117

فحاشی اور بے حیائی پھیلانے سے متعلق تنبیہ:

فحاشی اور بے حیائی پھیلانے سے متعلق تنبیہ:

☀ اللہ تعالیٰ سورۃ النور آیت نمبر 19 میں فرماتے ہیں:
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاللهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (19).
▪ ترجمہ: ’’یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن)
مذکورہ آیت درحقیقت کائنات کی مقدس ترین خاتون سیدہ امی عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اللہ عنہا پر لگنے والے بے بنیاد اور جھوٹے الزام والے واقعہ کے تناظر میں نازل ہوئی، اس واقعہ کو واقعہ اِفک بھی کہا جاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے خود ان کی پاکدامنی کی گواہی دی اور اس کے بارے میں آیات نازل فرمائیں۔ مذکورہ آیت میں سیدہ امی عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت لگانے میں حصہ لینے والوں کے لیے وعید ہے۔
⬅️ اس پسِ منظر کے بعد عرض یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں مسلمانوں میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس جرم سے باز آجائیں کیوں کہ جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کے مرتکب ہوتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔

📿 بے حیائی پھیلائے جانے کی مروجہ صورتحال:
واضح رہے کہ مذکورہ آیت کی رو سے بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کی تمام صورتیں ناجائز اور گناہ ہیں جن سے قرآن کریم نے منع کرتے ہوئے اس جرم پر شدید تنبیہ فرمائی ہے۔ موجودہ دور کے تناظر میں اگر اس بات کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو اس کی متعدد صورتیں بنتی نظر آتی ہیں، جیسے:
1⃣ الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا سمیت تمام ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کی تمام تر صورتیں ناجائز اور ممنوع ہیں۔ آج ذرا غور تو کیا جائے کہ ویڈیوز، تصاویر اور مضامین وغیرہ کے ذریعے بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کا ایک سیلاب بہایا جارہا ہے، حتی کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ بھی یہ طوفانِ بے حیائی برپا کیاجاتا ہے، یہ شرعی اور اخلاقی اعتبار سے کس قدر نقصان دہ صورتحال ہے! اس جرم میں ملوث تمام اجتماعی اور انفرادی کرداروں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی اور اس کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔

2️⃣ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ:
▪کسی پر زنا اور بدکاری کا الزام ہرگز نہ لگایا جائے کہ یہ ایک سنگین گناہ اور جرم ہے جس پر قذف یعنی تہمت کی سزا بھی جاری کی جاتی ہے۔
▪اگر کسی کے بارے میں ایسا کوئی الزام سامنے آبھی جائے تب بھی شریعت کے احکام کے تحت مکمل تحقیق کیے بغیر اس کو ہرگز نہ پھیلایا جائے کہ یہ بھی سنگین گناہ اور جرم ہے۔
▪پھر جب شرعی ثبوت کے ساتھ اس کی تحقیق ہوجائے اور جرم بھی ثابت ہوجائے اور اس خبر کو عام کرنا ضروری بھی ہو تب بھی اس خبر کو صرف اس صورت میں عام کرنے کی گنجائش ہے جب اس پر سزا دیے جانے کا امکان بھی ہو، تاکہ سزا ملنے کی صورت میں لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور اسی کے ساتھ اس بے حیائی کا سدِّ باب بھی ہوسکے، لیکن جہاں سزا ملنے کا امکان نہ ہو تو ایسی صورت میں اس خبر کو پھیلانا ممنوع اور نقصان دہ ہے کیوں کہ ایسی صورت میں جب جرم پر سزا مرتب ہی نہ ہو تو ایک تو لوگوں کے دلوں میں ایسے بے حیائی کے جرائم ہلکے ہونے لگتے ہیں اور معمولی جرم کی حیثیت اختیار کرنے لگتے ہیں۔ دوم یہ کہ ایسی خبریں لوگوں کے جنسی جذبات میں ہیجان کا سبب بنتی ہیں جس سے رونما ہونے والے فتنے محتاجِ بیان نہیں۔
اس لیے قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ ایسی بے حیائی کی خبریں ضرورت کے موقع پر صرف اس صورت میں عام کرنے کی اجازت ہے جب وہ جرم شرعی ثبوت کے ساتھ ہو اور اس پر سزا مرتب ہونے کا امکان بھی ہو، ورنہ تو ایسی خبریں پھیلانا ممنوع اور غلط ہیں۔
⬅️ آجکل کی رائج افسوس ناک صورتحال پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ لوگ اول تو ایسے جرائم پر مبنی خبروں کی تحقیق ہی نہیں کرتے، بلکہ اپنے عناد، دشمنی، مخالفت یا غفلت کی وجہ سے ایسی خبریں ہاتھ لگتے ہی آگے چلتی کردیتے ہیں، پھر ان میں اپنی طرف سے مزید جھوٹ بھی ملا دیتے ہیں تاکہ دوسروں کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ دوم یہ کہ اگر تحقیق کرتے بھی ہیں تو انھیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ایسے جرائم کے لیے شرعی طور پر کن باتوں کی تحقیق کی ضرورت پڑتی ہے یعنی شرعی طور پر یہ جرائم کیسے ثابت ہوسکتے ہیں۔ سوم یہ کہ ایسی خبروں میں لوگ طبقات میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کو طعن وملامت کرتے رہتے ہیں، حالاں کہ ان جرائم کی روک تھام پر تو سبھی کو یکجا ہوجانا چاہیے تاکہ معاشرہ ان سے پاک ہوسکے۔ چہارم یہ کہ جہاں ان جرائم پر سزا مرتب ہی نہیں ہونی اور متعلقہ اداروں نے واقعی نوٹس ہی نہیں لینا تو کیوں انھیں پھیلا کر لوگوں کے دلوں میں بے حیائی کی سنگینی کم کرنے اور ان کے جنسی جذبات ابھارنے کی کوشش کی جائے!
⬅️ آج لوگوں سے صحیح اور غلط کی تمیز کی فکر رخصت ہوتی جارہی ہے، آخرت کی جوابدہی کا احساس مٹتا چلا جارہا ہے، لوگ دوسروں کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں، دوسرے کو ان کے گناہوں پر عار دلانے میں ذرا بھی خوف محسوس نہیں کرتے ہیں، اپنی حالت سے غافل ہوکر دوسروں کے عیوب تلاش کرنے اور انھیں عام کرنے میں اپنی انا کی تسکین ڈھونڈتے ہیں، لیکن جب اپنے عیوب کی باری آتی ہے تو یہی خواہش رکھتے ہیں کہ ان پر پردہ ڈالا جائے، کیا ہم یہ پردہ داری دوسروں کے لیے بھی پسند کرتے ہیں؟
کاش کہ ہم سمجھنے کی کوشش کرتے اور ہر کام سے پہلے شریعت اور آخرت مدنظر رکھتے تو کتنے فتنوں کی روک تھام اور کتنی خرابیوں کی اصلاح ہوجاتی!!

📿 تفسیرِ معارف القرآن سے مذکورہ آیت کی تفسیر:
’’اس آیت میں پھر ان لوگوں کی مذمت اور ان پر دنیا وآخرت کے عذاب کی وعید ہے جنھوں نے اس تہمت میں کسی طرح حصہ لیا۔ اس آیت میں یہ بات زیادہ ہے کہ جو لوگ ایسی خبریں مشہور کرتے ہیں گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بدکاری اور فواحش پھیل جائیں۔
⬅️ انسدادِ فواحش کا قرآنی نظام اور ایک اہم تدبیر جس کے نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج کل فواحش کی کثرت ہے:
قرآن حکیم نے فواحش کے انسداد کا یہ خاص نظام بنایا ہے کہ اول تو اس قسم کی خبر کہیں مشہور نہ ہونے پاوے اور شہرت ہو تو ثبوتِ شرعی کے ساتھ ہو تاکہ اس شہرت کے ساتھ ہی مجمع عام میں حدِ زنا اس پر جاری کرکے اس شہرت ہی کو سببِ انسداد بنادیا جائے، اور جہاں ثبوتِ شرعی نہ ہو وہاں اس طرح کی بے حیائی کی خبروں کو چلتا کردینا اور شہرت دینا جبکہ اس کے ساتھ کوئی سزا نہیں طبعی طور پر لوگوں کے دلوں میں بے حیائی اور فواحش کی نفرت کم کردینے اور جرائم پر اقدام کرنے اور شائع کرنے کا موجب ہوتی ہے جس کا مشاہدہ آجکل کے اخبارات میں روزانہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی خبریں ہر روز ہر اخبار میں نشر ہوتی رہتی ہیں، نوجوان مرد اور عورتیں ان کو دیکھتے رہتے ہیں، روزانہ ایسی خبروں کے سامنے آنے اور اس پر کسی خاص سزا کے مرتب نہ ہونے کا لازمی اور طبعی اثر یہ ہوتا ہے کہ دیکھتے دیکھتے وہ فعلِ خبیث نظروں میں ہلکا نظر آنے لگتا ہے اور پھر نفس میں ہیجان پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے ایسی خبروں کی تشہیر کی اجازت صرف اس صورت میں دی ہے جبکہ وہ ثبوتِ شرعی کے ساتھ ہو اس کے نتیجے میں خبر کے ساتھ ہی اس بے حیائی کی ہولناک پاداش بھی دیکھنے سننے والوں کے سامنے آجائے۔ اور جہاں ثبوت اور سزا نہ ہو تو ایسی خبروں کی اشاعت کو قرآن نے مسلمانوں میں فواحش پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ کاش مسلمان اس پر غور کریں۔ اس آیت میں ایسی خبریں بلا ثبوت مشہور کرنے والوں پر دنیا وآخرت دونوں میں عذابِ اَلیم ہونے کا ذکر ہے۔ آخرت کا عذاب تو ظاہر ہے کہ قیامت کے بعد ہوگا، جس کا یہاں مشاہدہ نہیں ہوسکتا، مگر دنیا کا عذاب تو مشاہدہ میں آنا چاہیے، سو جن لوگوں پر حدِّ قذف (تہمت کی سزا) جاری کردی گئی ان پر تو دنیا کا عذاب آ ہی گیا، اور اگر کوئی شخص شرائطِ اجرائے حد موجود نہ ہونے کی وجہ سے حدِّ قذف سے بچ نکلا وہ دنیا میں بھی فی الجملہ مستحقِ عذاب تو ٹھہرا، آیت کے مصداق کے لیے یہ بھی کافی ہے۔‘‘ (معارف القرآن تفسیر سورۃ النور آیت نمبر 19)

☀ تفسیر ابو السعود:
«إِنَّ الذين يُحِبُّونَ» أي يُريدون ويقصدُون «أَن تَشِيعَ الفاحشة» أي تنتشرَ الخَصلةُ المفرطةُ في القُبح وهي الفريةُ والرَّميُ بالزِّنا أو نفسُ الزِّنا، فالمراد بشيوعِها شيوعُ خبرِها أي يحبُّون شيوعَها ويتصدَّون مع ذلكَ لإشاعتِها، وإنَّما لم يُصرِّحْ به؛ اكتفاءً بذكرِ المحبَّةِ فإنَّها مستتبعةٌ له لا محالةَ «فِى الذين ءَامَنُواْ» متعلق بـ«تشيعَ» أي تشيعَ فيما بينَ النَّاسِ. وذكر المؤمنينَ لأنَّهم العمدةُ فيهم أو بمضمرٍ هو حالٌ من الفاحشةِ، فالموصولُ عبارةٌ عن المؤمنينَ خاصَّة أي يحبُّون أنْ تشيعَ الفاحشةُ كائنةً في حقِّ المؤمنينَ وفي شأنهم «لَهُمْ» بسبب ما ذُكر «عَذَابٌ أَلِيمٌ فِى الدنيا» من الحدِّ وغيرِه ممَّا يتفقُ من البَلايا الدُّنيويةِ، ولقد ضرب رسولُ الله ﷺ عبدَ اللهِ بنَ أُبيَ وحسَّانًا ومِسْطَحًا حدَّ القذفِ وضربَ صفوانُ حسَّانًا ضربةً بالسَّيفِ وكُفَّ بصرُه «والأخرة» من عذابِ النَّارِ وغيرِ ذلكَ ممَّا يعلمُه الله عزَّ وجلَّ «والله يَعْلَمُ» جميعَ الأمورِ التي من جُملتِها ما في الضَّمائر من المحبَّة المذكورةِ «وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ» ما يعلمُه تعالى، بل إنَّما تعلمونَ ما ظهرَ لكم من الأقوال والأفعالِ المحسوسةِ فابنُوا أمورَكم على ما تعلمونَه وعاقبُوا في الدُّنيا على ما تشاهدونَه من الأحوالِ الظَّاهرةِ، والله سبحانَه هو المتولِّي للسَّرائرِ فيعاقبُ في الآخرةِ على ما تُكنُّه الصُّدورُ. هذا إذا جُعلَ العذابُ الأليمُ في الدُّنيا عبارةً عن حدِّ القذفِ أو منتظمًا له كما أطبقَ عليه الجمهورُ، أمَّا إذا بقي على إطلاقِه يُراد بالمحبَّةِ نفسُها من غيرِ أنْ يقارنَها التَّصدِّي للإشاعةِ وهو الأنسبُ بسياقِ النَّظمِ الكريم فيكون ترتيبُ العذابِ عليها تنبيهًا على عذاب مَن يُباشر الإشاعةَ ويتولاَّها أشدَّ وأعظمَ ويكون الاعتراضُ التذييليُّ أعني قولَه تعالى: «والله يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ» تقريرًا لثبوت العذابِ الأليمِ لهم وتعليلًا له.
☀ تفسیرِ ابن کثیر:
«إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ»۔ (19): وَهَذَا تَأْدِيبٌ ثَالِثٌ لِمَنْ سَمِعَ شَيْئًا مِنَ الْكَلَامِ السَّيِّئِ، فَقَامَ بِذِهْنِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَتَكَلَّمَ بِهِ، فَلَا يُكْثِرُ مِنْهُ وَيُشِيعُهُ وَيُذِيعُهُ، فَقَدْ قَالَ تَعَالَى: «إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا» أَيْ: يَخْتَارُونَ ظُهُورَ الْكَلَامِ عَنْهُمْ بِالْقَبِيحِ، «لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا» أَيْ: بِالْحَدِّ، وَفِي الْآخِرَةِ بِالْعَذَابِ، «وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» أَيْ: فَرُدُّوا الْأُمُورَ إِلَيْهِ تَرْشُدُوا. وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ المَرَئيّ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبّاد الْمَخْزُومِيُّ عَنْ ثَوْبَان، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «لَا تُؤذوا عِبادَ اللهِ وَلَا تُعيِّروهم، ولا تطلبوا عَوَرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ طَلَبَ اللهُ عَوْرَتَهُ، حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ».

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں