73

وصیّت کے احکام

وصیّت کے احکام
سلسلہ وصیّت کے احکام:

📿 وصیت کا حکم اور اس کے درجات:
حکم کے اعتبارسے وصیت کے پانچ مختلف درجات ہیں یعنی:
▪فرض وصیت۔
▪واجب وصیت۔
▪مستحب وصیت۔
▪جائز وصیت۔
▪ناجائز وصیت۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وصیت کبھی تو فرض ہوتی ہے، کبھی واجب ، کبھی مستحب، کبھی محض جائز اور کبھی وصیت ناجائز اور گناہ کے زمرے میں آتی ہے۔ ذیل میں ہر ایک کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے۔

❄️ فرض وصیتیں:
جس شخص سے فرض احکام رہ گئے ہوں اول تو زندگی میں انھیں ادا کرنے کی کوشش کرے، دوم یہ کہ ساتھ ساتھ ان کے بارے میں وصیت بھی کرجائے، تاکہ اگر زندگی میں یہ فرائض ادا نہ کیے جاسکیں تو وصیت کی صورت میں اس کی موت کے بعد ان کی تلافی ہوسکے۔ جیسے:
▪نمازوں کے فدیہ کی وصیت۔
▪روزوں کے فدیہ کی وصیت۔
▪زکوٰۃ کی ادائیگی کی وصیت۔
▪حج کی ادائیگی کی وصیت۔
ان سب کے بارے میں وصیت کرنا فرض ہے، اس لیے وصیت نہ کرنے کی صورت میں بندہ گناہ گار ہوگا۔ ذیل میں ہر ایک سے متعلق بنیادی احکام ملاحظہ فرمائیں۔

🌺 نمازوں کے فدیہ اور اس کی وصیت سے متعلق احکام

📿 اپنی زندگی میں قضا نمازوں کا فدیہ دینا جائز نہیں:
قضا شدہ نمازوں کے فدیے کی ادائیگی کا تعلق موت کے بعد کے ساتھ ہے، اس لیے اپنی قضا شدہ نمازوں کا فدیہ اپنی زندگی میں ادا کرنا جائز نہیں، بھلے کوئی مریض ایسی نازک حالت میں ہو کہ صحت کی خرابی کے باعث اپنی قضا شدہ نمازوں کی ادائیگی سے مایوس ہوچکا ہو، اُس کے لیے بھی اپنی زندگی میں ان قضا نمازوں کا فدیہ ادا کرنا جائز نہیں، بلکہ اس کے ذمے اپنی قضا نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنا لازم ہے۔

📿 مرض کی کس حالت میں نمازوں کی قضا، فدیہ اور اس کی وصیت واجب نہیں؟
1⃣ اگر کوئی شخص مرضِ وفات میں ہو اور حالت ایسی ہو کہ اس قدر حواس بھی باقی نہ رہے ہوں کہ اشارے سے نماز ادا کرسکے اور اسی حالت میں فوت ہوجائے تو جو نمازیں اس مرضِ وفات کی حالت میں ادا نہ کی ہوں اُن کی قضا اور فدیہ واجب نہیں، اس لیے اس کے ذمے ان قضا نمازوں کے فدیے کی وصیت کرنا بھی واجب نہیں۔
2️⃣ اگر کوئی شخص ایک دن اور رات یعنی پانچ نمازوں کے وقت سے زیادہ وقت تک بے ہوش رہے کہ چھ یا زیادہ نمازوں کا وقت گزر جائے تو اس کے ذمے اس مدّت میں ادا نہ کی جانے والی نمازوں کی قضا واجب نہیں اگرچہ وہ بعد میں تندرست ہوکر نماز ادا کرنے پر قادر ہوجائے، اور جب ان نمازوں کی قضا واجب نہیں تو ان کے فدیہ کی ادائیگی بھی واجب نہیں، مزید یہ کہ فدیہ دینے کی وصیت کا بھی حکم نہیں۔ البتہ جو شخص پانچ نمازوں یا ان سے کم مدت تک بے ہوش رہے اور بعد میں صحتیاب ہوکر نماز کی ادائیگی پر قادر ہوجائے تو اس مدت میں قضا شدہ نمازوں کی ادائیگی واجب ہے اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ان کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنا واجب ہے کہ موت کے بعد میری ان نمازوں کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

📿 فوت شدہ نمازِ وتر کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت:
قضا شدہ نمازِ وتر کا فدیہ ادا کرنا بھی واجب ہے، یوں شب وروز میں چھ نمازیں بن جاتی ہیں۔

📿 فاسد شدہ نفل نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت:
اگر کوئی شخص نفل نماز شروع کرلیتا ہے اور وہ نماز فاسد کردیتا ہے یا بعد میں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ نفل نماز تو فاسد ہوگئی تھی تو ایسی صورت میں اس نفل نماز کی قضا ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ادا ئیگی کا موقع نہ مل سکے تو اس کے فدیے کی وصیت کرنی ضروری ہے۔

📿 نذر کی نماز کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت:
اگر کسی شخص نے نماز کی نذر اور منت مانی تھی اور کام ہوجانے کی صورت میں اس کے ذمے اس نذر مانی گئی نماز کی ادائیگی واجب ہوگئی تھی لیکن اس نے یہ نماز ادا نہ کی تو ایسی صورت میں بھی اس کے ذمے اس نماز کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنی ضروری ہے۔

⬅️ وضاحت:
نمازِ وتر، فاسد شدہ نفل نماز اور نذر کی نماز کے فدیے کی وصیت کا تعلق واجب وصیتوں کے ساتھ ہے، کیوں کہ یہ اعمال فرض نہیں بلکہ واجب ہیں، البتہ یہاں ان کا ذکر نمازوں کی مناسبت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

📿 ایک نماز کے فدیہ کی مقدار:
ایک نماز کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کے برابر ہے، اور گندم کے حساب سے ایک صدقۃ الفطر نصف صاع یعنی 1.592136 کلو گرام گندم کے برابر ہوا کرتا ہے جس کو بطورِ احتیاط پونے دو کلو بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ فدیے میں یا تو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت اور یا اتنی ہی قیمت کی کوئی اور چیز دے دی جائے؛ یہ سب جائز ہے۔ جس دن فدیہ دینا ہو اس دن قیمت معلوم کرکے حساب لگا لیا جائے۔

🌺 روزوں کے فدیہ دینے اور اس کی وصیت کرنے سے متعلق احکام

📿 روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت:
بلوغت کے بعد سے رمضان کے جتنے بھی روزے قضا ہوئے ہوں تو ان کو رکھنے کی کوشش کرے، ساتھ میں وصیت بھی کرجائے کہ میرے مرنے کے بعد میرے ان قضا شدہ روزوں کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

📿 مریض کے روزوں کا فدیہ کب دیا جاتا ہے؟
بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ جب ماہِ رمضان کا روزہ رکھنا مشکل ہو تو فدیہ دینا چاہیے، حالاں کہ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے رمضان کا ایک روزہ یا ایک سے زائد روزے قضا ہوجائیں تو ان کی قضا رکھنا ضروری ہے۔ فدیہ تو اس وقت دیا جاتا ہے جب کوئی ایسا دائمی مرض یا عذر لاحق ہو کہ روزہ رکھنے کی امیدہی نہ رہے، ایسی صورت میں روزوں کا فدیہ دیا جاتا ہے، جب تک صحت یابی کی امید ہو بھلے تاخیر ہی سے ہو تو فدیہ دینے کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔ فدیہ دینے کی صورت میں پھر اگر بعد میں اللہ تعالیٰ نے صحت دے دی اور روزے قضا رکھنے کی قدرت حاصل ہوگئی تو ان روزوں کی قضا رکھنا ضروری ہوگا اور فدیہ میں جو رقم دی تھی اس کا ثواب ملے گا، اور اگر فدیہ دینے کا موقع نہ ملے تو وصیت کرجائے کہ میرے ذمے اتنے روزے باقی ہیں میرے مرنے کے بعد ان کا فدیہ دے دیا جائے۔ (رد المحتار، فتاوی ٰعثمانی ودیگر کتب)

📿 فاسد شدہ نفلی روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت:
اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر اس کو توڑ دیتا ہے یا بعد میں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ نفلی روزہ تو ٹوٹ گیا تھا تو ایسی صورت میں اس نفلی روزے کی قضا ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر ادا ئیگی کا موقع نہ مل سکے تو اس کے فدیے کی وصیت کرنی ضروری ہے۔

📿 نذر کے روزے کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت:
اگر کسی شخص نے روزہ رکھنے کی نذر اور منت مانی تھی اور کام ہوجانے کی صورت میں اس کے ذمے اس نذر مانے گئے روزے کی ادائیگی واجب ہوگئی تھی لیکن اس نے یہ روزہ نہیں رکھا تو ایسی صورت میں بھی اس کے ذمے اس روزے کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرنی ضروری ہے۔

▪ وضاحت:
فاسد شدہ نفلی روزے اور نذر کے روزے کے فدیے کی وصیت کا تعلق واجب وصیتوں کے ساتھ ہے، کیوں کہ یہ اعمال فرض نہیں بلکہ واجب ہیں، البتہ یہاں ان کا ذکر نمازوں کی مناسبت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

📿 ایک روزے کا فدیہ:
ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر کے برابر ہے جس کی تفصیل نماز کے فدیے کے بیان میں گزر چکی ہے۔ اس کی آسان صورت یہ ہے کہ جس دن فدیہ دینا ہو تو اس دن صدقہ فطر کی قیمت معلوم کرکے اسی حساب سے فدیہ ادا کیا جائے۔ (رد المحتار، فتاویٰ عثمانی، فتاویٰ رحیمیہ)

📿 نمازوں اور روزوں کا فدیہ کس کو دینا جائز ہے؟
1⃣ نمازوں اور روزوں کے فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے کہ فدیہ صرف اسی کو دینا جائز ہے جس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ (رد المحتار ودیگر کتب)
2️⃣ فدیہ دیتے وقت یہ بھی جائز ہے کہ ایک مستحقِ زکوٰۃ کو ایک نماز یا ایک روزے کا فدیہ دے دیا جائے، اور یہ بھی جائز ہے کہ ایک مستحقِ زکوٰۃ کو ایک سے زائد نمازوں یا روزوں کا فدیہ دے دیا جائے، اور یہ بھی جائز ہے کہ متعدد مستحقینِ زکوٰۃ کو نمازوں یا روزوں کا فدیہ دیا جائے، البتہ اس بات کی رعایت کی جائے کہ ایک مستحقِ زکوٰۃ کو ایک نماز یا روزے کے فدیے سے کم نہ دیا جائے یعنی ایک نماز یا ایک روزے کا فدیہ ایک سے زائد مستحقین کو دینا جائز نہیں ہے۔ (رد المحتار ودیگر کتب)

🌺 زکوٰۃ کی ادائیگی کی وصیت سے متعلق حکم
بلوغت کے بعد صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے جس شخص کے ذمے ایک یا ایک سے زائد سالوں کی زکوٰۃ واجب رہ گئی ہو یعنی اس نے ادا نہ کی ہو تو اسے چاہیے کہ زندگی ہی میں اسے ادا کرنے کی کوشش کرے اور ساتھ میں اس کی وصیت بھی کرجائے، وصیت کی صورت میں ورثہ کے ذمے اس کے ایک تہائی مال میں سے اس کی یہ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

🌺 حج کی وصیت سے متعلق حکم
بلوغت کے بعد صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے جس شخص کے ذمے حج فرض ہوچکا ہو اور وہ کسی وجہ سے ادا نہ کرسکے تو اس پر لازم ہے کہ وہ یہ وصیت کر جائے کہ میرے مرنے کے بعد میری طرف سے حجِ بدل ادا کردیا جائے۔

📿 نمازوں اور روزوں کے فدیہ اور زکوٰۃ وحج کی ادائیگی کی وصیت سے متعلق اہم مسائل:
1⃣ جب کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمےقضا روزے یا نمازیں باقی ہوں یا اس کے ذمے زکوٰۃ یا حج کی ادائیگی باقی ہو اور اس نے وصیت کی ہو کہ میری ان قضا نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیا جا ئے یا میری زکوٰۃ ادا کردی جائے یا میری طرف سے حج ادا کردیا جائے اور اس نے مال بھی چھوڑا ہو تو اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ اگر میت پر کوئی قرضہ ہو تو سب سے پہلے میت کے مال میں سے قرضہ اداکیا جائے ، پھر اس کے بعد کل مال کے ایک تہائی حصے میں سے یہ وصیت پوری کی جائے۔ اگر وہ ایک تہائی مال کم پڑ رہا ہو اور وہ وصیت اس میں پوری نہیں ہو پارہی ہو تو اس وصیت کو پورا کرنے کے لیے ایک تہائی سے زیادہ مال خرچ کرنا ورثہ کے ذمے لازم نہیں، البتہ اگر عاقل بالغ ورثہ اپنی خوشی سے اپنے حصے یا مال میں سے یہ وصیت پوری کردیں تو یہ جائز ہے اور یہ میت پر احسان ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی سے امید ہے کہ یہ ادائیگی قبول کرلی جائے گی۔
2️⃣ اگر میت نے مذکورہ چیزوں کی ادائیگی کی وصیت بھی کی ہو لیکن اس نے مال نہیں چھوڑا ہو، یا مال تو چھوڑا ہو لیکن مذکورہ چیزوں کی ادائیگی کی وصیت ہی نہ کی ہو توان دونوں صورتوں میں مذکورہ چیزوں کی ادائیگی ورثہ کے ذمے واجب نہیں، البتہ اگر عاقل بالغ ورثہ میت پر احسان کرتے ہوئے اپنی رضامندی سے اپنے حصے میں سے یا اپنے مال میں سے مذکورہ چیزوں کی ادائیگی کردیں تو یہ جائز ہے اور یہ میت پراحسان ہوگا، اور اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی سے امید ہے کہ یہ ادائیگی قبول کرلی جائے گی۔

📿 قضا نمازوں، روزوں اور زکوٰۃ وحج کی ادائیگی کا حساب رکھیے:
جس شخص کے ذمے بلوغت کے بعد قضا نمازیں باقی ہوں تو ان کا حساب اپنے پاس لکھ لے، تمام نمازیں یاد نہ ہوں تو غالب گمان سے حساب لگا کر کچھ زیادہ تعداد لکھ لے، پھر ان میں سے جتنی نمازیں ادا ہوتی رہیں ان کا حساب ختم کرتا رہے۔ اسی طرح بلوغت کے بعد سے قضا روزوں کا بھی حساب لکھ لے۔ اور بلوغت کے بعد صاحبِ نصاب ہوجانے کی صورت میں زکوٰۃ یا حج ادا نہ کیا ہو تو اس کا بھی ذکر کرلے، اور ساتھ میں ان کے بارے میں وصیت بھی کرلے تاکہ ٹھیک طرح وصیت پر عمل ہوسکے۔

📚 فقہی عبارات
☀ الدر المختار:
(وَلَوْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ فَائِتَةٌ وَأَوْصَى بِالْكَفَّارَةِ يُعْطَى لِكُلِّ صَلَاةٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ) كَالْفِطْرَةِ (وَكَذَا حُكْمُ الْوِتْرِ) وَالصَّوْمِ. وَإِنَّمَا يُعْطِي (مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ) …… (وَلَوْ قَضَاهَا وَرَثَتُهُ بِأَمْرِهِ لَمْ يَجُزْ)؛ لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ بَدَنِيَّةٌ، (بِخِلَافِ الْحَجِّ)؛ لِأَنَّهُ يَقْبَلُ النِّيَابَةَ، وَلَوْ أَدَّى لِلْفَقِيرِ أَقَلَّ مِنْ نِصْفِ صَاعٍ لَمْ يَجُزْ، وَلَوْ أَعْطَاهُ الْكُلَّ جَازَ، وَلَوْ فَدَى عَنْ صَلَاتِهِ فِي مَرَضِهِ لَا يَصِحُّ، بِخِلَافِ الصَّوْمِ.
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ فَائِتَةٌ إلَخْ) أَيْ بِأَنْ كَانَ يَقْدِرُ عَلَى أَدَائِهَا وَلَوْ بِالْإِيمَاءِ، فَيَلْزَمُهُ الْإِيصَاءُ بِهَا،
وَإِلَّا فَلَا يَلْزَمُهُ وَإِنْ قَلَّتْ، بِأَنْ كَانَتْ دُونَ سِتِّ صَلَوَاتٍ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَاللهُ أَحَقُّ بِقَبُولِ الْعُذْرِ مِنْهُ». وَكَذَا حُكْمُ الصَّوْمِ فِي رَمَضَانَ إنْ أَفْطَرَ فِيهِ الْمُسَافِرُ وَالْمَرِيضُ وَمَاتَا قَبْلَ الْإِقَامَةِ وَالصِّحَّةِ، وَتَمَامُهُ فِي «الْإِمْدَادِ». ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّهُ إذَا أَوْصَى بِفِدْيَةِ الصَّوْمِ يُحْكَمُ بِالْجَوَازِ قَطْعًا؛ لِأَنَّهُ مَنْصُوصٌ عَلَيْهِ، وَأَمَّا إذَا لَمْ يُوصِ فَتَطَوَّعَ بِهَا الْوَارِثُ فَقَدْ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي «الزِّيَادَاتِ»: إنَّهُ يُجْزِيهِ إنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، فَعَلَّقَ الْإِجْزَاءَ بِالْمَشِيئَةِ؛ لِعَدَمِ النَّصِّ، وَكَذَا عَلَّقَهُ بِالْمَشِيئَةِ فِيمَا إذَا أَوْصَى بِفِدْيَةِ الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّهُمْ أَلْحَقُوهَا بِالصَّوْمِ احْتِيَاطًا؛ لِاحْتِمَالِ كَوْنِ النَّصِّ فِيهِ مَعْلُولًا بِالْعَجْزِ فَتَشْمَلُ الْعِلَّةُ الصَّلَاةَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعْلُولًا تَكُونُ الْفِدْيَةُ بِرًّا مُبْتَدَأً يَصْلُحُ مَاحِيًا لِلسَّيِّئَاتِ فَكَانَ فِيهَا شُبْهَةٌ كَمَا إذَا لَمْ يُوصِ بِفِدْيَةِ الصَّوْمِ، فَلِذَا جَزَمَ مُحَمَّدٌ بِالْأَوَّلِ وَلَمْ يَجْزِمْ بِالْأَخِيرَيْنِ، فَعُلِمَ أَنَّهُ إذَا لَمْ يُوصِ بِفِدْيَةِ الصَّلَاةِ فَالشُّبْهَةُ أَقْوَى. وَاعْلَمْ أَيْضًا أَنَّ الْمَذْكُورَ فِيمَا رَأَيْته مِنْ كُتُبِ عُلَمَائِنَا فُرُوعًا وَأُصُولًا إذَا لَمْ يُوصِ بِفِدْيَةِ الصَّوْمِ يَجُوزُ أَنْ يَتَبَرَّعَ عَنْهُ وَلِيُّهُ. وَالْمُتَبَادِرُ مِنْ التَّقْيِيدِ بِالْوَلِيِّ أَنَّهُ لَا يَصِحُّ مِنْ مَالِ الْأَجْنَبِيِّ. وَنَظِيرُهُ مَا قَالُوهُ فِيمَا إذَا أَوْصَى بِحَجَّةِ الْفَرْضِ فَتَبَرَّعَ الْوَارِثُ بِالْحَجِّ لَا يَجُوزُ، وَإِنْ لَمْ يُوصِ فَتَبَرُّعُ الْوَارِثِ إمَّا بِالْحَجِّ بِنَفْسِهِ أَوْ بِالْإِحْجَاجِ عَنْهُ رَجُلًا يُجْزِيهِ. وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَوْ تَبَرَّعَ غَيْرُ الْوَارِثِ لَا يُجْزِيهِ، نَعَمْ وَقَعَ فِي «شَرْحِ نُورِ الْإِيضَاحِ» لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ التَّعْبِيرُ بِالْوَصِيِّ أَوْ الْأَجْنَبِيِّ فَتَأَمَّلْ، وَتَمَامُ ذَلِكَ فِي آخِرِ رِسَالَتِنَا الْمُسَمَّاةِ «شِفَاءَ الْعَلِيلِ فِي بُطْلَانِ الْوَصِيَّةِ بِالْخَتَمَاتِ وَالتَّهَالِيلِ». (قَوْلُهُ: نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ) أَيْ أَوْ مِنْ دَقِيقِهِ أَوْ سَوِيقِهِ، أَوْ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ قِيمَتِهِ، وَهِيَ أَفْضَلُ عِنْدَنَا؛ لِإِسْرَاعِهَا بِسَدِّ حَاجَةِ الْفَقِيرِ، «إمْدَادٌ». ثُمَّ إنَّ نِصْفَ الصَّاعِ رُبُعُ مُدٍّ دِمَشْقِيٍّ مِنْ غَيْرِ تَكْوِيمٍ، بَلْ قَدْرُ مَسْحِهِ كَمَا سَنُوضِحُهُ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ. (قَوْلُهُ: وَكَذَا حُكْمُ الْوِتْرِ)؛ لِأَنَّهُ فَرْضٌ عَمَلِيٌّ عِنْدَهُ خِلَافًا لَهُمَا، ط …… (قَوْلُهُ: وَإِنَّمَا يُعْطِي مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ) أَيْ فَلَوْ زَادَت الْوَصِيَّةُ عَلَى الثُّلُثِ لَا يَلْزَمُ الْوَلِيَّ إخْرَاجُ الزَّائِدِ إلَّا بِإِجَازَةِ الْوَرَثَةِ. وَفِي «الْقُنْيَةِ»: أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ إلَى صَلَوَاتِ عُمْرِهِ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَجَازَ الْغَرِيمُ وَصِيَّتَهُ لَا تَجُوزُ؛ لِأَنَّ الْوَصِيَّةَ مُتَأَخِّرَةٌ عَنِ الدَّيْنِ، وَلَمْ يَسْقُطْ الدَّيْنُ بِإِجَازَتِهِ. اهـ. وَفِيهَا أَوْصَى بِصَلَوَاتِ عُمْرِهِ وَعُمْرُهُ لَا يُدْرَى فَالْوَصِيَّةُ بَاطِلَةٌ. ثُمَّ رَمَزَ إنْ كَانَ الثُّلُثُ لَا يَفِي بِالصَّلَوَاتِ جَازَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْهَا لَمْ يَجُزْ. اهـ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ: لَا يَفِي بِغَلَبَةِ الظَّنِّ؛ لِأَنَّ الْمَفْرُوضَ أَنَّ عُمْرَهُ لَا يُدْرَى، وَذَلِكَ كَأَنْ يَفِيَ الثُّلُثُ بِنَحْوِ عَشْرِ سِنِينَ مَثَلًا وَعُمْرُهُ نَحْوُ الثَّلَاثِينَ. وَوَجْهُ هَذَا الْقَوْلِ الثَّانِي ظَاهِرٌ؛ لِأَنَّ الثُّلُثَ إذَا كَانَ لَا يَفِي بِصَلَوَاتِ عُمْرِهِ تَكُونُ الْوَصِيَّةُ بِجَمِيعِ الثُّلُثِ يَقِينًا وَيَلْغُو الزَّائِدُ عَلَيْهِ، بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ يَفِي بِهَا وَيَزِيدُ عَلَيْهَا فَإِنَّ الْوَصِيَّةَ تَبْطُلُ؛ لِجَهَالَةِ قَدْرِهَا بِسَبَبِ جَهَالَةِ قَدْرِ الصَّلَوَاتِ، فَتَدَبَّرْ ….. (قَوْلُهُ: لَمْ يَجُزْ) الظَّاهِرُ أَنَّهُ بِضَمِّ الْيَاءِ مِنِ الْإِجْزَاءِ بِمَعْنَى أَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَسْقُطُ عَنِ الْمَيِّتِ بِذَلِكَ وَكَذَا الصَّوْمُ، نَعَمْ، لَوْ صَامَ أَوْ صَلَّى وَجَعَلَ ثَوَابَ ذَلِكَ لِلْمَيِّتِ صَحَّ؛ لِأَنَّهُ يَصِحُّ أَنْ يُجْعَلَ ثَوَابُ عَمَلِهِ لِغَيْرِهِ عِنْدَنَا، كَمَا سَيَأْتِي فِي بَابِ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ إنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى. ….. (قَوْلُهُ: لَمْ يَجُزْ) هَذَا ثَانِي قَوْلَيْنِ حَكَاهُمَا فِي «التَّتَارْخَانِيَّة» بِدُونِ تَرْجِيحٍ، وَظَاهِرُ «الْبَحْرِ» اعْتِمَادُهُ، وَالْأَوَّلُ مِنْهُمَا أَنَّهُ يَجُوزُ كَمَا يَجُوزُ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ. (قَوْلُهُ: جَازَ) أَيْ بِخِلَافِ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ وَالظِّهَارِ وَالْإِفْطَارِ، «تَتَارْخَانِيَّةٌ». (قَوْلُهُ: وَلَوْ فَدَى عَنْ صَلَاتِهِ فِي مَرَضِهِ لَا يَصِحُّ) فِي «التَّتَارْخَانِيَّة» عَنِ «التَّتِمَّةِ»: سُئِلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ الْفِدْيَةِ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَضِ الْمَوْتِ هَلْ تَجُوزُ؟ فَقَالَ: لَا. وَسُئِلَ أَبُو يُوسُفَ عَنِ الشَّيْخِ الْفَانِي هَلْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْفِدْيَةُ عَنِ الصَّلَوَاتِ كَمَا تَجِبُ عَلَيْهِ عَنِ الصَّوْمِ وَهُوَ حَيٌّ؟ فَقَالَ: لَا. اهـ. وَفِي «الْقُنْيَةِ»: وَلَا فِدْيَةَ فِي الصَّلَاةِ حَالَةَ الْحَيَاةِ، بِخِلَافِ الصَّوْمِ. اهـ. أَقُولُ: وَوَجْهُ ذَلِكَ أَنَّ النَّصَّ إنَّمَا وَرَدَ فِي الشَّيْخِ الْفَانِي أَنَّهُ يُفْطِرُ وَيَفْدِي فِي حَيَاتِهِ، حَتَّى إنَّ الْمَرِيضَ أَوِ الْمُسَافِرَ إذَا أَفْطَرَ يَلْزَمُهُ الْقَضَاءُ إذَا أَدْرَكَ أَيَّامًا أُخَرَ وَإِلَّا فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، فَإِنْ أَدْرَكَ وَلَمْ يَصُمْ يَلْزَمُهُ الْوَصِيَّةُ بِالْفِدْيَةِ عَمَّا قَدَرَ، هَذَا مَا قَالُوهُ، وَمُقْتَضَاهُ أَنَّ غَيْرَ الشَّيْخِ الْفَانِي لَيْسَ لَهُ أَنْ يَفْدِيَ عَنْ صَوْمِهِ فِي حَيَاتِهِ؛ لِعَدَمِ النَّصِّ، وَمِثْلُهُ الصَّلَاةُ، وَلَعَلَّ وَجْهَهُ أَنَّهُ مُطَالَبٌ بِالْقَضَاءِ إذَا قَدَرَ، وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِ إلَّا بِتَحْقِيقِ الْعَجْزِ عَنْهُ بِالْمَوْتِ فَيُوصِي بِهَا، بِخِلَافِ الشَّيْخِ الْفَانِي فَإِنَّهُ تَحَقَّقَ عَجْزُهُ قَبْلَ الْمَوْتِ عَنْ أَدَاءِ الصَّوْمِ وَقَضَائِهِ فَيَفْدِي فِي حَيَاتِهِ، وَلَا يَتَحَقَّقُ عَجْزُهُ عَنْ الصَّلَاةِ؛ لِأَنَّهُ يُصَلِّي بِمَا قَدَرَ وَلَوْ مُومِيًا بِرَأْسِهِ، فَإِنْ عَجَزَ عَنْ ذَلِكَ سَقَطَتْ عَنْهُ إذَا كَثُرَتْ، وَلَا يَلْزَمُهُ قَضَاؤُهَا إذَا قَدَرَ كَمَا سَيَأْتِي فِي بَابِ صَلَاةِ الْمَرِيضِ، وَبِمَا قَرَّرْنَا ظَهَرَ أَنَّ قَوْلَ الشَّارِحِ بِخِلَافِ الصَّوْمِ أَيْ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَفْدِيَ عَنْهُ فِي حَيَاتِهِ خَاصٌّ بِالشَّيْخِ الْفَانِي، تَأَمَّلْ.
(باب قضاء الفوائت)
☀ الدر المختار:
(وَإِنْ تَعَذَّرَ الْإِيمَاءُ) بِرَأْسِهِ (وَكَثُرَتِ الْفَوَائِتُ) بِأَنْ زَادَتْ عَلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ (سَقَطَ الْقَضَاءُ عَنْهُ)
وَإِنْ كَانَ يُفْهَمُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ (وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى) كَمَا فِي «الظَّهِيرِيَّةِ»؛ لِأَنَّ مُجَرَّدَ الْعَقْلِ لَا يَكْفِي لِتَوَجُّهِ الْخِطَابِ.
☀ رد المحتار:
(قَوْلُهُ: بِأَنْ زَادَتْ عَلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ) أَمَّا لَوْ كَانَتْ يَوْمًا وَلَيْلَةً أَوْ أَقَلَّ وَهُوَ يَعْقِلُ فَلَا تَسْقُطُ بَلْ تُقْضَى اتِّفَاقًا، وَهَذَا إذَا صَحَّ، فَلَوْ مَاتَ وَلَمْ يَقْدِرْ عَلَى الصَّلَاةِ لَمْ يَلْزَمْهُ الْقَضَاءُ حَتَّى لَا يَلْزَمُهُ الْإِيصَاءُ بِهَا، كَالْمُسَافِرِ إذَا أَفْطَرَ وَمَاتَ قَبْلَ الْإِقَامَةِ، كَمَا فِي «الزَّيْلَعِيِّ». قَالَ فِي «الْبَحْرِ»: وَيَنْبَغِي أَنْ يُقَالَ: مَحْمَلُهُ مَا إذَا لَمْ يَقْدِرْ فِي مَرَضِهِ عَلَى الْإِيمَاءِ بِالرَّأْسِ، أَمَّا إنْ قَدَرَ عَلَيْهِ بَعْدَ عَجْزِهِ فَإِنَّهُ يَلْزَمُهُ الْقَضَاءُ وَإِنْ كَانَ مُوَسَّعًا لِتَظْهَرَ فَائِدَتُهُ فِي الْإِيصَاءِ بِالْإِطْعَامِ عَنْهُ. اهـ. قُلْت: وَهُوَ مَأْخُوذٌ مِنَ «الْفَتْحِ» فَإِنَّهُ قَالَ: وَمَنْ تَأَمَّلَ تَعْلِيلَ الْأَصْحَابِ فِي الْأُصُولِ انْقَدَحَ فِي ذِهْنِهِ إيجَابُ الْقَضَاءِ عَلَى هَذَا الْمَرِيضِ إلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ حَتَّى يَلْزَمُهُ الْإِيصَاءُ بِهِ إنْ قَدَرَ عَلَيْهِ بِطَرِيقٍ وَسُقُوطُهُ إنْ زَادَ. اهـ. (قَوْلُهُ: فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ) وَقِيلَ: لَا يَسْقُطُ الْقَضَاءُ، بَلْ تُؤَخَّرُ عَنْهُ إذَا كَانَ يَعْقِلُ، وَصَحَّحَهُ فِي «الْهِدَايَةِ» وَهُوَ مِنْ أَهْلِ التَّرْجِيحِ، لَكِنْ خَالَفَ نَفْسَهُ فِي كِتَابِهِ «التَّجْنِيسِ» فَصَحَّحَ الْأَوَّلَ كَعَامَّةِ أَهْلِ التَّرْجِيحِ كَقَاضِي خَانْ وَصَاحِبِ «الْمُحِيطِ» وَشَيْخِ الْإِسْلَامِ وَفَخْرِ الْإِسْلَامِ، وَمَالَ إلَيْهِ الْمُحَقِّقُ ابْنُ الْهُمَامِ فِي عِبَارَتِهِ الَّتِي نَقَلْنَاهَا آنِفًا، وَمَشَى عَلَيْهِ الْمُصَنِّفُ؛ لِأَنَّهُ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ، وَلِمَا فِي «الْإِمْدَادِ» مِنْ أَنَّ الْقَاعِدَةَ الْعَمَلُ بِمَا عَلَيْهِ الْأَكْثَرُ.
[تَنْبِيهٌ]: جَعَلَ فِي «السِّرَاجِ» الْمَسْأَلَةَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ: إنْ زَادَ الْمَرَضُ عَلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَهُوَ لَا يَعْقِلُ فَلَا قَضَاءَ إجْمَاعًا، وَإِلَّا وَهُوَ يَعْقِلُ قَضَى إذَا صَحَّ إجْمَاعًا، وَإِنْ زَادَ وَهُوَ يَعْقِلُ أَوْ لَا وَهُوَ لَا يَعْقِلُ فَعَلَى الْخِلَافِ.
[تَتِمَّةٌ]: فِي «الْبَحْرِ» عَنِ«الْقُنْيَةِ»: وَلَا فِدْيَةَ فِي الصَّلَوَاتِ حَالَةَ الْحَيَاةِ، بِخِلَافِ الصَّوْمِ اهـ وَقَدَّمَهُ الشَّارِحُ قُبَيْلَ هَذَا الْبَابِ وَأَوْضَحْنَاهُ ثَمَّةَ. (باب صلاة المريض)
☀ الفتاوى الهندية:
وإذا أَوْجَبَ على نَفْسِهِ صَوْمَ شَهْرٍ فَمَاتَ قبل أَنْ يَمْضِيَ شَهْرٌ يَلْزَمُهُ صَوْمُ شَهْرٍ حتى يَلْزَمَهُ أَنْ يُوصِيَ بِذَلِكَ فَيُطْعِمَ عنه لِكُلِّ يَوْمٍ نِصْفُ صَاعٍ من الْحِنْطَةِ سَوَاءٌ كان الشَّهْرُ بِعَيْنِهِ أو بِغَيْرِ
عَيْنِهِ. (كِتَابُ الصَّوْمِ الْبَابُ السَّادِسُ في النَّذْرِ)
☀ الفتاوى الهندية:
وَالْوَصِيَّةُ مُسْتَحَبَّةٌ، هذا إذَا لم يَكُنْ عليه حَقٌّ مُسْتَحَقٌّ لِلّٰهِ تَعَالَى، وَإِنْ كان عليه حَقٌّ مُسْتَحَقٌّ لِلّٰهِ تَعَالَى كَالزَّكَاةِ أو الصِّيَامِ أو الْحَجِّ أو الصَّلَاةِ التي فَرَّطَ فيها فَهِيَ وَاجِبَةٌ، كَذَا في «التَّبْيِينِ».
(كِتَابُ الْوَصَايَا)
☀ الموسوعة الفقهية الكويتية:
كُل مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحَجُّ وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى الْحَجِّ بِنَفْسِهِ وَحَضَرَهُ الْمَوْتُ يَجِبُ عَلَيْهِ الْوَصِيَّةُ بِالإْحْجَاجِ عَنْهُ عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ، سَوَاءٌ حَجَّةُ الإِْسْلَامِ، أَوِ النَّذْرِ، أَوِ الْقَضَاءِ. (الْحَجُّ عَنِ الْغَيْرِ)

🌹 وضاحت: وصیت سے متعلق مزید احکام آئندہ کی متعدد قسطوں میں ذکر ہوں گے ان شاءاللہ۔

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں