117

بیت الخلا اور غسل خانے میں وضو اور غسل کی دعائیں پڑھنے کا حکم

بیت الخلا اور غسل خانے میں وضو اور غسل کی دعائیں پڑھنے کا حکم

بیت الخلا اور غسل خانے میں وضو کرتے وقت مسنون دعائیں پڑھنے کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح غسل شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے اور غسل سے پہلے وضو کرنے کی صورت میں وضو کی دعائیں پڑھنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے، تو بیت الخلا اور غسل خانے میں وضو اور غسل کی دعائیں پڑھنا جائز ہے یا نہیں، اس حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے۔

📿 تین صورتوں میں زبان سے دعائیں پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے:
1⃣ برہنہ حالت میں یعنی جب ستر کھلا ہو۔
2⃣ بیت الخلا یا استنجا خانے میں۔
3⃣ بیت الخلا جیسی کسی اور گندگی والی جگہ میں۔
ان تین صورتوں میں زبان سے دعائیں نہیں پڑھنی چاہییں بلکہ دل ہی دل میں پڑھ لینی چاہییں۔
▪ اس اصول کو مدّنظر رکھتے ہوئے مسائل کی تفصیل یہ ہے کہ:
⬅️ اگر وضو یا غسل بیت الخلا میں کیا جائے یا ایسے غسل خانے میں کیا جائے جو بیت الخلا ہی کے اندر ہو یعنی دونوں کی چار دیواری ایک ہو اور دونوں متصل ہوں تو ایسی صورت میں زبان سے دعائیں نہ پڑھے بلکہ دل ہی میں پڑھ لے۔
⬅️ لیکن اگر کسی صاف غسل خانے میں یا کسی اور صاف جگہ وضو یا غسل کرنا ہو تو ایسی صورت میں دعائیں زبان سے پڑھنا درست ہے۔ البتہ اس صورت میں برہنہ غسل کرتے وقت ’’بسم اللہ‘‘ ستر کھولنے سے پہلے پڑھ لے اور پھر باقی دعائیں دل ہی میں پڑھے۔

❄ ذیل میں چند فتاویٰ ذکر کیے جاتے ہیں تاکہ ان مسائل کی مزید وضاحت ہوسکے اور متعدد صورتوں کا حکم بخوبی معلوم ہوسکے۔

1⃣ جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ:
’’بیت الخلا کی دعا متصل استنجا اور غسل خانے (اٹیچ باتھ روم) کی چار دیواری میں داخل ہونے سے پہلے پڑھنی چاہیے، اور اگر وضو کی جگہ مکمل طور پر صاف ستھری ہو اور قضائے حاجت کی جگہ سے اتنے فاصلے پر ہو کہ بدبو نہ آرہی ہو تو ایسی صورت میں قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد وہاں پہنچ کر بیت الخلا سے نکلنے کی دعا اور وضو کی دعائیں پڑھنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر بدبو آرہی ہو یا جگہ صاف نہ ہو تو زبان سے نہ پرھیں بلکہ دل میں پڑھیں۔ واللہ اعلم بالصواب‘‘
(فتویٰ نمبر: 1409/ 44)

2⃣ دار العلوم دیوبند کا فتویٰ:
اگر آدمی برہنہ نہ ہو اور غسل خانہ میں گندگی بھی نہ ہو تو غسل خانہ میں دعا یا کوئی ذکر وغیرہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔ (فتویٰ نمبر :65710، تاریخ اِجرا: 30 اپریل 2016)

3⃣ دار العلوم دیوبند کا ایک اور فتویٰ:
اگر بیت الخلا میں غسل خانہ بھی ہے، یعنی اٹیچ لٹرین باتھ روم ہے اور دونوں ایک دوسرے سے واضح طور پر ممتاز ہیں، مثلًا دونوں کے درمیان کوئی چھوٹی دیوار ہے اور غسل خانہ کے حصہ میں بیت الخلا کی بدبو وغیرہ محسوس نہیں ہوتی تو غسل خانہ والے حصے میں وضو کرتے وقت وضو کی دعائیں پڑھ سکتے ہیں ،البتہ ہلکی آواز سے پڑھے، زور سے نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر آئنیہ غسل خانے کے حصہ میں ہے تو آئینہ دیکھتے وقت آئینہ کی دعا بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اور اگر بیت الخلا اور غسل خانہ دونوں واضح طور پر ممتاز نہیں ہیں یا وہ دراصل صرف بیت الخلا ہے اور ہاتھ منہ دھونے کے لیے کسی جگہ کنارے میں کوئی چھوٹا سا واش بیسن لگا دیا گیا ہے جیسے عام طور پر ٹرینوں میں ہوتا ہے تو وہاں اگر کوئی شخص وضو کرے یا آئینہ میں چہرہ دیکھے تو وہ صرف دل دل میں دعا پڑھ سکتا ہے، زبان سے نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(جواب نمبر: 63903)

4⃣ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ:
مروّجہ مشترکہ غسل خانہ اور بیت الخلا جہاں غسل اور قضائے حاجت کی جگہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہوتا ہے، اس قسم کے غسل خانوں میں وضو کرنا تو درست ہے، البتہ وضو کے دوران جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ نہ پڑھی جائے کیوں کہ یہ بیت الخلا میں پڑھنا شمار ہوگا، اور بیت الخلا میں اذکار پڑھنے سے شریعت نے منع کیا ہے، البتہ زبان سے پڑھنے کے بجائے دل میں پڑھ لے تو درست ہے۔
(فتوی نمبر: 144004200027)

❄ فقہی عبارات:
☀ الدر المختار:
(وَ) الْبُدَاءَةُ (بِالتَّسْمِيَةِ) قَوْلًا …. (قَبْلَ الِاسْتِنْجَاء وَبَعْده) إلَّا حَالَ انْكِشَافٍ وَفِي مَحَلِّ نَجَاسَةٍ فَيُسَمِّي بِقَلْبِهِ…
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: إلَّا حَالَ انْكِشَافٍ إلَخْ) الظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ أَنَّهُ يُسَمِّي قَبْلَ رَفْعِ ثِيَابِهِ إنْ كَانَ فِي غَيْرِ الْمَكَانِ الْمُعَدِّ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ، وَإِلَّا فَقَبْلَ دُخُولِهِ، فَلَوْ نَسِيَ فِيهِمَا سَمَّى بِقَلْبِهِ، وَلَا يُحَرِّكُ لِسَانَهُ تَعْظِيمًا لِاسْمِ اللهِ تَعَالَى.
☀ الدر المختار:
(وَسُنَنُهُ) كَسُنَنِ الْوُضُوءِ سِوَى التَّرْتِيبِ. وَآدَابُهُ كَآدَابِهِ سِوَى اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ؛ لِأَنَّهُ يَكُونُ غَالِبًا مَعَ كَشْفِ عَوْرَةٍ…
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: وَسُنَنُهُ) أَفَادَ أَنَّهُ لَا وَاجِبَ لَهُ ط. وَأَمَّا الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ فَهُمَا بِمَعْنَى الْفَرْضِ؛ لِأَنَّهُ يَفُوتُ الْجَوَازُ بِفَوْتِهِمَا، فَالْمُرَادُ بِالْوَاجِبِ أَدْنَى نَوْعَيْهِ كَمَا قَدَّمْنَاهُ فِي الْوُضُوءِ. (قَوْلُهُ: كَسُنَنِ الْوُضُوءِ) أَيْ مِنَ الْبدَاءَةِ بِالنِّيَّةِ وَالتَّسْمِيَةِ وَالسِّوَاكِ وَالتَّخْلِيلِ وَالدَّلْكِ وَالْوَلَاءِ إلَخْ، وَأُخِذَ ذَلِكَ فِي «الْبَحْرِ» مِنْ قَوْلِهِ: «ثُمَّ يَتَوَضَّأُ» ….. (قَوْلُهُ: وَآدَابُهُ كَآدَابِهِ) نَصَّ عَلَيْهِ فِي «الْبَدَائِعِ»: قَالَ الشُّرُنْبُلَالِيُّ: وَيُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ مُطْلَقًا، أَمَّا كَلَامُ النَّاسِ فَلِكَرَاهَتِهِ حَالَ الْكَشْفِ، وَأَمَّا الدُّعَاءُ فَلِأَنَّهُ فِي مَصَبِّ الْمُسْتَعْمَلِ وَمَحَلِّ الْأَقْذَارِ وَالْأَوْحَالِ اهـ. أَقُولُ: قَدْ عَدَّ التَّسْمِيَةَ مِنْ سُنَنِ الْغُسْلِ فَيُشْكِلُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ، تَأَمَّلْ.
☀ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی:
قوله: (قبل دخوله) الأولى التفصيل وهو إن كان المكان معدا لذلك يقول قبل الدخول، وإن كان غير معد له كالصحراء ففي أوان الشروع كتشمير الثياب مثلا قبل كشف العورة، وإن نسي ذلك أتى به في نفسه لا بلسانه.

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں