105

تین سنگین گناہ:

تین سنگین گناہ:

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تین طرح کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُن سے [لُطف وکرم کی] گفتگو نہیں فرمائیں گے، اُن کو [رحمت کی نگاہ سے] نہیں دیکھیں گے، اُن کو [گناہوں سے] پاک نہیں کریں گے اور اُن کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔‘‘ تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ تو نامراد اور خسارے والے ہیں، اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
1⃣ ٹخنے چھپانے والا مرد۔
2️⃣ جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔
3⃣ احسان جتلانے والا۔
☀ صحیح مسلم میں ہے:
306- عَنْ أَبِى ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»، قَالَ: فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ ثَلَاثَ مِرَارٍ. قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا، مَنْ
هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ».
307- عَنْ أَبِى ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْمَنَّانُ الَّذِى لَا يُعْطِى شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ».
☀ سنن النسائی میں ہے:
2562- عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُم اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَابُوا وَخَسِرُوا خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: «الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ».
مذکورہ حدیث میں تین گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی مختصر وضاحت درج ذیل ہے تاکہ حدیث کا مفہوم واضح ہوجائے۔

📿 مردوں کے لیے ٹخنے چھپانے کا گناہ:
1⃣ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ مردوں کے لیے کھڑے ہونے کی حالت میں شلوار، لنگی یا پتلون وغیرہ کے ذریعے ٹخنے چھپانا ناجائز اور بڑا گناہ ہے جس پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
2️⃣ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ٹخنے چھپانے کی ممانعت صرف شلوار، لنگی اور پتلون کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اس میں قمیص، جبہ، چادر، عمامہ اور رومال سمیت اوپر سے آنے والی ہر وہ چیز داخل ہے جو مرد نے پہن یا اوڑھ رکھی ہو کہ وہ اتنی طویل نہیں ہونی چاہیے کہ اس کی وجہ سےکھڑے ہونے کی حالت میں مرد کے ٹخنے چھپ جائیں۔ اور یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ اس میں موزے اور جوتے داخل نہیں۔
(سنن ابی داود حدیث: 4096 مع بذل المجہود)
3⃣ جب ٹخنے چھپانا عام حالت میں سنگین گناہ ہے تو ظاہر ہے کہ نماز جیسی عظیم عبادت میں اس گناہ کے ارتکاب سے گناہ کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہےکیوں کہ عبادت کی ادائیگی میں گناہ کا ارتکاب بڑا جرم بن جاتا ہے، جیسا کہ مسجد میں گناہ کا ارتکاب گناہ کی سنگینی اور وبال میں اضافہ کردیتا ہے۔
اس کی مزید تفصیل اسی سلسلہ اصلاحِ اغلاط کے سلسلہ نمبر 184:’’نماز کی حالت میں مرد کے لیے ٹخنے چھپانے کا حکم‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔

📿 جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرنا:
جھوٹ بولنا تو ویسے بھی شدید گناہ ہے اور جب جھوٹی قسم کھائی جائے تو اس کی وجہ سے گناہ کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ آجکل کاروبار میں یہ افسوس ناک صورتحال بہت زیادہ عام ہوچکی ہے کہ گاہک کو مطمئن اور آمادہ کرنے کے لیے کیسے کیسے جھوٹ بولے جاتے ہیں حتی کہ اپنے مفادات اور اغراض کی خاطر جھوٹی قسمیں بھی بے باکی سے کھالی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات گاہک کا نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جہاں جھوٹی قسم کھانے کا گناہ اور اس کی وعیدیں حصہ میں آتی ہیں وہیں تجارت اور مال سے برکت بھی اٹھ جاتی ہے، یہ کس قدر نقصان اور خسارے کی باتیں ہیں۔ اس لیے تاجر کو خصوصی طور پر سچائی اور دیانت داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیوں کہ ایسا سچا اور امانت دار تاجر قیامت میں انبیاء کرام، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔

📿 احسان جتلانا:
کسی دوسرے پر احسان کرکے اس کو جتلانا، اس کو بار بار باور کرانا، اس کو طعنے دینا، احسان یاد دلا کر اس سے خدمت لینا اور لوگوں کے سامنے اس احسان کے تذکرہ سے اس کو رسوا کرنا؛ یہ ساری صورتحال احسان جتلانے کی ہے، جو کہ ناجائز اور سنگین گناہ ہے، اس کی وجہ سے اجر بھی ضائع ہوجاتا ہے اور باہمی تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی پر احسان کرکے جتلانا واضح طور پر نامناسب سی بات ہے کیوں کہ:
1⃣ جب احسان اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے اور اسی سے اس کا اجر چاہیے تو اس کو جتلانے کا کیا مطلب؟؟ اس سے تو اجر ضائع ہوجاتا ہے۔
2️⃣ جب احسان کرنے کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی نے دی ہے اور اسی نے اس قابل بنایا ہے تو اس میں بندے کا کیا کمال جس کی وجہ سے احسان جتلایا جائے؟؟ اس بات پر تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے دوسرے پر احسان کرنے کے قابل بنایا۔
3⃣ جب احسان ہمدردی کی بنیاد پر کیا ہے تو یہ ہمدردی برقرار رہنی چاہیے، جس کی صورت یہی ہے کہ احسان جتلایا نہ جائے، ورنہ تو احسان جتلانے کا یہی مطلب ہوا کرتا ہے کہ مقصود ہمدردی نہ تھی۔

▪ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے تمام گناہوں سے محفوظ فرمائے اور اپنی رضا والی زندگی نصیب فرمائے۔

☀ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
2795- (وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ»): أَيْ أَشْخَاصٌ («لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»): أَيْ كَلَامَ لُطْفٍ وَعِنَايَةٍ («وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ»): أَيْ نَظَرَ رَحْمَةٍ وَرِعَايَةٍ («وَلَا يُزَكِّيهِمْ»): أَيْ لَا يُنَمِّي أَعْمَالَهُمْ وَلَا يُطَهِّرُهُمْ مِنَ الْخَبَائِثِ («وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»): أَيْ مُؤْلِمٌ (قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا): أَيْ حُرِمُوا مِنَ الْخَيْرِ (وَخَسِرُوا): أَيْ أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ (مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ»): أَيْ إِزَرَاهُ عَنْ كَعْبَيْهِ، وَالْمُطَوِّلُ سِرْوَالَهُ إِلَى الْأَرْضِ كِبْرًا وَاخْتِيَالًا، («وَالْمَنَّانُ»): أَيِ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ كَمَا فِي رِوَايَةٍ، وَقِيلَ: أَيْ يَمُنُّ بِمَا يُعْطِيهِ لِغَيْرِهِ بِأَنَّهُ يَذْكُرُ وَلَوْ لِوَاحِدٍ، فَالْمُبَالَغَةُ غَيْرُ شَرْطٍ كَـ«أَعْطَيْتُ فُلَانًا كَذَا» وَفُلَانٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ الْقَوْلَ اهـ. فَهِيَ مِنَ الْمِنَّةِ الَّتِي هِيَ الِاعْتِدَادُ بِالصَّنِيعَةِ، وَهِيَ إِنْ وَقَعَتْ فِي الصَّدَقَةِ أَبْطَلَتِ الْمَثُوبَةَ، وَإِنْ وَقَعَتْ فِي الْمَعْرُوفِ كَدَّرَتِ الصَّنِيعَةَ. وَالْمُنَفِّقُ: بِالتَّشْدِيدِ فِي أُصُولِنَا، وَقَالَ الطِّيبِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بِالتَّخْفِيفِ أَيِ الْمُرَوِّجِ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَفِي رِوَايَةٍ: بِالْحَلِفِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَهُوَ كَاذِبٌ، وَهُوَ يَقُولُ لِلْمُشْتَرِي: اشْتَرَيْتُ هَذَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، وَاللهِ، لِيَظُنَّ الْمُشْتَرِي أَنَّ ذَلِكَ الْمَتَاعَ يُسَاوِي مِائَةَ دِينَارٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَيَرْغَبُ فِي شِرَائِهِ. (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) وَكَذَا أَحْمَدُ وَالْأَرْبَعَةُ.
(بَابُ الْمُسَاهَلَةِ فِي الْمُعَامَلَةِ)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں