85

🌻 قربانی واجب ہونے کی شرائط اور نصاب

🌻 قربانی واجب ہونے کی شرائط اور نصاب
▪سلسلہ مسائلِ قربانی نمبر: 8️⃣ (تصحیح ونظر ثانی شدہ)

📿 قربانی واجب ہونے کی شرائط:
یہ بات واضح رہے کہ شریعت نے قربانی کی عبادت ہر مسلمان پر واجب قرار نہیں دی ہے، بلکہ اس کے لیے کچھ مخصوص شرائط رکھے ہیں، ان شرائط کے پائے جانے کے بعد ہی قربانی واجب ہوتی ہے۔ ذیل میں یہ شرائط ذکر کی جاتی ہیں:
1⃣ مسلمان ہونا:
قربانی واجب ہونے کے لیے صاحبِ ایمان ہونا ضروری ہے کیوں کہ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ ایمان نہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلم کی قربانی قبول ہی نہیں ہوتی، اس لیے کہ اعمال کی قبولیت کی شرائط میں سے بنیادی شرط ایمان ہے۔

2️⃣ بالغ ہونا:
قربانی واجب ہونے کے لیے بالغ ہونا ضروری ہے کہ صرف بالغ ہی پر قربانی واجب ہوتی ہے، اس لیے نابالغ پر قربانی واجب نہیں اگرچہ اس کی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال موجود ہو، اور یہی بات راجح اور مفتیٰ بہ ہے۔ اگرچہ بعض مشایخ کرام کے نزدیک اگر نابالغ صاحبِ نصاب ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے، لیکن یہ قول راجح نہیں ہے۔

3⃣ عاقل ہونا:
قربانی واجب ہونے کے لیےعاقل ہونا ضروری ہے کیوں کہ مجنون پر قربانی واجب نہیں اگرچہ وہ صاحبِ نصاب ہو۔

4️⃣ مقیم ہونا:
قربانی واجب ہونے کے لیے مقیم ہونا ضروری ہے کیوں کہ مسافر پر قربانی واجب نہیں اگرچہ وہ صاحبِ نصاب ہو۔

❄️ وضاحت:
شرعی اعتبار سے مسافر سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے مقام سے 48 میل (یعنی 77.25 کلومیٹر) یا اس سے زیادہ مسافت کے سفر پر ہو اور کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ مدت رہنے کی نیت نہ کی ہو۔اس کی مزید تفصیل کا یہ موقع نہیں، اس کے لیے متعلقہ کتب کی طرف رجوع کرلیا جائے۔

❄️ مسئلہ:
اگر کوئی مسافر قربانی کے تین دنوں میں مقیم ہوگیا اور وہ صاحبِ نصاب بھی تھا تو اس پر قربانی واجب ہوگی، اسی طرح اگر کوئی صاحبِ نصاب مقیم شخص قربانی ہی کے ایام میں مسافر ہوجائے تو اس کے ذمہ قربانی واجب نہیں رہی، اگر ایسی صورتحال میں وہ جانور خرید کر لایا تھا تو اس کے لیے وہ جانور فروخت کرکے اس کی رقم اپنے استعمال میں لانا درست ہے۔

5️⃣ صاحبِ نصاب ہونا:
قربانی واجب ہونے کے لیے صاحبِ نصاب ہونا ضروری ہے کیوں کہ جو شخص صاحبِ نصاب نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں۔

▪ خلاصہ:
قربانی ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو عاقل، بالغ، مقیم اور صاحبِ نصاب ہو چاہے مرد ہو یا عورت۔
(رد المحتار، فتاویٰ عالمگیری، مبسوط السرخسی، جواہر الفقہ، فتاویٰ محمودیہ)

▫️ مسئلہ:
اگر مسافر اور غیر صاحبِ نصاب شخص بخوشی نفلی قربانی کرنا چاہیں تو بھی درست ہے۔ (رد المحتار)

☀ الدر المختار میں ہے:
وَشَرْعًا: (ذَبْحُ حَيَوَانٍ مَخْصُوصٍ بِنِيَّةِ الْقُرْبَةِ فِي وَقْتٍ مَخْصُوصٍ. وَشَرَائِطُهَا: الْإِسْلَامُ وَالْإِقَامَةُ وَالْيَسَارُ الَّذِي يَتَعَلَّقُ بِهِ) وُجُوبُ (صَدَقَةِ الْفِطْرِ) كَمَا مَرَّ (لَا الذُّكُورَةُ فَتَجِبُ عَلَى الْأُنْثَى) «خَانِيَّةٌ» …. (فَتَجِبُ) التَّضْحِيَةُ: أَيْ إرَاقَةُ الدَّمِ مِن النَّعَمِ عَمَلًا لَا اعْتِقَادًا بِقُدْرَةٍ مُمْكِنَةٍ …. (عَلَى حُرٍّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ) بِمِصْرٍ أَوْ قَرْيَةٍ أَوْ بَادِيَةٍ، «عَيْنِيٌّ»، فَلَا تَجِبُ عَلَى حَاجٍّ مُسَافِرٍ، فَأَمَّا أَهْلُ مَكَّةَ فَتَلْزَمُهُمْ وَإِنْ حَجُّوا، وَقِيلَ: لَا تَلْزَمُ الْمُحْرِمَ، «سِرَاجٌ». (مُوسِرٌ) يَسَارَ الْفِطْرَةِ (عَنْ نَفْسِهِ، لَا عَنْ طِفْلِهِ) عَلَى الظَّاهِرِ، بِخِلَافِ الْفِطْرَةِ (شَاةٌ) بِالرَّفْعِ بَدَلٌ مِنْ ضَمِيرِ «تَجِبُ» أَوْ فَاعِلِهِ (أَوْ سُبْعُ بَدَنَةٍ) هِيَ الْإِبِلُ وَالْبَقَرُ، سُمِّيَتْ بِهِ؛ لِضَخَامَتِهَا، وَلَوْ لِأَحَدِهِمْ أَقَلُّ مِنْ سُبْعٍ لَمْ يُجْزِ عَنْ أَحَدٍ، وَتُجْزِي عَمَّا دُونَ سَبْعَةٍ بِالْأَوْلَى. (فَجْرَ) نُصِبَ عَلَى الظَّرْفِيَّةِ (يَوْمَ النَّحْرِ إلَى آخِرِ أَيَّامِهِ) وَهِيَ ثَلَاثَةٌ أَفْضَلُهَا أَوَّلُهَا. (وَيُضَحِّي عَنْ وَلَدِهِ الصَّغِيرِ مِنْ مَالِهِ) صَحَّحَهُ فِي «الْهِدَايَةِ»، (وَقِيلَ: لَا) صَحَّحَهُ فِي«الْكَافِي». قَالَ: وَلَيْسَ لِلْأَبِ أَنْ يَفْعَلَهُ مِنْ مَالِ طِفْلِهِ، وَرَجَّحَهُ ابْنُ الشِّحْنَةِ. قُلْت: وَهُوَ الْمُعْتَمَدُ لِمَا فِي مَتْنِ «مَوَاهِبِ الرَّحْمَنِ» مِنْ أَنَّهُ أَصَحُّ مَا يُفْتَى بِهِ.
☀ رد المحتار میں ہے:
فَالْمُسَافِرُ لَا تَجِبُ عَلَيْهِ وَإِنْ تَطَوَّعَ بِهَا أَجْزَأَتْهُ عَنْهَا، وَهَذَا إذَا سَافَرَ قَبْلَ الشِّرَاءِ، فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ شَاةً لَهَا ثُمَّ سَافَرَ فَفِي الْمُنْتَقَى أَنَّهُ يَبِيعُهَا وَلَا يُضَحِّي بِهَا أَيْ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ ذَلِكَ، وَكَذَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ، وَمِن الْمَشَايِخِ مَنْ فَصَّلَ فَقَالَ: إنْ كَانَ مُوسِرًا لَا يَجِبُ عَلَيْهِ وَإِلَّا يَنْبَغِي أَنْ يَجِبَ عَلَيْهِ وَلَا تَسْقُطُ بِسَفَرِهِ، وَإِنْ سَافَرَ بَعْدَ دُخُولِ الْوَقْتِ قَالُوا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْجَوَابُ كَذَلِكَ اهـ ، ط عَن «الْهِنْدِيَّةِ» وَمِثْلُهُ فِي «الْبَدَائِعِ».
فتاویٰ قاضی خان میں ہے:
موسر اشترى شاة للأضحية في أول أيام النحر فلم يضح حتى افتقر قبل مضي أيام النحر أو أنفق حتى انتقص النصاب سقطت عنه الأضحية، وإن افتقر بعد ما مضت أيام النحر كان عليه أن يتصدق بعينها أو بقيمتها ولا يسقط عنه الأضحية …. فإن سافر قبل أيام النحر باعها وسقطت عنه الأضحية بالمسافرة. (فصل في صفة الأضحية و وقت وجوبها و من تجب عليه)

📿 قربانی صرف صاحبِ نصاب پر واجب ہے!
ماقبل میں مذکور آخری شرط نمبر 5 سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قربانی ہر شخص پر واجب نہیں، بلکہ اس کے لیے شریعت نے ایک خاص نصاب مقرر فرمایا ہے، جس شخص کے پاس اُس نصاب کے برابر مال ہو اس کو صاحبِ نصاب کہتے ہیں، صرف اسی پر قربانی واجب ہے، اور جو شخص صاحبِ نصاب نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو قربانی کے نصاب سے واقفیت حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں، آجکل بہت سے حضرات اس کی فکر نہیں کرتے، یہ قابلِ اصلاح بات ہے۔

📿 قربانی واجب ہونے کا اجمالی نصاب:
1⃣ جس شخص پر زکوٰة فرض ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔
2️⃣ قربانی کا نصاب وہی ہے جو صدقۃ الفطر کا ہے یعنی قربانی میں بھی انھی اموال کا حساب لگایا جاتا ہے جن کا صدقۃ الفطر میں حساب لگایا جاتا ہے، اس لیے جس شخص کے پاس صدقۃ الفطر کا نصاب موجود ہے اس پر قربانی واجب ہے۔ تفصیل آگے ذکر ہوگی ان شاء اللہ۔
☀ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
وَأَمَّا شَرَائِطُ الْوُجُوبِ منها: الْيَسَارُ وهو ما يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ دُونَ ما يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبُ الزَّكَاةِ. (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ: الْبَابُ الْأَوَّلُ)
قربانی کا تفصیلی نصاب بیان کرنے سے پہلے ایک اہم نکتے کی وضاحت ضروری ہے، ملاحظہ فرمائیں:

❄ زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور قربانی کے نصاب سے متعلق بعض غلط فہمیوں کا اِزالہ
ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور قربانی کے نصاب سے متعلق درج ذیل غلط فہمیاں رائج ہیں:
1⃣ بہت سے لوگ اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ جس شخص پر زکوٰۃ فرض نہیں تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے، گویا کہ ان کے نزدیک زکوٰۃ کا مستحق ہونے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ اس پر زکوٰۃ فرض نہ ہو۔
2️⃣ اسی طرح بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ جس شخص پر زکوٰۃ فرض ہے تو صرف اسی پر صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہے، اور جس شخص پر زکوٰۃ فرض نہیں تو اس پر صدقۃ الفطر اور قربانی بھی واجب نہیں۔
⬅️ یاد رہے کہ یہ واضح غلط فہمیاں ہیں، کیوں کہ نصاب کو دیکھتے ہوئے زکوٰۃ کے معاملے میں مسلمانوں کے تین طبقات ہیں:

📿 زکوٰۃ کے نصاب کے اعتبار سے مسلمانوں کے تین طبقات:
1️⃣ پہلا وہ طبقہ جن پر زکوٰۃ فرض ہے۔
2️⃣ دوسرا وہ طبقہ جن کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔
3️⃣ تیسرا وہ طبقہ جن پر زکوٰۃ فرض بھی نہیں اور ان کے لیے زکوٰۃ لینا بھی جائز نہیں۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور قربانی کے نصاب سے متعلق مسلمانوں میں تین طبقے پائے جاتے ہیں:
▪ پہلا طبقہ: جن کے پاس زکوٰۃ کا نصاب موجود ہوتا ہے۔
▫️ حکم: ان کے ذمّے زکوٰۃ بھی فرض ہے، اور اگر صدقۃ الفطر اور قربانی کے ایام میں یہ نصاب موجود ہو تو ان کے ذمّے صدقۃ الفطر اور قربانی بھی واجب ہیں۔

▪ دوسرا طبقہ: جن کے پاس زکوٰۃ کا نصاب بھی نہیں ہوتا، اور صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب بھی نہیں ہوتا۔
▫️ حکم: ان کے ذمّے زکوٰۃ،صدقۃ الفطر اور قربانی میں سے کوئی حکم بھی لازم نہیں ہوتا، یہی وہ طبقہ ہے جن کو زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور صدقاتِ واجبہ دینا جائز ہے۔

▪ تیسرا طبقہ: جن کے پاس زکوٰۃ کا نصاب تو نہیں ہوتا البتہ صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب موجود ہوتا ہے۔
▫️ حکم: ان کے ذمّے زکوٰۃ تو فرض نہیں البتہ صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہیں، یہ وہ طبقہ ہے کہ ان کے لیے بھی زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔

📿 قربانی اور زکوٰۃ کے نصاب میں فرق:
قربانی اور زکوٰۃ کے نصاب میں فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ میں تو صرف چار چیزوں یعنی سونا، چاندی، رقم اور سامانِ تجارت کا اعتبار کیاجاتا ہے، جبکہ قربانی میں ان چار چیزوں کے علاوہ ضرورت سے زائد سامان اور مال کا بھی حساب کیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان چار چیزوں کی وجہ سے صاحبِ نصاب بنا ہے تو اس کو زکوٰۃ کا نصاب کہا جاتا ہے، لیکن اگر وہ ضرورت سے زائد سامان کی وجہ سے صاحبِ نصاب بنا ہے تو اس کو قربانی کا نصاب کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ قربانی اور صدقہ الفطر کا نصاب ایک ہی ہے۔

📿 مذکورہ تفصیل سے یہ احکام ثابت ہوتے ہیں:
1⃣ جس شخص کے پاس زکوٰۃ کا نصاب موجود ہے تو اس کے ذمّے زکوٰۃ بھی فرض ہے اور اس کے ذمّے صدقۃ الفطر اور قربانی بھی واجب ہے، اور ایسے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا بھی جائز نہیں۔
2️⃣ جس شخص کے پاس زکوٰۃ کا نصاب تو نہ ہو لیکن صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب ہو تو اس پر زکوٰۃ تو فرض نہیں البتہ اس کے ذمّے صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہے، اور اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔
3⃣ زکوٰۃ صرف اسی شخص کو دینا جائز ہے جس کے پاس زکوٰۃ کا نصاب بھی نہ ہو اور صدقۃ الفطر کا نصاب بھی نہ ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ دیتے وقت صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ اس پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں، بلکہ زکوٰۃ دیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے پاس صدقۃ الفطر اور قربانی جتنا نصاب ہے یا نہیں۔

❄️ خلاصہ:
جس شخص پر زکوٰة فرض ہے اس پر تو قربانی واجب ہے ہی، لیکن جس شخص کے پاس زکوٰة کا نصاب تو نہ ہو البتہ صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب موجود ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔
امید ہے کہ ان اُصولی باتوں سے متعدد غلط فہمیوں کا اِزالہ ہوسکے گا۔
☀ الجوہرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری میں ہے:
(قَوْلُهُ: وَلَا يَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ) سَوَاءٌ كَانَ النِّصَابُ نَامِيًا أَوْ غَيْرَ نَامٍ، حَتَّى لَوْ كَانَ لَهُ بَيْتٌ لَا يَسْكُنُهُ يُسَاوِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ لَا يَجُوزُ صَرْفُ الزَّكَاةِ إلَيْهِ، وَهَذَا النِّصَابُ الْمُعْتَبَرُ فِي وُجُوبِ الْفِطْرَةِ وَالْأُضْحِيَّةِ، قَالَ فِي «الْمَرْغِينَانِيِّ»: إذَا كَانَ لَهُ خَمْسٌ مِن الْإِبِلِ قِيمَتُهَا أَقَلُّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ يَحِلُّ لَهُ الزَّكَاةُ وَتَجِبُ عَلَيْهِ، وَلِهَذَا يَظْهَرُ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ نِصَابُ النَّقْدِ مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ بَلَغَ نِصَابًا مِنْ جِنْسِهِ أَوْ لَمْ يَبْلُغْ، وَقَوْلُهُ: إلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا بِشَرْطِ أَنْ يَكُونَ النِّصَابُ فَاضِلًا عَنْ حَوَائِجِهِ الْأَصْلِيَّةِ.
یہ اصولی باتیں اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے تاکہ بعد میں ذکر کیے جانے والے مسائل سمجھنے میں سہولت رہے۔

📿 قربانیوں کا تفصیلی نصاب:
بنیادی طور پر قربانی پانچ چیزوں پر واجب ہوتی ہے، جن کو اموالِ قربانی کہا جاتا ہے:
1⃣ سونا۔
2️⃣ چاندی۔
3⃣ سامانِ تجارت۔
4️⃣ رقم۔
5️⃣ ضرورت سے زائد اشیاء اور سامان۔

⬅️ ان پانچ چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے درج ذیل صورتوں میں قربانی واجب ہوتی ہے:
1⃣ جس شخص کے پاس صرف سونا ہو، باقی چار چیزوں (یعنی چاندی، رقم، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد سامان) میں سے کچھ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ (یعنی 87.84 گرام) سونا ہے، جو سونا اس سے کم ہو اس پر قربانی واجب نہیں۔
2️⃣ جس شخص کے پاس ان پانچ چیزوں میں سے صرف چاندی، یا صرف سامانِ تجارت، یا صرف رقم ہو تو ایسی صورت میں ان میں سے ہر ایک کا نصاب ساڑھے باون تولہ (یعنی 612.36 گرام) چاندی ہے۔ جو چاندی ساڑھے باون تولے سے کم ہو، اسی طرح جو سامانِ تجارت یا رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں۔
3⃣ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد سامان ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔
4️⃣ جس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہو، لیکن ساتھ ساتھ اس کے پاس کچھ چاندی یا کچھ سامانِ تجارت یا کچھ رقم بھی ہو تو اس صورت میں اگر ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہے تو ان پر قربانی واجب ہے، ورنہ نہیں۔
5️⃣ کسی شخص کے پاس یہ پانچوں چیزیں (یعنی سونا، چاندی، سامانِ تجارت، رقم اور ضرورت سے زائد سامان) ہوں یا ان میں سے بعض ہوں لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے نصاب تک نہیں پہنچتی ہو تو اس صورت میں ان کو ملا کر ان کی مجموعی قیمت کا حساب لگایا جائے گا، اگر ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہے تو اس شخص پر قربانی واجب ہے، ورنہ نہیں۔
6️⃣ جس شخص کے پاس کچھ سونا یا کچھ رقم ہو اور ساتھ میں ضرورت سے زائد سامان بھی ہو اور ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی تک پہنچتی ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔
(جواہر الفقہ، قربانی اور ذوالحجہ کے فضائل از حضرت مفتی عبد الرؤف سکھروی صاحب دام ظلہم)
نصاب سے متعلق مزید تفصیلات اور وضاحتیں آئندہ کی قسطوں میں ذکر ہوں گی ان شاء اللہ۔

🌹 فائدہ: زیرِ نظر رسالے میں زکوٰۃ کے نصاب کی متعدد صورتوں میں ساڑھے باون تولہ چاندی کو معیار بنایا گیا ہے جیسا کہ اکثر اہلِ علم حضرات کا اسی پر فتویٰ ہے۔

📿 قربانی واجب ہونے کے لیے کس وقت صاحبِ نصاب ہونا ضروری ہے؟
قربانی واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص قربانی کے تین دنوں (یعنی 10، 11 اور 12 ذوالحجہ) میں صاحبِ نصاب ہو، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص قربانی کے ان تین دنوں سے پہلے صاحبِ نصاب تھایا ان تین دنوں کے بعد صاحبِ نصاب بنا لیکن قربانی کے ان تین دنوں میں صاحبِ نصاب نہیں تھا تو ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں۔ اور یہ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص قربانی کے تین دنوں میں 12 ذوالحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے کسی بھی وقت صاحبِ نصاب بن جائے تو اس پر قربانی واجب ہوگی، ایسی صورت میں اگر قربانی کے ایام میں جانور ذبح کرنے کا موقع نہیں ملا تو قربانی کے ایام ختم ہونے کے بعد اب درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اگر جانور خریدنے کے باوجود بھی قربانی کے ایام میں قربانی نہ کرسکا تو اب اسی جانور کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔ (المحیط البرہانی، بدائع الصنائع، رد المحتار، فتاویٰ رحیمیہ)

☀️ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:
فَصْلٌ: وَأَمَّا وَقْتُ الْوُجُوبِ فَأَيَّامُ النَّحْرِ فَلَا تَجِبُ قبل دُخُولِ الْوَقْتِ؛ لِأَنَّ الْوَاجِبَاتِ الموقتة لَا تَجِبُ قبل أَوْقَاتِهَا كَالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَنَحْوِهِمَا، وَأَيَّامُ النَّحْرِ ثَلَاثَةٌ: يَوْمُ الْأَضْحَى وهو الْيَوْمُ الْعَاشِرُ من ذِي الْحِجَّةِ وَالْحَادِي عَشَرَ وَالثَّانِي عَشَرَ وَذَلِكَ بَعْدَ طُلُوعِ الْ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں