93

قربانی میں نیت سے متعلق احکام

قربانی میں نیت سے متعلق احکام

📿 قربانی میں نیت کیا ہونی چاہیے؟
قربانی ایک اہم ترین عبادت ہے جس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، اس لیے یہ عبادت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم سمجھتے ہوئے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب ہی کے لیے ادا کرنی چاہیے تاکہ قربانی درست ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول بھی ہوسکے۔ اس کے علاوہ نام ونمود یا محض گوشت حاصل کرنے اور اس جیسی دیگر مذموم اور نامناسب نیتوں سے بالکلیہ اجتناب کرنا چاہیے۔

📿 قربانی میں محض گوشت کی نیت کرنے کا حکم:
قربانی کے بڑے جانور میں شریک ہونے والے تمام افراد کی نیت قربانی اور ثواب ہی کی ہونی چاہیے، اگر کسی کی نیت محض گوشت حاصل کرنے کی ہو تو شُرکا میں سے کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ عقیقے، ولیمے، دَمِ تمتُّع اور دَمِ قِران کی نیت بھی درحقیقت ثواب اور قُربت ہی کی نیت ہے، اس لیے ان نیتوں کے ساتھ قربانی کے جانور میں شرکت کرنا درست ہے، جس کی تفصیل آگے ذکر ہوگی ان شاء اللہ۔
(الدر المختار مع رد المحتار، قربانی اور ذوالحجہ کے فضائل از حضرت مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب دام ظلہم)

☀ بدائع الصنائع میں ہے:
وَلَوْ كان أَحَدُ الشُّرَكَاءِ ذِمِّيًّا كِتَابِيًّا أو غير كِتَابِيٍّ وهو يُرِيدُ اللَّحْمَ أو أَرَادَ الْقُرْبَةَ في دِينِهِ لم يُجْزِهِمْ عِنْدَنَا؛ لِأَنَّ الْكَافِرَ تَتَحَقَّقُ منه الْقُرْبَةُ، فَكَانَتْ نِيَّتُهُ مُلْحَقَةً بِالْعَدَمِ فَكَانَ مُرِيدًا لِلَّحْمِ، وَالْمُسْلِمُ لو أَرَادَ اللَّحْمَ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا فَالْكَافِرُ أَوْلَى.
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَإِنْ كان كُلُّ وَاحِدٍ منهم صَبِيًّا أو كان شَرِيكُ السَّبْعِ من يُرِيدُ اللَّحْمَ أو كان نَصْرَانِيًّا وَنَحْوَ ذلك لَا يَجُوزُ لِلْآخَرَيْنِ أَيْضً،ا كَذَا في «السِّرَاجِيَّةِ»، وَلَوْ كان أَحَدُ الشُّرَكَاءِ ذِمِّيًّا كِتَابِيًّا أو غير كِتَابِيٍّ وهو يُرِيدُ اللَّحْمَ أو يُرِيدُ الْقُرْبَةَ في دِينِهِ لم يُجْزِئْهُمْ عِنْدَنَا؛ لِأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَتَحَقَّقُ منه الْقُرْبَةُ فَكَانَتْ نِيَّتُهُ مُلْحَقَةً بِالْعَدَمِ فَكَأَنْ يُرِيدَ اللَّحْمَ، وَالْمُسْلِمُ لو أَرَادَ اللَّحْمَ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا.

📿 قربانی کے جانور میں متعدد نیتوں کے ساتھ شرکت کا حکم:
قربانی کے چھوٹے جانور یعنی بکرا، بکری، بھیڑ، مینڈھا اور دنبہ میں چوں کہ ایک ہی حصے کی قربانی جائز ہے اس لیے ان میں تو صرف ایک ہی نیت درست ہے، جیسے اگر صرف واجب قربانی کی نیت ہو تو اس کے ساتھ عقیقے کی نیت درست نہیں۔ جبکہ بڑے جانور یعنی بیل، گائے، بھینس، بھینسا، اونٹ اور اونٹنی میں چوں کہ ایک سے لے کر سات تک حصے جائز ہیں اس لیے ان میں مختلف حصوں میں ثواب اور قُربت کی مختلف نیتیں بھی درست ہیں۔ البتہ یہ واضح رہے کہ ایک ہی حصے میں ایک ہی نیت معتبر ہوگی جیسے اگر ایک حصے میں صرف واجب قربانی کی نیت ہو تو اسی میں عقیقے کی نیت درست نہیں۔ مزید تفصیل درج ذیل ہے۔

📿 قربانی کے جانور میں عقیقے کی نیت سے شرکت کرنے کا حکم:
1⃣ قربانی کےبڑے جانور میں بعض افراد واجب قربانی کی نیت سے شریک ہوں اور بعض عقیقے کی نیت سے یعنی بعض حصے قربانی کے ہوں اور بعض عقیقے کے تو یہ بھی جائز ہے۔
2️⃣ البتہ یہ جائز نہیں کہ ایک ہی حصے میں قربانی کی بھی نیت کی جائے اور عقیقے کی بھی، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ ایک ہی جانور کو مکمل طور پر قربانی کی نیت سے بھی ذبح کیا جائے اور عقیقے کی نیت سے بھی، بلکہ قربانی اور عقیقے کا حصہ الگ الگ ہونا چاہیے۔ (فتاویٰ رحیمیہ، فتاویٰ عثمانی ودیگر کتب)

📿 قربانی کے بڑے جانور میں نفلی قربانی کی نیت سے شرکت کرنے کا حکم:
قربانی کے بڑے جانور میں بعض افراد نفلی قربانی کی نیت سے شریک ہوں اور بعض واجب قربانی کی نیت سے یعنی بعض حصے واجب قربانی کے ہوں اور بعض نفلی قربانی کے تو یہ بھی جائز ہے۔ (فتاویٰ عثمانی)

📿 قربانی کے بڑے جانور میں ولیمے کی نیت سے شرکت کرنے کا حکم:
قربانی کے بڑے جانور میں بعض افراد واجب یا نفلی قربانی کی نیت سے شریک ہوں اور بعض ولیمے کی نیت سے یعنی بعض حصے قربانی کے ہوں اور بعض ولیمے کے تو متعدد اہلِ علم کے نزدیک یہ بھی جائز ہے۔
(امداد الاحکام)

☀ رد المختار میں ہے:
قَدْ عُلِمَ أَنَّ الشَّرْطَ قَصْدُ الْقُرْبَةِ مِنَ الْكُلِّ، وَشَمِلَ مَا لَوْ كَانَ أَحَدُهُمْ مُرِيدًا لِلْأُضْحِيَّةِ عَنْ عَامِهِ وَأَصْحَابُهُ عَنِ الْمَاضِي تَجُوزُ الْأُضْحِيَّةَ عَنْهُ، وَنِيَّةُ أَصْحَابِهِ بَاطِلَةٌ، وَصَارُوا مُتَطَوِّعِينَ، وَعَلَيْهِمُ التَّصَدُّقُ بِلَحْمِهَا وَعَلَى الْوَاحِدِ أَيْضًا؛ لِأَنَّ نَصِيبَهُ شَائِعٌ، كَمَا فِي «الْخَانِيَّةِ»، وَظَاهِرُهُ عَدَمُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْهَا، تَأَمَّلْ، وَشَمِلَ مَا لَوْ كَانَتِ الْقُرْبَةُ وَاجِبَةً عَلَى الْكُلِّ أَوِ الْبَعْضِ اتَّفَقَتْ جِهَاتُهَا أَوْ لَا: كَأُضْحِيَّةٍ وَإِحْصَارٍ وَجَزَاءِ صَيْدٍ وَحَلْقٍ وَمُتْعَةٍ وَقِرَانٍ خِلَافًا لِزُفَرَ؛ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ الْكُلِّ الْقُرْبَةُ، وَكَذَا لَوْ أَرَادَ بَعْضُهُمُ الْعَقِيقَةَ عَنْ وَلَدٍ قَدْ وُلِدَ لَهُ مِنْ قِبَل؛ لِأَنَّ ذَلِكَ جِهَةُ التَّقَرُّبِ بِالشُّكْرِ عَلَى نِعْمَةِ الْوَلَدِ، ذَكَرَهُ مُحَمَّدٌ وَلَمْ يَذْكُرِ الْوَلِيمَةَ. وَيَنْبَغِي أَنْ تَجُوزَ؛ لِأَنَّهَا تُقَامُ شُكْرًا لِلّٰہِ تَعَالَى عَلَى نِعْمَةِ النِّكَاحِ وَوَرَدَتْ بِهَا السُّنَّةُ، فَإِذَا قَصَدَ بِهَا الشُّكْرَ أَوْ إقَامَةَ السُّنَّةِ فَقَدْ أَرَادَ الْقُرْبَةَ. وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ كُرِهَ الِاشْتِرَاكُ عِنْدَ اخْتِلَافِ الْجِهَةِ، وَأَنَّهُ قَالَ: لَوْ كَانَ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ كَانَ أَحَبَّ إلَيَّ، وَهَكَذَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ، «بَدَائِعُ». (کتاب الأضحية)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں