102

دکان ومکان میں بزرگوں کی تصاویر لٹکانے کا حکم

دکان ومکان میں بزرگوں کی تصاویر لٹکانے کا حکم

بہت سے لوگ دینی احکام سے ناواقفیت کی وجہ سے اس غیر شرعی کام میں مبتلا ہیں کہ وہ اپنی دکان یا مکان میں اپنے بزرگوں کی تصاویر لٹکاتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے دکان ومکان میں برکت آئے اور کاروبار میں ترقی ہو۔ واضح رہے کہ یہ کام سراسر ناجائز اور سنگین گناہ ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
ذیل میں اس سے متعلق چند باتیں ذکر کی جاتی ہیں تاکہ مسئلہ کی تفصیل معلوم ہوسکے:
1⃣ احادیث مبارکہ میں جاندار کی تصاویر بنانے کے بارے میں شدید وعیدیں بیان ہوئی ہیں، جن میں سے صرف ایک حدیث کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’قیامت کے دن سب سے شدید عذاب (جاندار کی) تصویر بنانے والے کو ہوگا۔‘‘ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:
5950- حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ فَرَأَى فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ».
ایسی شدید وعیدوں کے پیشِ نظر ایک مؤمن جاندار کی تصویر سازی کے اس سنگین گناہ کے ارتکاب کی جسارت نہیں کرسکتا اور نہ ہی شرعی احکام کے مقابلے میں خود ساختہ باتوں کو اہمیت دے سکتا ہے۔
2️⃣ دکان یا مکان میں بزرگوں کی تصاویر لٹکانا بھی ناجائز ہے، حتی کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس مکان میں جاندار کی تصویر ہو اس میں (رحمت کے) فرشتے نہیں آتے‘‘۔جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:
5949- حَدَّثَنَا آدَمُ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ».
اس سے معلوم ہوا کہ دکان یا مکان میں بزرگوں کی تصاویر لٹکانے سے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اور یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ جب کسی مکان یا دکان میں رحمت کے فرشتے داخل نہ ہوتے ہوں تو وہاں برکتیں اور رحمتیں کیسے نازل ہوسکتی ہیں؟ بلکہ وہاں تو شیاطین کا بسیرا ہوگا اور نحوست اور بے برکتی پیدا ہوگی۔ اس سے ان لوگوں کی غلطی معلوم ہوجاتی ہے کہ جو دکان یا مکان میں بزرگوں کی تصاویر لٹکانے سے برکتوں کی امید رکھتے ہیں۔ یہ کس قدر بڑی بھول ہے!!
3⃣ ماقبل کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ اپنی دکان یا مکان میں بزرگوں کی تصاویر لٹکانے میں دو گناہ ہیں: ایک تو تصویر بنانے کا اور دوسرا تصویر لٹکانے کا۔
4️⃣ زیرِ نظر مسئلے کا ایک قابلِ توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں نے اپنے اُن بزرگوں کی تصاویر بھی اپنی دکان ومکان میں لٹکائی ہوئی ہوتی ہیں کہ جو حیات ہوتے ہیں، ایسے میں وہ بزرگ جانتے ہوئے بھی اپنے ایسے معتقدین کو اس سنگین گناہ سے منع نہیں کرتے، بلکہ بعض تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اس کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔ یہ کس قدر افسوس ناک صورتحال ہے! اور ان بزرگوں کا یہ افسوس ناک طرزِ عمل خود ان کی بزرگی پر سوالیہ نشان لگادیتا ہے کیوں کہ جو واقعتًا بزرگ ہوتے ہیں وہ ہر معاملے میں شریعت کے احکام کو مقدم رکھتے ہیں، تبھی تو وہ بزرگ کہلائے جانے کے مستحق ہوتے ہیں۔

⬅️ حاصل یہ کہ دکان یا مکان میں بزرگوں کی تصاویر لٹکاناایک ناجائز اور نحوست والا عمل ہے، جس سے اجتناب کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔اس سے ان لوگوں کی غلطی بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو اپنے گھروں میں اپنے خاندان کے بڑوں کی تصاویر لٹکاتے ہیں اور انھیں ایک یاد گار قرار دیتے ہیں، یہ بھی سنگین گناہ ہے۔ معلوم ہوا کہ دکان یا مکان میں بزرگوں اور بڑوں کی تصاویر لٹکانا بہر صورت ناجائز اور گناہ ہے۔

☀ إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:
(لا تدخل الملائكة) الحفظة وغيرهم (بيتًا فيه كلب) أو المراد ملائكة الوحي كجبريل وإسرافيل، لكن يلزم منه اقتصار النفي على عهده ﷺ؛ لأن الوحي انقطع بعده وبانقطاعه ينقطع نزولهم، فالمراد بالملائكة الذين ينزلون بالرحمة والمستغفرون للعبد، أما الحفظة فإنهم لا يفارقون المكلف في كل حال، كما جزم به الخطابي وغيره، وأجاب عن الأول بجواز أن لا يدخلوا بأن يكونوا على باب البيت مثلا ويطلعهم الله تعالى على عمل العبد ويسمعهم قوله. والمراد بالبيت المكان الذي يستقر فيه الإنسان، سواء كان بيتًا أو خيمة أو غيرهما. ….. (ولا) تدخل الملائكة بيتًا فيه (تصاوير) مما يشبه الحيوان ما لم تقطع رأسه أو يمتهن أو عام في كل الصور. وسبب الامتناع كونها معصية فاحشة؛ إذ فيها مضاهاة لخلق الله، وبعضها في صورة ما يعبد من دون الله وفي بدء الخلق. (باب التَّصَاوِيرِ)
☀ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
4489- (عَنْ أَبِي طَلْحَةَ): أَيْ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ زَوْجِ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا تَدْخُلُ): بِصِيغَةِ التَّأْنِيثِ وَجُوِّزَ تَذْكِيرُهُ (الْمَلَائِكَةُ): أَيْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ، لَا الْحَفَظَةُ وَمَلَائِكَةُ الْمَوْتِ، وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى كَرَاهَتِهِمْ ذَلِكَ أَيْضًا، لَكِنَّهُمْ مَأْمُورُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ. (بَيْتًا) أَيْ مَسْكَنًا (فِيهِ كَلْبٌ): أَيْ إِلَّا كَلْبَ الصَّيْدِ وَالْمَاشِيَةِ وَالزَّرْعِ، وَقِيلَ: إِنَّهُ مَانِعٌ أَيْضًا وَإِنْ لَمْ يَكُنِ اتِّخَاذُهُ حَرَامًا (وَلَا تَصَاوِيرُ): يَعُمُّ جَمِيعَ أَنْوَاعِ الصُّوَرِ، وَقَدْ رَخَّصَ فِيمَا كَانَ فِي الْأَنْمَاطِ الْمَوْطُؤَةِ بِالْأَرْجُلِ عَلَى مَا ذَكَرَهُ ابْنُ الْمَلَكِ. قَالَ الْخَطَّابِيُّ: إِنَّمَا لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ أَوْ صُورَةٌ مِمَّا يَحْرُمُ اقْتِنَاؤُهُ مِنَ الْكِلَابِ وَالصُّوَرِ، وَأَمَّا مَا لَيْسَ بِحَرَامٍ مِنْ كَلْبِ الصَّيْدِ وَالزَّرْعِ وَالْمَاشِيَةِ وَمِنَ الصُّورَةِ الَّتِي تُمْتَهَنُ فِي الْبِسَاطِ وَالْوِسَادَةِ وَغَيْرِهِمَا فَلَا يَمْنَعُ دُخُولَ الْمَلَائِكَةِ بَيْتَهُ. قَالَ النَّوَوِيُّ: وَالْأَظْهَرُ أَنَّهُ عَامٌّ فِي كُلِّ كَلْبٍ وَصُورَةٍ، وَأَنَّهُمْ يَمْتَنِعُونَ مِنَ الْجَمِيعِ؛ لِإِطْلَاقِ الْأَحَادِيثِ، وَلِأَنَّ الْجَرْوَ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ ﷺ تَحْتَ السَّرِيرِ كَانَ لَهُ فِيهِ عُذْرٌ ظَاهِرٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَعْلَمْ بِهِ، وَمَعَ هَذَا امْتَنَعَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِنْ دُخُولِ الْبَيْتِ وَعَلَّلَهُ بِالْجَرْوِ. وَقَالَ الْعُلَمَاءُ: سَبَبُ امْتِنَاعِهِمْ مِنَ الدُّخُولِ فِي بَيْتٍ فِيهِ صُورَةٌ كَوْنُهَا مِمَّا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ تَعَالَى، وَمِنَ الدُّخُولِ فِي بَيْتٍ فِيهِ كَلْبٌ كَوْنُهُ يَأْكُلُ النَّجَاسَةَ، وَلِأَنَّ بَعْضَهُ يُسَمَّى شَيْطَانًا، كَمَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ، وَالْمَلَائِكَةُ ضِدُّ الشَّيَاطِينِ، وَلِقُبْحِ رَائِحَتِهِ، وَمَنِ اقْتَنَاهُ عُوقِبَ بِحِرْمَانِ دُخُولِ الْمَلَائِكَةِ بَيْتَهُ، وَصَلَاتِهِمْ عَلَيْهِ، وَاسْتِغْفَارِهِمْ لَهُ، وَهَؤُلَاءِ الْمَلَائِكَةُ غَيْرُ الْحَفَظَةِ لِأَنَّهُمْ لَا يُفَارِقُونَ الْمُكَلَّفِينَ. قَالَ أَصْحَابُنَا وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْعُلَمَاءِ: تَصْوِيرُ صُورَةِ الْحَيَوَانِ حَرَامٌ شَدِيدُ التَّحْرِيمِ، وَهُوَ مِنَ الْكَبَائِرِ؛ لِأَنَّهُ مُتَوَعَّدٌ عَلَيْهِ بِهَذَا الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ الْمَذْكُورِ فِي الْأَحَادِيثِ، سَوَاءً صَنَعَهُ فِي ثَوْبٍ أَوْ بِسَاطٍ أَوْ دِرْهَمٍ أَوْ دِينَارٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، وَأَمَّا تَصْوِيرُ صُورَةِ الشَّجَرِ وَالرَّجُلِ وَالْجَبَلِ وَغَيْرِ ذَلِكَ فَلَيْسَ بِحَرَامٍ. هَذَا حُكْمُ نَفْسِ التَّصْوِيرِ، وَأَمَّا اتِّخَاذُ الْمُصَوَّرِ بِحَيَوَانٍ فَإِنْ كَانَ مُعَلَّقًا عَلَى حَائِطٍ سَوَاءً كَانَ لَهُ ظِلٌّ أَمْ لَا، أَوْ ثَوْبًا مَلْبُوسًا أَوْ عِمَامَةً أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَأَمَّا الْوِسَادَةُ وَنَحْوُهَا مِمَّا يُمْتَهَنُ فَلَيْسَ بِحَرَامٍ، وَلَكِنْ هَلْ يَمْنَعُ دُخُولَ الْمَلَائِكَةِ فِيهِ أَمْ لَا؟ فَقَدْ سَبَقَ. (بَابُ التَّصَاوِيرِ)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں