102

رحمان حسین نام رکھنا کیسا ہے ؟

سوال
رحمان حسین نام رکھنا کیسا ہے ؟

جواب
وہ اسماءِ حسنیٰ جو باری تعالی کے اسمِ ذات ہوں یا صرف باری تعالی کی صفاتِ مخصوصہ کے معنی ہی میں استعمال ہوتے ہوں، یعنی  ان اسماء کا مبدأ اشتقاق ہی غیر میں نہیں پایا جاتا تو  ان کا استعمال غیر اللہ کے لیے کسی حال  میں بھی جائز نہیں، مثلاً :”اللہ، الرحمن،القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق، الباری، المصور، الغفار، القھار، التواب، الوھاب، الخلاق، الرزاق، الفتاح،القیوم، الرب، المحیط، الملیک، الغفور، الاحد، الصمد، الحق، القادر، المحیی۔ البتہ غیر اللہ کے لیے یہ اسماء عبد کی اضافت کے ساتھ استعمال کیے جاسکتے ہیں، جیسے: عبد الرحمن، وغیرہ۔

لہذا “رحمن” نام رکھنا ہو  تو عبدیت کی اضافت کرنا ضروری ہے، مثلاً: عبد الرحمن، بغیر اضافت کے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے، اس لیے “رحمٰن حسین” نام رکھنا درست نہیں ہے۔

بہتر یہ ہے کہ  انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام  یا نیک مسلمان مردوں کے ناموں پر نام  پر رکھے جائیں یا ایسا نام رکھیں جس کے معنی اچھے ہوں۔

تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل (1/ 27):
“ولأنه صار كالعلم من حيث إنه لا يوصف به غيره؛ لأن معناه المنعم الحقيقي البالغ في الرحمة غايتها، وذلك لا يصدق على غيره؛ لأن من عداه فهو مستعيض بلطفه وإنعامه يريد به جزيل ثواب أو جميل ثناء أو مزيج رقة الجنسية أو حب المال عن القلب”.فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144003200461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں