالْأَفْضَلُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِالثُّلُثِ، وَيَتَّخِذَ الثُّلُثَ ضِيَافَةً لِأَقَارِبِهِ وَأَصْدِقَائِهِ، وَيَدَّخِرَ الثُّلُثَ، وَيُطْعِمَ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ جميعا،كَذَا في «الْبَدَائِعِ»، وَيَهَبُ منها ما شَاءَ لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَالْمُسْلِمِ وَالذِّمِّيِّ، كَذَا في الْغِيَاثِيَّةِ، وَلَوْ تَصَدَّقَ بِالْكُلِّ جَازَ، وَلَوْ حَبَسَ الْكُلَّ لِنَفْسِهِ جَازَ، وَلَهُ أَنْ يَدَّخِرَ الْكُلَّ لِنَفْسِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، إلَّا أَنَّ إطْعَامَهَا وَالتَّصَدُّقَ بها أَفْضَلُ، إلَّا أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ ذَا عِيَالٍ وَغَيْرَ مُوَسَّعِ الْحَالِ فإن الْأَفْضَلَ له حِينَئِذٍ أَنْ يَدَعَهُ لِعِيَالِهِ وَيُوَسِّعَ عليهم بِهِ، كَذَا في «الْبَدَائِعِ». (کتاب الأضحية)
☀ المحیط البرہانی:
ويستحب للمضحي أن يأكل من أضحيته، ويطعم منها غيره، وإن أكل الكل أو أطعم الكل جائزًا واسعًا، ويجوز أن يطعم منه الغني والفقير، ويهب منه ما شاء لغني أو فقير، أو مسلم أو ذمي، ولا بأس بأن يحبس المضحي لحمًا، ويدخر كم شاء من المدة، والصدقة أفضل؛ إلا أن يكون الرجل ذا عيال فإن الأفضل أن يدعه لعياله، ويوسع به عليهم، هذه الجملة في أضاحي «الزعفراني». (کتاب الأضحية)
☀ تحفۃ الفقہاء:
وللمضحي أن يأكل من أضحيته إن شاء كلها، وإن شاء أطعم الكل، والأحب أن يتصدق بالثلثين، ويأكل الثلث إن كان موسرا، وإن كان ذا عيال وهو وسط الحال في اليسار فله أن يتوسع بها على عياله، ويدخر منها ما شاء، وينتفع بجلدها وشعرها، وله أن يستبدلها بشيء ينتفع بعينه كالجراب والمنخل والثوب، ولو باع ذلك أو باع لحمها فإنه يجوز بيعه ولا ينقض البيع في جواب ظاهر الرواية لكن يتصدق بالثمن، وعلى قول أبي يوسف له أن ينقض البيع لأنه بمنزلة الوقف عنده في قول. (کتاب الأضحية)
☀ رد المحتار میں ہے:
(قَوْلُهُ: وَيَتَصَدَّقُ بِجِلْدِهَا) وَكَذَا بِجِلَالِهَا وَقَلَائِدِهَا فَإِنَّهُ يُسْتَحَبُّ إذَا أَوْجَبَ بَقَرَةً أَنْ يُجَلِّلَهَا وَيُقَلِّدَهَا، وَإِذَا ذَبَحَهَا تَصَدَّقَ بِذَلِكَ، كَمَا فِي «التَّتَارْخَانِيَّة». (قَوْلُهُ: بِمَا يُنْتَفَعُ بِهِ بَاقِيًا)؛ لِقِيَامِهِ مَقَامَ الْمُبْدَلِ فَكَأَنَّ الْجِلْدَ قَائِمٌ مَعْنًى بِخِلَافِ الْمُسْتَهْلَكِ. (قَوْلُهُ: كَمَا مَرَّ) أَيْ فِي أُضْحِيَّةِ «الصَّغِيرِ»، وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ: مِمَّا مَرَّ أَيْ مِنْ قَوْلِهِ: نَحْوَ غِرْبَالٍ إلَخْ. (قَوْلُهُ: فَإِنْ بِيعَ اللَّحْمُ أَوْ الْجِلْدُ بِهِ إلَخْ) أَفَادَ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ بَيْعُهُمَا بِمُسْتَهْلَكٍ، وَأَنَّ لَهُ بَيْعُ الْجِلْدِ بِمَا تَبْقَى عَيْنُهُ، وَسَكَتَ عَنْ بَيْعِ اللَّحْمِ بِهِ؛ لِلْخِلَافِ فِيهِ، فَفِي الْخُلَاصَةِ وَغَيْرِهَا: لَوْ أَرَادَ بَيْعَ اللَّحْمِ لِيَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهِ لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ، وَلَيْسَ لَهُ فِيهِ إلَّا أَنْ يُطْعِمَ أَوْ يَأْكُلَ اهـ، وَالصَّحِيحُ كَمَا فِي «الْهِدَايَةِ» وَشُرُوحِهَا: أَنَّهُمَا سَوَاءٌ فِي جَوَازِ بَيْعِهِمَا بِمَا يَنْتَفِعُ بِعَيْنِهِ دُونَ مَا يَسْتَهْلِكُ، وَأَيَّدَهُ فِي «الْكِفَايَةِ» بِمَا رَوَى ابْنُ سِمَاعَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ: لَوِ اشْتَرَى بِاللَّحْمِ ثَوْبًا فَلَا بَأْسَ بِلُبْسِهِ اهـ.
[فُرُوعٌ] فِي «الْقُنْيَةِ»: اشْتَرَى بِلَحْمِهَا مَأْكُولًا فَأَكَلَهُ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ التَّصَدُّقُ بِقِيمَتِهِ اسْتِحْسَانًا، وَإِذَا دَفَعَ اللَّحْمَ إلَى فَقِيرٍ بِنِيَّةِ الزَّكَاةِ لَا يُحْسَبُ عَنْهَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، لَكِنْ إذَا دَفَعَ لِغَنِيٍّ ثُمَّ دَفَعَ إلَيْهِ بِنِيَّتِهَا يُحْسَبُ، «قُهُسْتَانِيٌ». (قَوْلُهُ: تَصَدَّقَ بِثَمَنِهِ) أَيْ وَبِالدَّرَاهِمِ فِيمَا لَوْ أَبْدَلَهُ بِهَا. (قَوْلُهُ: وَمُفَادُهُ صِحَّةُ الْبَيْعِ) هُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ، «بَدَائِعُ»؛ لِقِيَامِ الْمِلْكِ وَالْقُدْرَةِ عَلَى التَّسْلِيمِ، «هِدَايَةٌ». (قَوْلُهُ: مَعَ الْكَرَاهَةِ)؛ لِلْحَدِيثِ الْآتِي. (قَوْلُهُ: لِأَنَّهُ كَبَيْعٍ)؛ لِأَنَّ كُلًّا مِنْهُمَا مُعَاوَضَةٌ؛ لِأَنَّهُ إنَّمَا يُعْطَى الْجَزَّارُ بِمُقَابَلَةِ جَزْرِهِ، وَالْبَيْعُ مَكْرُوهٌ فَكَذَا مَا فِي مَعْنَاهُ، «كِفَايَةٌ».
(کتاب الأضحية)
☀ رد المحتار:
مَنْ ضَحَّى عَنِ الْمَيِّتِ يَصْنَعُ كَمَا يَصْنَعُ فِي أُضْحِيَّةِ نَفْسِهِ مِنَ التَّصَدُّقِ وَالْأَكْلِ وَالْأَجْرُ لِلْمَيِّتِ وَالْمِلْكُ لِلذَّابِحِ. قَالَ الصَّدْرُ: وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ إنْ بِأَمْرِ الْمَيِّتِ لَا يَأْكُلْ مِنْهَا وَإِلَّا يَأْكُلُ، «بَزَّازِيَّةٌ».
(کتاب الأضحية)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں