104

قربانی کرنے والے شخص کے لیے بال اور ناخن کاٹنے کا حکم:

قربانی کرنے والے شخص کے لیے بال اور ناخن کاٹنے کا حکم:
قربانی کرنے والے شخص کے لیے ذُوالحجّہ کا چاند نظرآجانے کے بعد سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب ہے، لیکن اگر کوئی شخص کاٹنا چاہے تو بھی جائز ہے، گناہ نہیں۔ البتہ اگر قربانی کرنے سے پہلے ناخنوں اورزیرِ ناف اور بغل کے بالوں کے چالیس دن پورے ہوچکے ہوں تو ایسی صورت میں ان زائد بالوں اور ناخنوں کو کاٹنا ضروری ہے۔ (صحیح مسلم حدیث:5232، 5233، 622، رد المحتار، احسن الفتاویٰ)
اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کرنے والے حضرات کو چاہیے کہ وہ ذو الحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے پہلے اپنے بال اور ناخن کاٹنے کا اہتمام کریں۔

📚 احادیثِ مبارکہ اور فقہی عبارت
☀ صحیح مسلم میں ہے:
5232- عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِىَّ ﷺ قَالَ: «إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّىَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا».
5233- عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ قَالَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّىَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا».
622- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: وُقِّتَ لَنَا فِى قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الأَظْفَارِ وَنَتْفِ الإِبْطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَّا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
☀ رد المحتار میں ہے:
مَطْلَبٌ فِي إزَالَةِ الشَّعْرِ وَالظُّفُرِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ:
[خَاتِمَةٌ] قَالَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ: وَفِي الْمُضْمَرَاتِ عَن ابْنِ الْمُبَارَكِ فِي تَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الرَّأْسِ فِي الْعَشْرِ أَيْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ قَالَ: لَا تُؤَخَّرُ السُّنَّةُ، وَقَدْ وَرَدَ ذَلِكَ، وَلَا يَجِبُ التَّأْخِيرُ اهـ وَمِمَّا وَرَدَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يُقَلِّمَنَّ ظُفُرًا»، فَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى النَّدْبِ دُونَ الْوُجُوبِ بِالْإِجْمَاعِ، فَظَهَرَ قَوْلُهُ: وَلَا يَجِبُ التَّأْخِيرُ إلَّا أَنَّ نَفْيَ الْوُجُوبِ لَا يُنَافِي الِاسْتِحْبَابَ فَيَكُونُ مُسْتَحَبًّا إلَّا إنِ اسْتَلْزَمَ الزِّيَادَةَ عَلَى وَقْتِ إبَاحَةِ التَّأْخِيرِ وَنِهَايَتُهُ مَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ فَلَا يُبَاحُ فَوْقَهَا. (باب العیدین)
(قَوْلُهُ: وَكُرِهَ تَرْكُهُ) أَيْ تَحْرِيمًا؛ لِقَوْلِ «الْمُجْتَبَى»: وَلَا عُذْرَ فِيمَا وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ وَيَسْتَحِقُّ الْوَعِيدَ اهـ ، وَفِي «أَبِي السُّعُودِ» عَنْ «شَرْحِ الْمَشَارِقِ» لِابْنِ مَلَكٍ رَوَى مُسْلِمٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «وُقِّتَ لَنَا فِي تَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَقَصِّ الشَّارِبِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»، وَهُوَ مِن الْمُقَدَّرَاتِ الَّتِي لَيْسَ لِلرَّأْيِ فِيهَا مَدْخَلٌ فَيَكُونُ كَالْمَرْفُوعِ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں