98

زندہ پیدا ہوکر مرنے والے بچے کو بغیر غسل کے دفنادینے کا حکم

سوال
بچہ پیدا ہوا توسانس لے رہا تھا، پھر مر گیا، کپڑے میں لپیٹ کر بغیر جنازہ دفنا دیا، اب کیا حکم ہے؟

جواب
بچے کے پیدا ہونے کے بعد اس میں زندگی کے آثار تھے یعنی وہ سانس وغیرہ لے رہا تھا تو  اس کو بھی سنت طریقہ کے مطابق غسل دینا اور کفن دینا ضروری تھا، اگر جانتے ہوئے اسے بغیر غسل کے دفنا دیا تو ایسا کرنے والے گناہ گار ہوں گے، اور ایسی صورت میں جب تک اس میت کے قبر میں گلنے اور پھٹنے کا گمان نہ ہو اس  کی قبر پر جنازہ کی نماز پڑھی جائے۔

اور میت کے پھٹنے اور گلنے کے بارے میں بعض علماء نے تین دن کی تحدید کی ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ اس کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے، بلکہ جب تک میت کے پھٹنے اور گلنے کا گمان نہ ہواس وقت تک جنازہ کی نماز پڑھنا فرض ہے، اور یہ گمان ہو کہ میت اب گل ، سڑ گئی  ہوگی تو پھر اس کی قبر پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی جائے گی۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 591)
“وإن دفن” وأهيل عليه التراب “بلا صلاة” لأمر اقتضى ذلك “صلى على قبره وإن لم يغسل” لسقوط  شرط طهارته لحرمة نبشه ۔۔۔  “ما لم يتفسخ” والمعتبر فيه أكبر الرأي على الصحيح لاختلافه باختلاف الزمان والمكان والإنسان”۔فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143909200570
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں