85

نماز میں سورتوں کو خلافِ ترتیب پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

سوال
نماز میں سورتوں کی ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو  سجدہ سہو  لازم ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب
نماز میں قرأت کے دوران سورتوں کی ترتیب کی رعایت رکھنا قرأت کے واجبات میں سے ہے، نماز کے واجبات میں سے نہیں ہے، فرض نمازوں میں قصداً  قرآن مجید کی ترتیب کے خلاف قراءت کرنا مکروہِ تحریمی ہے، یعنی جو سورت بعد میں ہے اس کو پہلی رکعت میں پڑھنا اور جو سورت  پہلے ہے اس کو دوسری رکعت میں پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے ،مثلاً پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ کوثر پڑھی گئی  تو قصداً پڑھنے کی صورت میں کراہت کے ساتھ نماز ادا ہو جائے گی، اور اگر سہواً یا غلطی سے  ترتیب کے خلاف  پڑھا تو نماز بلا کراہت درست ہو جائے گی، لیکن  دونوں صورتوں میں سے کسی میں بھی سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا اور اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہوگا؛ کیوں  کہ ترتیب واجباتِ قراءت میں سے ہے نہ کہ واجباتِ نماز میں سے، نفل نماز میں قصداً  قرآن مجید کی ترتیب کے خلاف قرأت کرنا مکروہ نہیں ہے، تاہم ترتیب سے پڑھنا بہتر ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 546)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں