109

تحقیقِ حدیث: ایک عورت چار افراد کو جہنم لے جائے گی!

تحقیقِ حدیث: ایک عورت چار افراد کو جہنم لے جائے گی!

▪ حدیث:
یہ روایت کافی مشہور ہے کہ:’’ایک عورت اپنے ساتھ چار افراد یعنی والد، شوہر، بھائی اوربیٹے کو بھی جہنم لے جائے گی، کیوں کہ انھوں نے اس عورت کو دین نہیں سکھایا اور اس کی تربیت پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے وہ گناہوں میں مبتلا ہوئی۔‘‘ یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے۔

📿 تحقیقِ حدیث:
1⃣ مذکورہ روایت ان الفاظ کے ساتھ کتبِ احادیث میں موجود نہیں، اس لیے اس کو حدیث کہہ کر بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
2️⃣ اصولی طور پر ہر مرد اور عورت اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا خود ہی ذمہ دار ہے، اس لیے اس کے گناہوں کی سزا کسی دوسرے شخص کو نہیں دی جاسکتی، البتہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو کسی گناہ میں مبتلا کرنے کا سبب بنا ہے تو اس بنیاد پر اس سبب بننے والے شخص کو بھی گناہ گار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
☀ سورۃ النجم میں ہے:
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرٰى (38)
▪ ترجمہ: ’’یعنی یہ کہ کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔‘‘
☀ سورۃ العنکبوت میں ہے:
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ (13)
▪ ترجمہ: ’’اور وہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ بھی ضرور اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ بھی۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن)
اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ اور بوجھ اُٹھانے کا یہی مطلب ہے کہ انھوں نے دوسروں کو بھی گناہوں میں مبتلا کیا ہوگا تو ان کا گناہ ان کو بھی ملے گا۔
3⃣ احادیث کی رو سے گھر کے سربراہ کو اس کے اہل وعیال پر نگہبان قرار دیا گیا ہے، وہ اگر اپنے اہل وعیال کی تربیت میں کوتاہی کرے گا تو قیامت کے دن اس سے اس بارے میں پوچھا جائے گا، جیسے والد سے اولاد کے بارے میں اور شوہر سے اپنی بیوی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یہاں تک تو بات درست اور ثابت ہے، اس لیے اسی انداز سے یہ بات بیان کرنی چاہیے۔
☀ صحیح بخاری:
2554- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «كُلُّكُمْ رَاعٍ فَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ».

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں