94

خواتین کا زیور پہننے کے لیے کان اور ناک چِھدوانے کا حکم:

خواتین کا زیور پہننے کے لیے کان اور ناک چِھدوانے کا حکم:
خواتین اور بچیوں میں زیور پہننے کے لیے اپنے کان اور ناک چِھدوانے کا رواج عام ہے۔ اس کے شرعی حکم سے متعلق ذیل میں جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ذکر کیا جاتا ہے:

🌺 جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ:
’’خواتین کے لیے زیور پہننے کے لیے کان اور ناک چِھدوانا جائز ہے البتہ ناک چِھدوانے میں چوں کہ اہلِ علم کا اختلاف ہے اس لیے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے ناک نہ چِھدوائے تو بہتر ہے۔ (مأخذہ: امداد الفتاویٰ4/ 135، التبویب 1651/ 16 بتصرف)۔
☀ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 420):
وَلَا بَأْسَ بِثَقْبِ أُذُنِ الْبِنْتِ وَالطِّفْلِ اسْتِحْسَانًا، «مُلْتَقَطٌ». قُلْت: وَهَلْ يَجُوزُ الْخِزَامُ فِي الْأَنْفِ؟ لَمْ أَرَهُ.
☀ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 420):
(قَوْلُهُ: لِلصَّبِيِّ) أَيِ الذَّكَرِ؛ لِأَنَّهُ مِنْ زِينَةِ النِّسَاءِ، ط. (قَوْلُهُ: وَالطِّفْلِ) ظَاهِرُهُ أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ الذَّكَرُ مَعَ أَنَّ ثَقْبَ الْأُذُنِ لِتَعْلِيقِ الْقُرْطِ، وَهُوَ مِنْ زِينَةِ النِّسَاءِ، فَلَا يَحِلُّ لِلذُّكُورِ. وَالَّذِي فِي عَامَّةِ الْكُتُبِ وَقَدَّمْنَاهُ عَنِ «التَّتَارْخَانِيَّة»: لَا بَأْسَ بِثَقْبِ أُذُنِ الطِّفْلِ مِنَ الْبَنَاتِ، وَزَادَ فِي «الْحَاوِي الْقُدْسِيِّ»: وَلَا يَجُوزُ ثَقْبُ آذَانِ الْبَنِينَ. فَالصَّوَابُ إسْقَاطُ الْوَاوِ. (قَوْلُهُ: لَمْ أَرَهُ) قُلْت: إنْ كَانَ مِمَّا يَتَزَيَّنُ النِّسَاءُ بِهِ كَمَا هُوَ فِي بَعْضِ الْبِلَادِ فَهُوَ فِيهَا كَثَقْبِ الْقُرْطِ اهـ، ط، وَقَدْ نَصَّ الشَّافِعِيَّةُ عَلَى جَوَازِهِ، مَدَنِيٌّ……. واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔‘‘ (فتویٰ نمبر: ۱۸۶۹/ ۷۷)

📿 وضاحتیں:
1⃣ بچیوں اور خواتین کے لیے ناک چِھدوانے کے حوالے سے یہ نکتہ سمجھ لینا چاہیے کہ ماقبل میں مذکور ’’رد المحتار‘‘ کی عبارت میں یہ بات موجود ہے کہ اگر کسی معاشرے میں بچیوں اور خواتین کے لیے ناک چِھدوا کر اس میں زیور پہننے کو زینت سمجھا جاتا ہو تو وہاں یہ جائز ہوگا۔ اور آجکل عمومًا اس کو زینت ہی سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ البتہ یہ بات ذکر ہوچکی ہے کہ بچیوں اور خواتین کے لیے ناک چِھدوانے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، اس لیے یہ جائز تو ہے البتہ اگر کوئی احتیاط کرتے ہوئے اس سے اجتناب کرے تو یہ بہتر ہے۔
2️⃣ ناک اور کان چِھدوانے کے جائز ہونے کا تعلق بچیوں اور خواتین کے ساتھ ہے کہ یہ ان کے لیے جائز ہے کیوں کہ زیور پہننے کا تعلق بھی انھی کے ساتھ ہے۔ جہاں تک مردوں اور نابالغ لڑکوں کے کان اور ناک چِھدوانے کا تعلق ہے تو ماقبل میں مذکور ’’رد المحتار‘‘ کی عبارت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کے لیے ایسا کرنا ناجائز ہے، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ آجکل نوجوان لڑکوں میں رفتہ رفتہ کان چِھدوانے کا رواج عام ہورہا ہے جو کہ افسوس ناک اور قابلِ اصلاح بات ہے۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں