92

قتلِ خطا کی دیت کیا  ہے؟

سوال
قتلِ خطا کی دیت کیا  ہے؟  ایک بچی اپنے ماں باپ کے بیچ میں سو رہی تھی، اس دوران صبح کے وقت بچی دم توڑ چکی تھی، اب یہ پتا نہیں کہ بچی ماں کی وجہ سے مری ہے یا باپ کے نیچے آکر مری ہے؟تو دیت کس پر لازم ہوگی اور دیت کیا ہوگی؟

جواب
1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر والدین کو صرف  شک ہو  کہ بچہ ان کے نیچے دب کر مرا ہے، یقین نہ ہو مثلاً بچے کے جسم پر ظاہری کوئی اثر وغیرہ نہ ہو  تو شک کا اعتبار نہیں ہے،  اس کی طرف دھیان نہ  دیں۔

2۔ اگر بچے کے جسم پر کچھ نشان یا اثرات ہوں جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ بچہ کسی کے نیچے دب کر مرا ہے، لیکن تعیین نہ ہو رہی ہو تو غور و فکر کرکے دیکھا جائے کہ بچہ کس کے نیچے دب کر مرا ہوگا، اگردونوں میں سے کسی کو  یقین یا غالب گمان ہو کہ بچہ اس کے نیچے دب کر فوت ہوا ہےتو یہ صورت “قتل جاری مجری خطا”  کی ہے، اس کاحکم یہ ہے کہ جس کے نیچے دب کر مرا ہے اس  پرکفارہ اور دیت دونوں لازم ہیں، البتہ  اگر بچےکے وارثین  دیت معاف کردیں تو دیت ساقط ہوجائے گی ۔

قتل جاری مجری خطا  کی دیت سو اونٹ یا ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم (جس کا اندازہ جدید پیمانے سے 30.618 کلوگرام چاندی) یا اس کے برابر قیمت ہے۔ اور دیت میں حاصل شدہ مال مقتول کے ورثہ میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہو گا، جو وارث اپنا حصہ معاف کردے گا، اس قدر معاف ہو جائے گا اوراگر سب نے معاف کر دیا تو سب معاف ہو جائے گا۔

نیز   کفارے میں مسلسل ساٹھ روزے رکھنا قاتل پر لازم ہو گا، کفارہ کے روزے میں اگرمرض کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سر نو رکھنے پڑیں گے، البتہ عورت  کے حیض کی وجہ سے تسلسل ختم نہیں ہو گا، یعنی اگر کسی عورت سے قتل ہو گیااور وہ 60 روزے کفارہ میں رکھ رہی ہے تو60 روزے رکھنے کے دوران ماہ واری کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ ماہ واری سے فراغت کے بعد روزوں کو جاری رکھے گی۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلاَّ خَطَئًا وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَن يَصَّدَّقُواْ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰه وَكَانَ اللّٰه عَلِيمًا حَكِيمًا} [سورة النساء، آیت:92]

“الیقین لایزول بالشک، وفيها قواعد … الثالثة: من شک هل فعل أو لا؟ فالأصل عدمه”. (الأشباه والنظائر في الفقه الحنفي، الفن الأول، النوع الأول: القاعدة الثالثة، ص:12، ط:قدیمی کتب خانه)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں